اگر مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور ہوئے تو ذمہ دار پی ڈی ایم ہوگی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس کے کیسز موجودہ شرح سے بڑھتے رہے تو ہم مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور ہوجائیں گے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر عائد ہوگی۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن این آر او حاصل کرنے کی تڑپ میں عوام کی زندگیاں اور معاش تباہ کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں میں واضح کردوں کہ وہ 10 لاکھ جلسے بھی کرلیں لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں لاک ڈاؤن جیسا اقدام نہیں کرنا چاہتا کہ جس کے نتیجے میں ہماری معیشت کو نقصان پہنچنا شروع ہوجائے کہ جو اس وقت تیزی سے ریکوری ظاہر کررہی ہے۔ ‘ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن کا واحد مقصد این آر او ہے چاہے اس سے لوگوں کی زندگیوں اور ملک کی معیشت کا جو بھی نقصان ہو۔

ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کووِڈ 19 کی دوسری لہر کے اعدادو شمار تشویشناک ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں گزشتہ 15 روز کے دوران وینٹیلیٹرز کے استعمال میں اضافے کے اعداد و شمار بھی بتائے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں کووِڈ 19 مریضوں کے زیر استعمال وینٹیلیٹرز کی تعداد میں 200 فیصد، ملتان میں 200 فیصد، کراچی میں 148 فیصد، لاہور میں 114 فیصد، اسلام آباد میں 65 فیصد اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملتان میں کووِڈ 19 کے وینٹیلیٹرز کی 70 فیصد گنجائش بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا کیسز کی تعداد میں دوسری مرتبہ اضافہ ہورہا ہے۔ خیال رہے اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم آج پشاور میں جلسہ عام کررہا ہے جبکہ 26 نومبر کو لاڑکانہ اور 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔پی ڈی ایم کے پشاور کے جلسے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت دینے سے انکار کے باوجود پنڈال سجایا گیا جس میں مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے خطابات متوقع ہیں۔حکومت خیبر پختونخوا نے کرونا کیسز بڑھنے کے پیش نظر پی ڈی ایم کو جلسہ ملتوی کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اتحاد کے رہنماؤں نے صوبائی وزرا پر مشتمل کمیٹی سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔ پیر کے روز اسلام آباد میں کووڈ 19 کی ملک میں صورت حال سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم نے رواں ہفتے ہونے والے جلسے کو منسوخ کردیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو تاکید کریں گے کہ وہ بھی جلسے کے انعقاد سے گریز کریں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے حکام کا حوالہ دے کر کہا کہ وہاں انتخابی مہم کے بعد کرونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم پی ڈی ایم نے حکومت کی اس تجویز کو مسترد کردیا تھا جس میں کرونا وائرس سے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر جلسے جلوس منسوخ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button