اپنے ہی ملک میں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہوں

ایک روز قبل لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گجرپورہ کے قریب گاڑی خراب ہونے پر مدد کی منتظر خاتون کومبینہ طور پر 2 ‘ڈاکوؤں’ کی جانب سے ‘گینگ ریپ’ کا نشانہ بنانے پر پورے ملک میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خاتون کو ‘ڈاکوؤں’ نے اس وقت ریپ کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی کار میں بچوں سمیت مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔ خاتون کی کار نامعلوم سبب کے باعث بند ہوگئی تھی اور انہوں نے گوجرانوالہ میں اپنے رشتے داروں کو بھی اطلاع دی تھی۔ تاہم مدد کرنے والے افراد سے قبل ہی 2 مسلح افراد نے خاتون کو اکیلا دیکھ کر اسےاسلحے کے زور پر بچوں سمیت قریبی کھیت میں لے گئے اور وہاں خاتون کا گینگ ریپ کیا۔ واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا اور سوشل میڈیا پر بھی حکومت سے ملزمان کو گرفتار کرکے انہیں سرعام پھانسی دیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی واقعے پر کئی اہم شخصیات نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا اور ایسی ہی شخصیات میں معروف اداکارہ عائشہ عمر بھی ہیں۔
And what if a woman needs to go out at night for an emergency. What if she or someone in her family needed medical help? I can walk on the streets at 1 am in other parts of the world and feel completely safe but just not in my own country, even inside a car. #motorwayincident
— Ayesha Omar (@ayesha_m_omar) September 10, 2020
عائشہ عمر نے اکیلی خاتون کا راستے میں گینگ ریپ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ ایسے واقعات کی وجہ سے اپنے ہی ملک میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ عائشہ عمر نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کسی خاتون کو ہنگامی حالت میں رات کو گھر سے نکلنا پڑے گا اور اس وقت کیا ہوگا جب کسی خاتون کو ایمرجنسی طبی امداد کی ضرورت ہوگی؟ اداکارہ نے مزید لکھا کہ وہ دنیا کے کسی بھی غیر ملک میں رات ایک بجے تنہا نکل کر سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بھی خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں مگر وہ اپنے ہی ملک کے اندر خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ عائشہ عمر نے لکھا کہ اگر وہ اپنے ہی ملک میں اپنی ہی کار میں موجود ہوں گی تو بھی وہ خود کو غیر محفوظ تصور کریں گی۔
ساتھ ہی اداکارہ نے موٹروے واقعے کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
خیال رہے کہ موٹروے پر مدد کی منتظر خاتون کے گینگ ریپ کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب کہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں کمسن بچی کو ریپ کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں خیبرپختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں بھی ایک خواجہ سرا کو قتل کردیا گیا تھا۔
موٹروے پر مدد کی منتظر خاتون کے گینگ اور کراچی میں بچی کے ریپ اور قتل کے واقعے کا وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیتے ہوئے حکام کو جلد سے جلد رپورٹ پیش کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دے رکھا ہے۔
تاہم دونوں واقعات کو 48 سے 24 گھنٹے کے وقت گزر جانے کے باوجود پولیس نے کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا تھا۔
