ایم کیو ایم کی وارننگ، کیا واقعی حکومتی اتحاد خطرے میں ہے؟

ملکی وفاقی سیاست میں ایک بار پھر اتحادی تعلقات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے اپنے 18 نکاتی مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں وفاقی حکومت کا ساتھ چھوڑنے، اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے اور وفاق و سندھ حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ تاہم سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت گرانے کی سنجیدہ کوشش کے بجائے دباؤ بڑھانے اور مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ارکانِ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کو "آخری وارننگ” دی کہ وہ کراچی آئیں، شہری مسائل کا جائزہ لیں اور جماعت کے 18 مطالبات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو نہ صرف حکومت سے علیحدگی اختیار کی جائے گی بلکہ احتجاجی تحریک کا باقاعدہ اعلان بھی کیا جائے گا، جس کی قیادت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کریں گے۔
واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے مطالبات بنیادی طور پر کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں سے متعلق ہیں، جن میں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی، مؤثر بلدیاتی نظام، بلدیاتی اداروں کو اختیارات کی منتقلی، شہری انفراسٹرکچر کی بہتری، وفاق اور صوبے میں مناسب نمائندگی اور بعض اہم سرکاری تقرریوں پر تحفظات شامل ہیں۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ ان معاملات پر حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے تحفظات پر متعدد بار مشاورت ہو چکی ہے، تاہم زیادہ تر مطالبات کا تعلق سندھ حکومت سے ہے، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے۔ چونکہ معاہدہ وفاقی حکومت کے ساتھ ہوا تھا، اس لیے ایم کیو ایم اپنی شکایات کا رخ اسلام آباد کی طرف رکھے ہوئے ہے، حالانکہ کئی معاملات پر فیصلہ صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں نہ حکومت ایم کیو ایم کو نظر انداز کر سکتی ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم کے لیے حکومت سے علیحدگی آسان فیصلہ ہے۔ قومی اسمبلی میں ایم کیو ایم کی 22 نشستیں حکومت کے لیے سیاسی اہمیت رکھتی ہیں، لیکن ان کے الگ ہونے سے فوری طور پر حکومت کے خاتمے کا امکان نہیں۔ البتہ اس سے حکومت پر سیاسی دباؤ ضرور بڑھے گا اور اپوزیشن کو تنقید کا ایک نیا موقع مل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتحادی سیاست میں اس نوعیت کی دھمکیاں اکثر بارگیننگ کا حصہ ہوتی ہیں۔ اتحادی جماعتیں اپنے ووٹرز کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ عوامی مسائل پر خاموش نہیں ہیں اور حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اسی لیے ایسے بیانات کو حکومت کے لیے فوری خطرہ قرار دینے کے بجائے مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے والی قیادت تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت جلد ہی ایم کیو ایم کی قیادت سے باضابطہ مذاکرات کرے گی، ان کے تحفظات سنے جائیں گے اور بعض مطالبات پر پیش رفت کے ذریعے اتحاد کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ہفتے ایم کیو ایم کے وفد اور حکومتی قیادت کے درمیان اہم ملاقات بھی متوقع ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جہاں تک سندھ کے گورنر کا عہدہ ایم کیو ایم کو دینے کے مطالبے کا تعلق ہے، اس بارے میں اطلاعات ہیں کہ یہ کسی تحریری معاہدے کا حصہ نہیں، تاہم سیاسی مفاہمت کے تحت اس معاملے پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔ حکومت ممکنہ طور پر ایسے اقدامات کرے گی جن سے اتحادی جماعت کے تحفظات میں کمی آئے اور سیاسی کشیدگی کم ہو سکے۔ مبصرین کے بقول مجموعی طور پر موجودہ صورتحال سے یہی تاثر ملتا ہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے حکومت چھوڑنے کا اعلان فوری عملی اقدام کے بجائے سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت بھی اتحاد کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے، کیونکہ موجودہ سیاسی حالات میں اتحادیوں کے ساتھ مضبوط تعلقات حکومت کے استحکام کے لیے ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آنے والے دنوں میں محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات، یقین دہانیوں اور محدود سیاسی رعایتوں کے ذریعے معاملہ حل ہونے کے امکانات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔
