آئی ایم ایف پاکستانی معیشت کیلئے نجات دہندہ کیسے بن گیا؟

عالمی سطح پر انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ یعنی آئی ایم ایف کو بالکل بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے کیونکہ عام رائے یہی ہے کہ آئی ایم ایف غربت، افلاس اور بدحالی کو بڑھانے میں کردار ادا کرتا ہے، لیکن حیران کن طور پر اس ادارے کو پاکستان کیلئے نجات دہندہ قرار دیا جا رہا ہے۔ہمارے حکمران ایک سال سے معطل آئی ایم ایف معاہدے کو ایک بار پھر شروع کرنا چاہتے ہیں، ’آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے‘، کچھ ماہرِ اقتصادیات ہمیں متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ہم آئی ایم ایف کی سخت شرائط مان لیں گے تو ہمارے موجودہ افراطِ زر کی شرح جو اس وقت 25 فیصد پر ہے وہ 35 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جس کے بعد ڈالر جو گزشتہ مہینوں میں 200 روپے سے زائد کا ہونے پر بدنام تھا، اگر آئی ایم ایف کے مطالبات مان لیے تو ڈالر 300 کی حد بھی پار کرلے گا۔

بجلی اور گیس اگر عوام کے لیے دستیاب ہوگی تو اس کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوگا۔ پیٹرول سمیت ان تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جن پر ہماری معیشت منحصر ہے۔ درآمدات بھی کافی حد تک مہنگی ہوجائیں گی جس کے بغیر ہماری اشرافیہ ادھوری ہے۔اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ہم یہ بتادیتے ہیں کہ گزشتہ 6 ماہ سے ڈالرز کی عدم دستیابی کے باعث ہم معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود 2,200 لگژری گاڑیاں پاکستان میں درآمد کی گئی ہیں پھر یہی تجزیہ کار اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہم آئی ایم ایف کی سخت شرائط تسلیم کرلیتے ہیں تو صورتحال صرف بدتر ہوگی لیکن اگر ہم ان شرائط کو نہیں مانتے تو ہم ممکنہ طور پر ڈیفالٹ ہوجائیں گے۔

اسی طرح ہمیں افراطِ زر کی 35 فیصد اور 70 فیصد شرح میں سے بھی کسی ایک کو چننا ہے، پاکستان اگر آئی ایم ایف کی اس کڑوی گولی کو نگلنے سے انکار کرتا ہے تو اس کا مستقبل بھی سری لنکا سے کچھ مختلف نہیں ہوگا، پاکستان کی حکمران اشرافیہ جس میں ملٹری اور سویلین دونوں موجود ہیں، ان کے لیے ہمیشہ آئی ایم ایف واحد حل ہوتا ہے۔البتہ ہماری حکمران اشرافیہ اپنی لوٹ مار کے ذریعے ہمارے ملک کو ڈیفالٹ اور معاشی تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں، جب ڈوبتی معیشت کو بچانا ان کے اختیار میں نہیں رہتا تب اشرافیہ مدد کے لیے آئی ایم ایف کی جانب دیکھنے لگتی ہے۔

آئی ایم ایف کبھی بھی معیشت پر خود قبضہ نہیں کرتا بلکہ ہماری اشرافیہ اس کی شرائط کے آگے ہتھیار ڈال کر اسے اپنی معیشت پر قبضہ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اور پھر وہ اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ہر معاشرے اور ملک میں، غیر مساوی سماجی، اقتصادی اور سیاسی ادارے اور گروہ موجود ہوتے ہیں، جو تمام سیاسی، معاشی یا سماجی عمل سے مختلف سطح پر ان اقدامات سے مختلف انداز میں متاثر ہوتے ہیں۔

ہر کسی کو ہی مہنگائی کا سامنا ہے خواہ وہ 35 فیصد ہو یا 70 فیصد، لیکن وہ طبقہ جو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اس کے اوپر مہنگائی کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے جبکہ ان حالات میں اشرافیہ بھی کچھ عرصے کے لیے کفایت شعاری کر کے ’ایڈجسٹمنٹ‘ کرلے گی لیکن معیشت کو بچانے کے بعد اس سے مستفید بھی سب سے زیادہ یہی لوگ ہوں گے۔ایڈجسٹمنٹ کے تحت ہونے والے معاہدوں سے صرف سرمائے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے لوگ مستفید ہوتے ہیں، طبقات، جنس اور علاقائی بنیادوں پر توانائی یا سرمائے کی تقسیم جیسی ساختی اصلاحات کبھی بھی ہمارے ایڈجسٹمنٹ پروگرام کا حصہ نہیں رہیں لہٰذا آئی ایم ایف یہاں ’ہمیں‘ یا ’ہمارے‘ ملک کے لیے نہیں بلکہ ’کچھ افراد‘ اور ’ان کے ملک‘ کے لیے نجات دہندہ ہے۔

Back to top button