ایئر چیف کیلئے ریڈ کارپٹ: PAF کا جھوٹ پکڑا گیا


پاکستان ائیرفورس کے سربراہ ائیر مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی جانب سے اپنے آبائی گاؤں میں فاتحہ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر میں دورے اور ریڈ کارہٹ پروٹوکول پر عوامی تنقید کے بعد پاک فضائیہ کے ترجمان کا مضحکہ خیز وضاحتی بیان بھی سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گیا ہے اور اسے سفید جھوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ فضائیہ کے ترجمان نے دعوی کیا تھا کہ سدھو صاحب کے لیے سرخ قالین گجرات کے اہل علاقہ نے خود اظہار محبت کے لیے ان کے اعزاز میں بچھایا تھا، لہذا اس پر تنقید بے جا ہے۔ تاہم اسی وضاحت میں ترجمان نے یہ دعوی بھی کیا کہ ایئر چیف کا گجرات کا دورہ ذاتی نوعیت کا نہیں بلکہ آپریشنل ایریا کا دورہ تھا جس کے دوران وہ اچانک فاتحہ خوانی کے لئے اپنے گاؤں اتر گے تھے۔ لہذا سوشل میڈیا صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ اس اچانک دورے کی گاؤں کے لوگوں کو خبر کیسے ہوئی جو بقول فضائیہ ترجمان کے سرخ قالین لے کر اظہار محبت کے لیے پہنچ گئے۔
پاک فضائیہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایئر چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا اپنے آبائی علاقے کا پہلا دورہ تھا جس کے لیے سکیورٹی اور ٹرانسپورٹ کا انتظام ایئرچیف کے عہدے کے لیے مختص پروٹوکول کے مطابق کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل متعدد ویڈیوز میں موجودہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا ہیلی کاپٹر ایک دیہاتی علاقے میں لینڈ کرتا نظر آتا ہے جسکے بعد تین کالی لینڈ کروزر گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ جاتی ہیں۔ پھر ہیلی کاپٹر سے لیکر گاڑیوں تک ائیر چیف کے استقبال کے لیے سرخ قالین بچھایا جا رہا ہے جس پر چلتے ہوئے سدھو صاحب ہیلی کاپٹر سے ایک لینڈ کروزر میں بیٹھ جاتے ہیں۔
دراصل ہیلی کاپٹر گجرات کی تحصیل کھاریاں کی حدود میں سدھو نامی گاؤں میں اترا تھا جو ائیر چیف کا آبائی علاقہ ہے اور ان کے دورے کا مقصد اپنے والد کی قبر پر حاضری دینا تھا۔ تاہم سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ انہیں ایسا کرنے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا خیال کیوں کر آیا۔ یاد رہے کہ ظہیر احمد بابر مارچ 2021 میں نئے ایئر چیف مقرر ہوئے تھا۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا یے کہ ظہیر بابر ایک سیکیورٹی اہلکار سے کچھ کہتے ہوئے ویڈیو بنانے والے شخص کی جانب اشارہ کرتے ہیں جس کے بعد وہ اہلکار ویڈیو بنانے والے سے ایسا نہ کرنے کا کہتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر مسلسل شیئر کیا جا رہا ہے اور لوگ ایئر چیف کے بے جا پروٹوکول لینے اور ریڈ کارپٹ استقبال کرنے پر تنقید کر رہے ہیں۔
تاہم تین روز کے توقف کے بعد پاکستان ائیر فورس کے ترجمان نے اس معاملے پر جو وضاحتی بیان جاری کیا ہے وہ ایک لطیفے سے کم نہیں اور سوشل میڈیا پر مذاق کا نشانہ بن گیا ہے۔ ریڈ کارپٹ کا انتظام گاؤں والوں کے کھاتے میں ڈالنے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صحافی وسیم عباسی نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا: ’اچھا، حیرت ہے گاؤں والے اگر سدھو صاحب سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ان کے لیے شہر سے قالین لے آئے تو پھر وہ خود ان کے استقبال کے لیے کیوں نہیں آئے؟‘ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے گاؤں کے کھیتوں میں لینڈ کیا ہے اور قالین بچھانے والوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ دور دور تک کوئی شخص نظر نہیں آ رہا۔ ایئر فورس کے وضاحتی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف خورشید ملک نے لکھا کہ کم از کم ایک قومی ادارے کے ترجمان کو تو سفید جھوٹ نہیں بولنا چاہیے
