جنرل باجوہ کے سمدھی صابر مٹھو کو 4 دن میں کلین چٹ کیسے ملی؟

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے 4 دن بعد ہی سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کے سمدھی صابر حمید عرف مٹھو کو منی لانڈرنگ اور مشکوک لین دین کے الزامات سے بری کرتے ہوئے کلین چٹ دے دی۔ایف آئی اے نے مشکوک لین دین کے الزامات پر صابرمٹھو کیخلاف انکوائری شروع ہونے سے پہلے ہی بند کردی۔ایف آئی اے حکام کے مطابق لاہور کی مشہورو معروف کاروباری شخصیت صابر حمید مٹھو کیخلاف گہرائی میں جا کر انکوائری کی اور اُن پر مخالفین کے عائد کردہ الزامات کے کوئی شواہد نہ ملنے پر انکوائری بند کر دی گئی۔
ایف آئی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ پیشہ ور ماہرین کی ٹیم نے صابر مٹھو کی ٹیکس‘ پراپرٹی ودیگر دستاویزات کو درست تسلیم کیا‘ جس کے بعد انھیں کلیئرنس لیٹر جاری کردیا گیا، ایف آئی اے ذرائع کے مطابق صابر حمید مٹھو ہر پیشی پر ایف آئی اے کے تجربہ کار تفتیش کنندگان کے روبرو پیش ہوتے رہے اور اُن سے جو جو دستاویزات تفتیشی ٹیم نے مانگیں وہ اُنہوں نے فراہم کیں حتیٰ کہ مالی سال 2022ء تک کے ٹیکس گوشواروں کی دستاویزات بھی ایف آئی اے کے طلب کرنے پر فراہم کر دیں۔ صابر حمید مٹھو نے اپنے بینکوں کے تمام گوشوارے بھی پیش کئے۔ ملک سے اندر اور ملک سے باہر اپنی املاک کی دستاویزات ایف آئی اے انکوائری ٹیم کو دیں۔ ان تمام دستاویزات کی ایف آئی اے کے ماہر تفتیش کنندگان نے تفصیلی چیکنگ کی‘ ہر طرح سے سکروٹنی کی جس کے بعد اُن کو کلیئر کر دیا گیا۔ ایف آئی اے نے صابر حمید مٹھو کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا ہے۔ صابر مٹھو کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے عزیز صابر حمید مٹھو کو 23اکتوبر کو ایف آئی اے نے پہلی بار طلب کیا۔ ایف آئی اے نے صابر حمید مٹھو سے اُنکے غیرملکی دوروں‘ اندرون و بیرون ملک جائیدادوں‘ گاڑیوں کی تفصیلات‘ آف شور کمپنیوں کا ریکارڈ بھی مانگا تھا جو سب صابر حمید مٹھو نے تفتیش کنندگان کو پیش کر دیا۔اس ٹیم نے ہر دستاویز کی تفصیلی جانچ پڑتال کی اورصابر مٹھوکو جملہ الزامات سے بری کردیا۔
خیال رہے کہ 20اکتوبر کوایف آئی اے نے لاہور کے تاجر اور ایک اعلیٰ عہدیدار کے سمدھی صابر حمید عرف صابر مٹھو کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں تفیش کے لیے طلب کیا تھا۔
اکاؤنٹس میں مشکوک اور بڑے پیمانے پر ہونے والی ٹرانزیکشن پر ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ نے صابر حمید مٹھو کو 23 اکتوبر کو ایجنسی کے سامے پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔نوٹس میں صابر حمید مٹھو سے کہا گیا تھا کہ’یہ نوٹس ادارے کی جانب سے آپ کے خلاف بینک اکاؤنٹ میں کاروباری حوالے سے ظاہر کردہ تفصیلات کے برعکس زیادہ مقدار میں مشکوک لین دین کی مجرمانہ تفتیش سے متعلق ہے’۔نوٹس کے مطابق’ایجنسی کے پاس دستیاب ریکارڈ کی جانچ کے دورانصابر حمید کے 19 اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا تھا جن میں 14 پاکستانی اور 5 فارن اکاؤنٹس شامل ہیں۔صابر حمید کے 19 اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 5.14 بلین کی ٹرانزیکشن سامنے آئی ہے۔
ایف آئی اے سرکل نے صابر مٹھو کو ہدایت کی تھی کہ وہ’تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنی پوزیشن واضحح کریں، ایف بی آر ریٹرنز کا ریکارڈ پیش کریں اور ساتھ ہی2016 سے 2023 تک اپنے نجی اور کاروباری ڈیکلیریشنز، آپ کی یا آپ کے گھر والوں کے غیر ملکی سفر اور سفر کی وجوہات، ان ممالک کی فہرست، تمام آف شور، شیل کمپنیوں کی فہرست، تمام کاروباری گاڑیاں، جو آپ کے اور آپ کے گھر والوں کی ملکیت میں ہیں’۔ اس کا ریکارڈ ہمراہ لائیںنوٹس میں کہا گیا کہ ’ان ملکوں کی فہرست کا ریکارڈ پیش کریں جن کے دائرہ اختیار میں یہ گاڑیاں رکھی گئی ہیں، براہ راست یا بالواسطہ آف شور یا شیل کمپنی کے ذریعے حاصل کیے گئے غیر ملکی اثاثوں جائیداد، اکاؤنٹس، سرمایہ کاری اور کاروباری گاڑیوں کی فہرست، جو آپ، آپ کی بیوی یا خاندان والوں کی ملکیت میں ہیں، ان کا ریکارڈ بھی پیش کریں۔ایف آئی اے نے صابر مٹھو سے یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ تمام ملکی، غیر ملکی اثاثہ جات جائیداد، سرمایہ کاری، اکاؤنٹ کی فہرست جو آپ یا آپ کے خاندان کے نام نہیں مگر ان میں آپ یا آپ کے خاندان کے منافع بخش کاروبار شامل ہے، پاکستان کے اندر آپ کی جانب سے یا آپ کے نام پر خریدی گئی غیر ملکی کرنسی، آپ یا آپ کے گھر والوں کی جانب سے غیر ملکی کرنسی جو بیرون ملک لے جائے گئی ہو، چاہے اس کا اعلان ہوائی اڈے پر ہوا ہو یا نہ ہو، کی تفصیلات پیش کریں‘۔کال اپ نوٹس میں پیش نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی تنبیہ کی گئی تھی۔
تاہم اب ایف آئی اے نے صابر حمید مٹھو کو 4 دن بعد ہی نہ صرف تمام الزامات سے بری کر دیا ہے بلکہ مجاز اتھارٹی کی منظوری سے کلئیرنس سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا ہے۔
