اٹارنی جنرل کی چھٹی حکومت اوراسٹیبلشمنٹ اختلافات کا شاخسانہ

جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی برخاستگی کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں بڑھتے ہوئے اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے سنیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے حکومتی پالیسی کے برعکس سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں بہت ہی غیر ذمہ دارانہ ریمارکس دئیے جس سے پوری عدلیہ کے ناراض ہونے کا خدشہ تھا چنانچہ وزیراعظم عمران خان نے سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر قانون کے ذریعے ان سے 20 فروری کی سہ پہر تین بجے تک استعفیٰ طلب کیا۔ بصورت دیگر انہیں عہدے سے ہٹانے کی وارننگ بھی دی گئی تھی چنانچہ انور منصور خان کے پاس استعفے دینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تصور کیے جانے والے کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کو فارغ کرکے عدلیہ کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں اور معزز جج صاحبان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے۔ یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے جج حضرات پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس کیس میں اپنے ساتھی جج کی سائیڈ پر ہیں اور پس پردہ ان کی مدد کرتے ہیں۔
کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے صدر مملکت کو بھجوائے گئے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ ان سے وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل نے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا اس لئے وہ وکلاء کمیونٹی کے مطالبے کو مانتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ ماضی میں پاکستان بار کونسل نے صرف انور منصور ہی نہیں بلکہ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم سے بھی مستعفی ہونے کا کہا تھا تاہم وہ مستعفی نہیں ہوئے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ انور منصور خان کے استعفے کی وجہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی میں اپنا وزن عدلیہ کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کپتان نے اسٹیبلشمنٹ کے ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی چھٹی کروا دی ہے تاکہ حکومت مستقبل میں عدلیہ کی جانب مزاحمت سے محفوظ رہے۔
یاد رہے کہ دو روز قبل 18 فروری کے روز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان اور دس رکنی بینچ میں بحث و مباحثہ ہوا جس دوران کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان نے ججز پر الزام لگایا کہ انہوں نے اپنے ساتھی جج قاضی فائز عیسیٰ کو بچانے کے لیے ان کی پٹیشن کی تیاری میں مدد کی ہے۔ جس پر ججز صاحبان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے مطالبہ کیا کہ یا تو اپنا دعویٰ سچ ثابت کرنے کے لئے ثبوت پیش کریں ورنہ تحریری معافی مانگیں۔
قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ انور منصور خان نے ججز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف داری کا الزام لگا کر انہیں دفاعی پوزیشن پر لانے کی بھونڈی کوشش کی تاہم ججز حضرات نے انور منصور خان کے بے سروپا الزامات پر سیخ پا ہونے یا صفائیاں دینے کی بجائے ان سے شواہد اور معافی مانگنے کا مطالبہ کرکے انہیں بند گلی میں دھکیل دیا تھا۔
واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ جسٹس فائز عیسیٰ کو پسند نہیں کرتی چنانچہ ان کے خلاف پچھلے برس سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا تھا جس کو انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ جسٹس عیسیٰ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثوں میں اپنے بیوی بچوں کی جائیدادیں نہیں دکھائیں تھیں۔ صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسی کی درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کا ایک دس رکنی بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی جسٹس عمر عطاء بندیال کر رہے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور کوشش ہے کہ انہیں بدعنوان ثابت کرکے فارغ کروا دیا جائے تاکہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان نہ بن سکیں۔
قانونی حلقوں کے خیال میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کی منشاء کے مطابق چلتے تھے تاہم ساتھی ججز کی مخالفت کی وجہ سے وہ انہیں فارغ نہ کرواسکے۔ اب وکلاء کمیونٹی بھی جسٹس فائز عیسی کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہوگئی ہے اور ان کے خلاف غلط کیس بنانے کی مذمت کر رہی ہے چونکہ ان کے خلاف بنایا گیا کیس بے بنیاد ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کو اٹارنی جنرل پاکستان کے عہدے سے ہٹانا ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اہم فیصلے کے ملکی سیاست پر دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ یاد رہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے آرمی چیف توسیع کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوکر حکومت کی نمائندگی کی تھی اور جنرل مشرف کے معاملے میں بھی انہوں نے ہی خصوصی عدالت کے جج جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی وزیراعظم عمران خان نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔
مستقبل قریب میں یہ دونوں کیس دوبارہ سپریم کورٹ میں لگنے والے ہیں۔
تحریک انصاف حکومت نے تو اپنا وزن عدلیہ کے پلڑے میں ڈال دیا ہے لیکن آنے والے دنوں میں اس معاملے کو لے کر نہ صرف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں محاذ آرائی بڑھے گی بلکہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے مابین بھی معاملات بگڑنے کا خدشہ ہے۔
