فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپوزیشن سے معاہدے کے لیے ایک ضامن کی تلاش


پاکستانی اپوزیشن قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں شدت آنے اور اسکا دباؤ محسوس کرنے کے بعد اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ حزب مخالف کی قیادت کے ساتھ اسکے تحفظات دور کرنے کے لیے مذاکرات کیسے اور کون کرے خصوصا جب اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی جماعت کا کوئی لیڈر کسی صورت کسی فوجی شخصیت سے ملاقات نہیں کرے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق بنیادی مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اپوزیشن کی قیادت بار بار کی وعدہ خلافیوں کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے کسی بھی نمائندے کی بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں اور آئندہ کے حوالے سے ضامن کا مطالبہ کرتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے برس جب اسٹیبلشمنٹ نے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو آرمی چیف کی مدت معیاد میں توسیع کی حمایت کے لئے آمادہ کیا تھا تو چند وعدے بھی کیے گئے تھے اور یقین دہانییاں بھی کروائی گئی تھیں جن پر بعد میں عمل درآمد نہ ہو سکا اور بجائے کے اپوزیشن کی قیادت کے لیے آسانیاں پیدا ہوتیں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا گیا۔ لہذا اب مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی خاطر ان کے ساتھ کوئی وعدہ کرتی ہے تو اس کا ضامن کون ہوگا۔ ذرائع کے مطابق اعتماد کے اس فقدان کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی قیادت اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ عمران خان کو برسر اقتدار لانے والی قوتیں اب بھی اسی کے ساتھ کھڑی ہیں اور اگر بھائی لوگ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اتنا ہے کہ حزب مخالف کی قیادت اپنا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ تبدیل کر دے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ تو حکومت کے ساتھ مل کے اپوزیشن کی قیادت کو دیوار کے ساتھ لگانے کا عمل جاری رکھے لیکن اپوزیشن والے اس عمل پر خاموش رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ظاہر ہے کہ جب اپوزیشن کے ساتھ زیادتی ہوگی تو وہ زیادتی کرنے والے کا نام بھی لیں گے۔
اس حوالے سے ڈان اخبار کے سابق ایڈیٹر اور تجزیہ نگار عباس ناصر کا کہنا ہے کہ کم از کم سیاستدان اس بات پر تو یکسو ہیں کہ ان کا مطالبہ کیا ہے اور وہ مذاکرات کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ آزاد اور شفاف انتخابات کروائے جائیں اور جمہوریت کی بنیاد یعنی سویلین بالادستی کے اصولوں کا احترام کیا جائے۔ یہ اصول عالمی طور پر تو تسلیم شدہ ہیں لیکن ہمارے ہاں ثبوت موجود ہیں کہ ہمارے طاقتور اداروں کی جانب سے اس اصول کی کتنی توہین کی جاتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مذاکرات ہوتے ہیں تو کیا اپوزیش قیادت خصوصا نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی کسی یقین دہانی کو کیوں کر تسلیم کریں گے؟ سوال بھی ہے کہ مستقبل قریب میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کی یقین دہانی مل بھی جائے تو اس کا ضامن کون ہو گا۔ عباس ناصر کے مطابق یہ وہ سوالات ہیں جو مذاکرات کی راہ میں ممکنہ رکاوٹوں کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہمیں حالات کہ موجودہ دلدل سے باہر آنا ہے تو ان سوالات کے جوابات فوری طور پر ڈھونڈنے ہوں گے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نواز شریف کو اس بات کی پوری معلومات ہیں کہ ان کا بیانیہ پنجاب میں مقبول ہو رہا ہے اور یہ بھی کہ اس بیانیے کی حمایت کرنے والے افراد پورے ملک کے عکاس ہیں۔ ان حمایتیوں میں ایک بڑا حصہ ایسے پُرجوش نوجوانوں پر مشتمل ہے جو اپنے قائد اور ان کے بیانیے کا ساتھ دینے کے لیے بہت پُرعزم ہیں۔ شاید جن لوگوں کے ذمے زمینی حقائق پر نظر رکھنا ہے ان کے سامنے بھی یہ حقیقت آچکی ہے۔ حال ہی میں اسٹیبلشمنٹ کے ایک اہم عہدے دار کی جانب سے ایک وسیع قومی مذاکرات کی ضرورت کو تسلیم کرنا اسی بات کا ایک اشارہ تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خیالات میں یہ تبدیلی زمینی حقائق میں آنے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے، اور زمینی حقائق تبدیل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ اور ان کی جارحانہ حکمتِ عملی ان کے حمایتیوں اور خاص طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے حمایتیوں میں مقبول ہورہی ہے۔ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے عزائم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، ناجانے ان کی حکمتِ عمل طویل مدت میں کیا رنگ لائے گی، تاہم قلیل مدت میں اس حکمتِ عملی کی وجہ سے حکومتی وزرا میں شدید اضطراب موجود ہے اور اس کا اظہار ان کے بیانات میں بھی ہوتا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ ملکی کی تباہ ہوتی ہوئی معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گیس، غذائی اشیا اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قلت بھی حکومت کی پشت پناہی کرنے والوں پر دباؤ ڈالے گی۔ اس وقت خارجہ محاذ بھی گرم ہے، ایک طرف امریکا میں نیا صدر منتخب ہوا ہے تو دوسری طرف مودی کے جارحانہ عزائم بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ہر طرف سے قومی مذاکرات کی بات ہورہی ہے لیکن اب بھی مستقبل کا کوئی تبدیل شدہ اور واضح منظرنامہ ہمارے سامنے نہیں آرہا اور نہ ہی ہمیں یہ بات معلوم ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈر اس تبدیل شدہ منظرنامے کو کس حد تک منظور کریں گے۔ اس بات کو تسلیم کرنا چاہیے کہ گزشتہ کچھ سالوں کے دوران شاہد خاقان عباسی وہ واحد سیاستدان تھے جنہوں نے ملکی سیاست کے تمام کرداروں کے ساتھ بات چیت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ موجودہ ترتیب کارگر ثابت نہیں ہورہی اور یہ بار بار ناکام ہوگی۔ شاہد خاقان عباسی سے بہت پہلے یہ بات بے نظیر بھٹو نے بھی کی تھی۔ انہوں نے بھی ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ سماجی معاہدے کی اس اصطلاح کو نواز شریف بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن اگر دونوں فریقین ایسے کسی معاہدے پر اتفاق کر بھی لیں تو بڑا مسئلہ پھر وہی ہے کہ اس کا ضامن کون ہوگا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس سارے معاملے میں خود ایک فریق ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button