آصف زرداری نے سندھ کا محاذ سنبھالنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

عام انتخابات کے نزدیک آتے ہی جہاں سیاسی درجۂ حرارت میں اضافہ ہونے لگا ہے وہیں ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں جوڑ توڑ میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور جے یو آئی کے اتحاد کی خبریں سامنے آنے کے بعد سابق صدر آصف زرداری بھی سندھ میں اپنا اقتدار مزید محفوظ بنانے کیلئے متحرک ہو گئے ہیں اور انھوں نے اپنے سیاسی پتے شو کرنا شروع کر دئیے ہیں

صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی اپنے خلاف بننے والے سیاسی اتحاد کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں سابق صدر آصف علی زرداری کا سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کے بعد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے اراکین اسمبلی سمیت مسلم لیگ ن سندھ کے کئی اہم رہنما بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ جس سے پیپلزپارٹی مخالف اتحاد کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے

سندھ میں شدت پکڑتی پیپلز پارٹی مخالف تحریک کے پیش نظر سابق صدر آصف علی زرداری نے سندھ کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے پہلے مرحلے میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے مضبوط امیدوار علی گوہر خان مہر سے کامیاب ملاقات کی۔ سابق صدر سے ملاقات کے بعد علی گوہر خان مہر نے باقاعدہ طور پر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی غوث بخش مہر نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے کمزور ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف جی ڈی اے کے اراکین کو ہی اپنی جانب متوجہ نہیں کیا بلکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے اہم رہنما بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔سندھ میں حال ہی میں تنظیم سازی مہم چلانے والی مسلم لیگ ن بھی پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی کا شکار ہوئی ہے۔پی ایم ایل ن سندھ کے نائب صدر جاوید ارسلان نے اپنی پارٹی کو خیرباد کہتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

 سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر توصیف احمد کو سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف مضبوط اتحاد بنتا ضرور نظر آرہا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں بااثر سیاسی شخصیات کو اپنے ساتھ ملالیا ہے۔‘ان کے مطابق ’اس سے اندرون سندھ میں پیپلز پارٹی کی صورت حال ایک بار پھر مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم جب تک الیکشن شیڈول کا اعلان نہیں ہوجاتا کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔‘

واضح رہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کیلئے متحدہ قومی موومنٹ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور جمیعت علمائے اسلام ف کی جانب سے اتحادی حکومت کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ بعد ازاں ملک کے بڑے سیاست دانوں کی متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ملاقات میں جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو شامل نہ کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے سندھ کا ہنگامی دورہ کیا تھا اور پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد سندھ میں جے یو آئی آئی ف مسلسل پیپلز پارٹی مخالف اتحاد بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔  تینوں جماعتوں کے رہنماوں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں اور رواں ماہ کے آغاز پر تینوں جماعتوں میں آئندہ انتخابات میں مشترکہ لائے عمل بناتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وہ ’سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف سوچ رکھنے والی جماعتوں کو ایک پلٹ فارم پر جمع کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ سندھ میں کئی برسوں سے حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی سے عوام کی جان چھڑوائی جائے۔‘  ’سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں بسنے والی عوام پیپلز پارٹی کی نااہلی کا شکار ہو رہی ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’ایم کیو ایم پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور جے یو آئی سندھ میں آئندہ انتخابات میں ایک بڑی قوت کے طور پر نظر آئیں گی۔‘

خیل رہے کہ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر دور میں اتحاد بنتے رہے ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کی سرگرمیاں تیز ہونے پر پیپلز پارٹی نے بھی روٹھوں کو منانے اور سندھ کی بااثر شخصیات کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔

سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف کئی اتحاد بن چکے ہیں، عوام نے پیپلز پارٹی مخالف قوتوں کو ہمیشہ ووٹ کے ذریعے جواب دیا ہے اور اس بار بھی عام انتخابات میں عوام انہیں جواب دیں گے۔‘

Back to top button