حکومتی عتاب کا شکار صدر علوی عمرانڈوز کے نشانے پر کیوں؟

عمران خان کی محبت میں خود کو سر بازار نیلام کرنے والے عمرانڈو صدر عارف علوی بالآخر ایوان صدر رخصت ہونے والے ہیں۔ اپنے طویل ترین دور صدارت میں بطور صدر سربراہ مملکت کی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے عمران خان کی تابعداری کرنے کے باوجود نہ صرف صدر علوی اپوزیشن کے نشانے پر رہے بلکہ وہ اب پی ٹی آئی حلقوں کے بھی ناپسندیدہ بن چکے ہیں۔ یعنی وہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔۔۔۔
دندان ساز صدر عارف علوی اپنی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد آج سبکدوش ہو جائیں گے۔ 5 سالہ آئینی مدت اور 6 ماہ نگراں حکومت کے ساتھ کام کرنے کے سبب انہوں نے سب سے زیادہ عرصہ ایوان صدر میں گزارا۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر اراکین اور رہنماؤں میں شمار ہونے والے ڈاکٹر عارف علوی اپنی جماعت اور مخالفین دونوں کی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔
تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا سب سے پہلا امتحان اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری کی منظوری دینا تھی۔اس اہم عہدے کی منظوری کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی عمران خان سے ملاقات کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور گئے اور اسی روز نئے آرمی چیف کی تقرری کا بھی اعلان کر دیا گیا۔
صدر مملکت نے اس دور میں اہم قانون سازی کے بے شمار اقدامات میں حکومت کے لیے مشکلات بھی کھڑی کیں تاہم وہ زیادہ دیر تک کسی بھی قانون سازی میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ سب سے زیادہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے قانون کی منظوری لی گئی اور صدر مملکت نے ٹویٹر پر اپنا بیان جاری کیا کہ انہوں نے اس قانون کی منظوری کے لیے سمری پر دستخط نہیں کیے۔
کئی روز یہ معاملہ زیر بحث رہا، صدر مملکت نے اس وقت اپنے ٹویٹ کے ذریعے ان لوگوں سے معافی بھی مانگی جو اس قانون کی زد میں آنے والے تھے تاہم انہوں نے اس قانون کو کسی بھی فورم پر نہ چیلنج کیا اور نہ ہی اس حوالے سے ان کا کوئی بیان سامنے آیا۔
9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے رہائی ملنے کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خان اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کی بھی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔
9 مئی واقعے کے بعد کئی اہم رہنماؤں نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا تو ڈاکٹر عارف علوی کے قریبی سمجھے جانے والے ساتھی اسد عمر کی پریس کانفرنس سننے کے بعد عمران خان نے صدر مملکت کو پیغام بھیجا اور شکوہ بھی کیا۔
تاہم ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ انہوں نے پارٹی عہدہ چھوڑا، پارٹی نہیں چھوڑی، جس پر عمران خان اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے درمیان رابطے بھی کافی عرصے تک منقطع رہے۔
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد بار بار صدر مملکت سے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی بجائے 90 روز کی مدت پوری ہونے کے آخری روز انتخابات کروانے کی تجویز الیکشن کمیشن کو دی۔
بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی انتخابات کی تاریخ دینے سے متعلق کیس کے فیصلے میں انتخابی تاریخ دینے کی ذمہ داری صدر مللکت پر عائد کی۔
نگراں دور حکومت میں کئی ایسی قانون سازیاں منظور کی گئیں جس سے پاکستان تحریک انصاف براہ راست نشانہ بنتی نظر آئی، تاہم ان اہم قانون سازی کی منظوری کے وقت صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی حج پر روانہ ہوئے اور قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے 5 سے زیادہ قوانین منظور کیے جس میں الیکشن ایکٹ میں تاحیات نااہلی کی مدت میں ترمیم، نیب آرڈینس جیسے قوانین شامل تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان اور شیر افضل مروت متعدد بار اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان صدر مملکت سے مایوس ہیں، کیونکہ ڈاکٹر عارف علوی اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے۔
