بائیکیا ڈرائیور نے پولیس کو پاک فضائیہ کے کیپٹن کے قاتل تک کیسے پہنچایا؟

اسلام آباد میں پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، مگر اس دل دہلا دینے والے واقعے کی تفتیش میں ایک ایسا غیر متوقع کردار سامنے آیا جس نے پولیس کو چند ہی گھنٹوں میں مرکزی ملزم تک پہنچنے میں فیصلہ کن مدد فراہم کی۔ بظاہر 300 روپے کرائے والی ایک عام بائیکیا سواری بعد ازاں اس کیس کا اہم ترین سراغ ثابت ہوئی، جس نے جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیج اور روایتی پولیسنگ کو جوڑتے ہوئے قاتل کی گرفتاری ممکن بنا دی۔

اتوار کی صبح اسلام آباد کی نائنتھ ایونیو پر سعد عباسی اور نمرہ نامی لڑکی کے درمیان تلخ کلامی جاری تھی۔ دونوں میلوڈی کے ایک کیش اینڈ کیری اسٹور میں ملازم تھے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق چند روز قبل ہی ان کے درمیان شناسائی ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق سعد عباسی گزشتہ چند دنوں سے لڑکی کو موٹرسائیکل پر دفتر لاتا اور لے جاتا تھا، تاہم واقعے کے روز دونوں کے درمیان کسی بات پر شدید جھگڑا شروع ہوگیا۔

اسی دوران پاکستان فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق اپنی سرکاری ذمہ داری کے سلسلے میں راولپنڈی جا رہے تھے۔ انہوں نے سڑک کنارے نوجوان کو لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرتے دیکھا تو گاڑی روک کر مداخلت کی۔ ابتدا میں نوجوان نے اسے ذاتی معاملہ قرار دیا، جس پر گروپ کیپٹن آگے بڑھ گئے، مگر جب انہوں نے ریئر ویو مرر میں دیکھا کہ لڑکی پر تشدد مزید بڑھ رہا ہے تو وہ دوبارہ واپس آئے تاکہ خاتون کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق نے نوجوان کو اسلحہ لہراتے بھی دیکھا اور اسے باز آنے کی کوشش کی۔ اسی دوران مشتعل ملزم نے فائرنگ کر دی، جس کی گولی سیدھی گروپ کیپٹن کے سینے میں لگی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ ملزم فوری طور پر موقع سے فرار ہو گیا اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے مسلسل حکمت عملی تبدیل کرتا رہا۔

واقعے کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے فرانزک شواہد اکٹھے کیے اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزم کا تعاقب شروع کیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ سعد عباسی غوری ٹاؤن پہنچا، جہاں اس نے اپنی موٹرسائیکل ایک گھر کے سامنے کھڑی کر کے اس پر کپڑا ڈال دیا۔ اس کے بعد اس نے بائیکیا سروس بک کی، راستے میں ایک مارکیٹ سے نیلی شرٹ خریدی تاکہ اپنی شناخت بدل سکے اور سبز رنگ کی پرانی شرٹ اتار دی۔ اسی دوران اس نے اپنا بیگ، جس میں مبینہ طور پر پستول بھی موجود تھی، ایک فارمیسی پر امانتاً رکھوا دیا۔

یہیں سے تفتیش نے نیا رخ اختیار کیا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اس بائیکیا رائیڈر کا سراغ لگایا جس نے ملزم کو مختلف مقامات تک پہنچایا تھا۔ بائیکیا ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ پہلے وہ ملزم کو غوری ٹاؤن مارکیٹ لے گیا، جہاں اس نے بیگ رکھا اور نئی شرٹ خریدی، پھر اسے اسکائی ویز بس ٹرمینل پہنچایا کیونکہ وہ لاہور جانا چاہتا تھا۔ اگرچہ ملزم نے کرایہ 300 روپے طے کیا تھا، لیکن منزل پر پہنچ کر صرف 250 روپے ادا کیے۔ ڈرائیور کے لیے یہ ایک عام سواری تھی، مگر پولیس کے لیے یہی معلومات انتہائی قیمتی ثابت ہوئیں۔

بائیکیا ڈرائیور کی نشاندہی پر پولیس اسکائی ویز بس ٹرمینل پہنچی، جہاں مسافروں کی فہرست سے سعد عباسی کا نام، شناختی کارڈ نمبر، موبائل نمبر اور سیٹ نمبر حاصل کر لیا گیا۔ انہی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کی نقل و حرکت، ڈیجیٹل ریکارڈ اور ممکنہ راستوں کا تعین کیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اگرچہ ملزم لاہور جانے والی بس میں سوار ہوا، لیکن وہ راستے میں بھیرہ کے مقام پر اتر گیا اور بعد میں کھنہ کے علاقے میں واپس آ گیا۔

پولیس کو شبہ تھا کہ ملزم اپنا بیگ لینے ضرور واپس آئے گا۔ چنانچہ فارمیسی کے اطراف پہلے ہی اہلکار تعینات کر دیے گئے۔ جیسے ہی ملزم اندھیرے میں اپنا بیگ لینے پہنچا، پولیس نے اسے موقع پر گرفتار کر لیا۔ اس طرح ایک منصوبہ بند کارروائی کے ذریعے قتل کے صرف نو گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم قانون کی گرفت میں آ گیا۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق اس پوری کارروائی میں جدید مصنوعی ذہانت، سیف سٹی کیمروں، نجی سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل سرویلنس، موبائل فون کے ریکارڈ اور روایتی پولیسنگ کو بیک وقت استعمال کیا گیا۔ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کے مطابق کیس کی حساسیت کے پیش نظر 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے 275 سیف سٹی اور 100 سے زائد نجی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا، جبکہ 137 فون کالز کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے واردات کے بعد اپنا موبائل فون بند کر دیا، سم نکال دی اور مختلف مقامات پر لباس تبدیل کر کے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی، مگر جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ایک عام بائیکیا ڈرائیور کی بروقت معلومات نے اس کی تمام منصوبہ بندی ناکام بنا دی۔

گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل جہاں ایک دلخراش سانحہ تھا، وہیں یہ کیس اس بات کی مثال بھی بن گیا کہ جدید تفتیشی نظام، سی سی ٹی وی نیٹ ورک، مصنوعی ذہانت اور عام شہریوں کا تعاون مل کر سنگین جرائم کی گتھیاں انتہائی کم وقت میں سلجھا سکتے ہیں۔ اس کیس میں بائیکیا ڈرائیور نے محض اپنا مشاہدہ اور معلومات پولیس کو فراہم کیں، لیکن یہی معمولی دکھائی دینے والی معلومات قاتل تک پہنچنے کا سب سے اہم ذریعہ ثابت ہوئیں۔

Back to top button