اک زرداری ایک بار پھر سے سب پر بھاری کیسے ثابت ہوئے؟



ہر مشکل اور نازک صورتحال میں اپنے سیاسی حریفوں پر بھاری پڑ کر انہیں دنگ کر دینے والے آصف علی زرداری ایک مرتبہ پھر خود کو سیاست کا مستند جادوگر ثابت کرتے ہوئے پاکستانی تاریخ میں دوسری مرتبہ منتخب ہونے والے پہلے سویلین صدر بن گئے ہیں، انہیں یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ وہ دس برس کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ صدر پاکستان منتخب ہوئے ہیں۔ جھوٹے مقدمات میں گرفتار ہو کر استقامت اور وقار کے ساتھ 14 برس کی طویل قید کاٹ کر سرخرو ٹھہرنے والے مرد حر آصف علی زرداری کو سیاسی بساط کا بادشاہ کہہ لیں، یا سیاست کا مستند بازی گر، یہ طے ہے کہ انہوں نے بحیثیت سیاستدان جو مقام اور رتبہ حاصل کیا ہے وہ شاید ہی کسی اور پاکستانی سیاست دان کے حصے میں آیا ہو۔ اپنے والد حاکم علی زرداری کے برعکس آصف زرداری میدان سیاست کے کھلاڑی نہیں تھے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد وہ اپنی اہلیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گے۔ تب سے اب تک اپنی سیاسی دانش سے انہوں نے اپنے سیاسی حلیفوں کو ساتھ ملا کر جس طرح آمر مطلق جنرل مشرف اور اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار عمران خان کو چاروں شانے چِت کیا، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

‘ایک زرداری سب پر بھاری’ ثابت ہو جانے کے باوجود آصف زرداری مصر ہیں کہ اس نعرے کو تبدیل کیا جائے اور ‘ایک زرداری، سب سے یاری’ کے نعرے کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے بھاری اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لہٰذا مجھے یہ نعرہ لگا کر گنہگار نہ کیا جائے۔ تاہم آصف زرداری کے مداحین کا اصرار ہے کہ انہوں نے سیاسی دانش اور ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل دشمنوں کو مات دے کر خود کو اپنے ساتھی سیاست دانوں سے زیادہ برتر ثابت کیا ہے، انکے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اگر زرداری نہ ہوتے تو تحریک عدم اعتماد سے عمران خان کے اقتدار کا خاتمہ، شہباز شریف کا دوبارہ وزیراعظم بننا اور مریم نواز کا بطور وزیر اعلی پنجاب انتخاب، کسی بھی صورت ممکن نہ ہوتا۔ لہٰذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آصف زرداری نے سب سے یاری ڈال کر ایک مرتبہ پھر خود کو عمران خان اور اپنے دیگر سیاسی حریفوں سے بھاری ثابت کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری سے پہلے پاکستانی سیاست میں نواب زادہ نصر اللہ خان ایک ایسی شخصیت تھے جو مختلف جماعتوں کو جوڑ کر اتحاد بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہ مخالفین کو ساتھ ملانے کا فن ہی تھا جس کے بل بوتے پر نوابزادہ نصراللہ خان نے جنرل ایوب خان سے لیکر جنرل پرویز مشرف تک کے خلاف احتجاجی تحریکیں منظم کیں۔ نوابزادہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آصف زرداری انکی سیاسی روایات کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ وہ بھی سیاست میں توڑنے کی بجائے جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آصف علی زرداری کی اس صلاحیت کے پیچھے عملی سیاست کی تفہیم کا وہ درس ہے جو انہوں نے دہائیوں کے تجربات سے حاصل کیا گیا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی میں آصف زرداری نے جو وقت جیل کے باہر گزارا اس میں ان کا کردار پس منظر میں رہ کر حکمت عملی وضع کرنے کا تھا۔ بی بی کی شہادت کے بعد 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو آصف زرداری کی مشہور زمانہ مفاہمت کی سیاست کے جوہر اور بھی کھل کر سامنے آئے ۔ انہوں نے باوردی صدر پرویز مشرف کی چھٹی کروانے کے بعد سیاسی قوتوں کے ساتھ اشتراک اور تعاون کا راستہ اختیار کیا تاکہ جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکے۔ اصف زرداری نے جن سیاسی جماعتوں سے مفاہمت کی پالیسی اپنائی ان میں ایسی پارٹیز بھی شامل تھیں جن کے ساتھ ماضی میں پیپلز پارٹی کا بدترین سیاسی دشمنی کا طویل پس منظر موجود تھا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ایک روز چوہدری ظہور الٰہی کا خاندان پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار ہوگا۔ اسی طرح انہوں نے ولی خان کی عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی میں پائی جانے والی مخاصمت اور تلخیاں بھلا کر مفاہمت کا فلسفہ اپنایا۔ ان سب سے بڑھ کر مسلم لیگ ن بالخصوص شریف خاندان اور بھٹو فیملی کے درمیان سیاسی انتقام اور نفرت کے دو دہائیوں پر مشتمل سفر میں مفاہمت کا موڑ بھی زرداری کا کی مرہون منت تھا۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے مختلف ادوار حکومت میں اصف زرداری کو جھوٹے مقدمات میں لمبی جیلیں کاٹنا پڑیں۔ تاہم انہوں نے عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے نواز شریف کو راضی کیا۔ یوں پاکستانی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ آصف زرداری کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے کوئی اپوزیشن اتحاد پہلی مرتبہ ایک وزیر اعظم کو جمہوری طریقے سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہوا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس موو کی کامیابی میں دیگر عوامل کے ساتھ زرداری کی سیاسی مہارت اور ذہانت نے مرکزی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں شہباز شریف ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے۔

تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر آصف زرداری میں ایسی کون سی خوبیاں ہیں جو انھیں دیگر منجھے ہوئے سیاست دانوں سے منفرد بناتی ہیں؟ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس کا جواب بہت سادہ ہے، پہلی بات یہ کہ وہ جلد باز نہیں، انکی طبعیت میں ٹھہراؤ ہے، وہ دور اندیش اور معاملہ فہم ہیں، اور توڑنے کی بجائے جوڑنے پر یقین رکھتے ہیں، دوسرا یہ کہ زرداری سیاست میں مشاورت کے قائل ہیں، وہ خود اعتماد ہیں، اور برداشت کا وصف رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ یاروں کے یار ہیں اور کبھی اپنی بات سے پھرتے نہیں۔ لیکن اسکے باوجود ان کی زندگی پھولوں کی سیج نہیں بن پائی اور اس میں اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ جیسے 27 دسمبر 2007 کا وہ اداس دن۔۔جب ان کی شریک سفر اور بلاول، بختاور اور آصفہ کی ماں، عالمِ اسلام کی انتہائی دلیر اور قابل سیاستدان بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ بی بی کی اچانک شہادت نے آصف زرداری کو ہلا کر رکھ دیا تھا لیکن انھوں نے نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ بچوں کو بھی ماں اور باپ دونوں کا پیار دیا۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے پہلے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو بچایا، پھر پیپلز پارٹی کو سنبھالا اور بعد ازاں الیکشن 2008 جیت کر ایک ایسی حکومت قائم کی جس نے پہلی مرتبہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔ اس دوران ان کا سب سے بڑا کارنامہ اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ اور صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کرنا تھا۔ پھر انہوں نے کمال دانشمندی سے پیپلز پارٹی کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بی بی کے اکلوتے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر دی۔ چنانچہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سیاست کے جادوگر آصف زرداری نے سب سے یاری ڈال کر خود کو حریفوں پر بھاری ثابت کرنے کا اعزاز برقرار رکھا اور ایک مرتبہ پھر صدر پاکستان کے اہم ترین عہدے پر فائز ہو گئے ہیں۔

Back to top button