اگر مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور ہوئے تو ذمہ دار پی ڈی ایم ہوگی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس کے کیسز موجودہ شرح سے بڑھتے رہے تو ہم مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور ہوجائیں گے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر عائد ہوگی۔
سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن این آر او حاصل کرنے کی تڑپ میں عوام کی زندگیاں اور معاش تباہ کررہی ہے۔
Opposition is callously destroying people"s lives & livelihoods in their desperation to get an NRO. Let me make it clear: they can hold a million jalsas but will not get any NRO.
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 22, 2020
انہوں نے کہا کہ یہاں میں واضح کردوں کہ وہ 10 لاکھ جلسے بھی کرلیں لیکن انہیں این آر او نہیں ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں لاک ڈاؤن جیسا اقدام نہیں کرنا چاہتا کہ جس کے نتیجے میں ہماری معیشت کو نقصان پہنچنا شروع ہوجائے کہ جو اس وقت تیزی سے ریکوری ظاہر کررہی ہے۔ ‘ان کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اپوزیشن کا واحد مقصد این آر او ہے چاہے اس سے لوگوں کی زندگیوں اور ملک کی معیشت کا جو بھی نقصان ہو۔
Pakistan's second COVID 19 spike data is of concern: Increase in Covid patients on ventilators in last 15 days: Peshawar 200%, Multan 200%, Karachi 148%, Lahore 114%, Islamabad 65%. Multan & Isb Covid ventilators capacity utilisation 70%. Across the world there is a second spike
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) November 22, 2020
ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کووِڈ 19 کی دوسری لہر کے اعدادو شمار تشویشناک ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں گزشتہ 15 روز کے دوران وینٹیلیٹرز کے استعمال میں اضافے کے اعداد و شمار بھی بتائے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں کووِڈ 19 مریضوں کے زیر استعمال وینٹیلیٹرز کی تعداد میں 200 فیصد، ملتان میں 200 فیصد، کراچی میں 148 فیصد، لاہور میں 114 فیصد، اسلام آباد میں 65 فیصد اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملتان میں کووِڈ 19 کے وینٹیلیٹرز کی 70 فیصد گنجائش بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا کیسز کی تعداد میں دوسری مرتبہ اضافہ ہورہا ہے۔ خیال رہے اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم آج پشاور میں جلسہ عام کررہا ہے جبکہ 26 نومبر کو لاڑکانہ اور 30 نومبر کو ملتان میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا جاچکا ہے۔پی ڈی ایم کے پشاور کے جلسے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت دینے سے انکار کے باوجود پنڈال سجایا گیا جس میں مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے خطابات متوقع ہیں۔حکومت خیبر پختونخوا نے کرونا کیسز بڑھنے کے پیش نظر پی ڈی ایم کو جلسہ ملتوی کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اتحاد کے رہنماؤں نے صوبائی وزرا پر مشتمل کمیٹی سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔ پیر کے روز اسلام آباد میں کووڈ 19 کی ملک میں صورت حال سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم نے رواں ہفتے ہونے والے جلسے کو منسوخ کردیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو تاکید کریں گے کہ وہ بھی جلسے کے انعقاد سے گریز کریں۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے حکام کا حوالہ دے کر کہا کہ وہاں انتخابی مہم کے بعد کرونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم پی ڈی ایم نے حکومت کی اس تجویز کو مسترد کردیا تھا جس میں کرونا وائرس سے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر جلسے جلوس منسوخ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