ایک اور ٹوئٹر صارف شیراز احمد نے لکھا: ’سوال یہ ہے کہ اتنے مختصر نوٹس پر گجرات کے دور دراز گاؤں کے باسیوں نے اتنا لمبا سرخ قالین کیسے دستیاب کرلیا۔ اس نے لکھا کہ فضائیہ کے ترجمان کے مطابق یہ ان کا آپریشنل دورہ تھا جس کے دوران وہ گاؤں میں اچانک رکے۔ اگر ایسا ہی یے تو گاؤں والوں کو کیسے پتہ چل گیا کہ آج اچانک اتنے بجے سدھو صاحب کس کھیت میں پدھاریں گے؟ اس معاملے پر پروفیسر طاہر نعیم ملک نے لکھا: ’1965 کی جنگ کے ہیرو ایئر مارشل نور خان کا گاؤں تلہ گنگ میرے گاؤں کے قریب واقع ہے۔ ہر سال عید پر بھی گاؤں آتے تو سادہ مزاج اور پروٹوکول کلچر کو ناپسند کرتے۔ وہ اپنی دھرتی ماں پر چلنا پسند کرتے تھے اور اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو سے پیار کرتے تھے۔ اور وہ آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں۔‘
دوسری جانب سینئر صحافی ابصار عالم نے اس حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اس ہیلی کاپٹر کے نیچے، لینڈ کروزرکے ٹائر کے نیچے، ریڈ کار پٹ کے نیچے اور ریڈ کارپٹ پر غرور سے چلنے والے بوٹوں کے نیچے کی مٹی میں اس کسان کی محنت کا پسینہ شامل ہے۔‘ تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے لکھا کہ ‘ہم زمیندار اور وڈیروں کو کیدے موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں جب ہماری اہنا پروفیشنل سروس چیف خود ایک وڈیرا بن جائے۔ ہم انکی ہیلی کاپٹر فلائٹ، تین لینڈ کروزرز اور ریڈ کارپٹ پر لگائے گئے ٹیکس کے پیسوں کی کل مالیت کا اندازہ کیسے لگا سکیں گے؟’ عائشی کو جواب دیتے ہوئے جب ایک صارف احسن تنویر نے لکھا کہ کیا سدھو صاحب اتنی دور اپنے گاؤں تک سفر کرنے کے لیے پیدل چل کر آتے، تو سعد عثمان نے جواب دیا کہ ‘یہ خاصی غیرمنطقی بات ہے، مہذب معاشرے میں تو ایک سرکاری افسر کو اپنے نجی دورے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑتا لیکن یہاں فضائیہ کا ترجمان ایک سفید جوٹ بول کر اپنے باس کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جہاں زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین ائیر چیف پر تنقید کرتے نظر آئے، وہیں انکا دفاع کرنے والے صارفین بھی موجود ہیں۔
صحافی عدیل وڑائچ نے تنقیدی ٹویٹس پر تبصرہ کیا کہ ’کوئی قیامت نہیں آ گئی اگر ایئرچیف کو ان کے گاؤں والوں کی جانب سے ریڈ کارپٹ استقبالیہ ملا، جہاں تک بات ہے سکیورٹی کی تو ایئرچیف کے عہدے کے شایان شان اسی طرح کی سکیورٹی ہوتی ہے۔‘
گجرات کے شہری اسامہ خاور جو ایئر چیف کے خاندان کو جانتے ہیں، نے لکھا: ’گجرات سے ہونے کی وجہ سے میں سدھو صاحب کے خاندان کو جانتا ہوں۔ ان کی فیملی میں ایسی چیزیں ہیں ہی نہیں، جس طرح موم بتی مافیا پیش کر رہا ہے۔‘
دوسری جانب سوشل میڈیا ایکٹویسٹ سفینہ نے لکھا: ’ویسے بڑی بات ہے پاک فضائیہ نے ریڈ کسرہٹ استقبال پر وضاحت دے دی ورنہ تو سیاستدان پاکستان کے عوام کے پیسے پر دن رات جہازوں میں اڑتے ہیں اور کبھی وضاحت دینا بھی گوارا نہیں کرتے اور پوچھ لو تو جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔‘ تاہم ایک اور صارف اور ملک نے لکھا کہ موجودہ ائیر چیف کی جانب سے اپنے ذاتی کام کے لئے سرکاری وسائل کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ دراصل یہ روایت جنرل ضیا دور میں ائیر چیف ایئر مارشل جنرل انور شمیم نے ڈالی تھی جب ان کی بیگم شاپنگ کے لیے بھی ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لیے لڑاکا طیارہ استعمال کرتی تھیں۔ اپنے والد کی قبر پر فاتحہ خوانی تو پھر بھی ایک نیک کام ہے اس لیے اگر اس پر سرکاری وسائل خرچ ہو بھی جائیں تو کوئی بات نہیں۔
یاد رہے کہ ظہیر احمد بابر سدھو مارچ 2021 میں نئے ایئر چیف مقرر ہوئے تھے۔ گجرات سے تعلق رکھنے والے وہ تیسرے سروسز چیف ہیں، ان سے قبل گجرات سے تعلق رکھنے والے ایڈمرل محمد شریف اور جنرل راحیل شریف بھی سروسز چیف رہ چکے ہیں۔

Back to top button