ایاز امیر نے ایکسٹینشن کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ کردیا


حال ہی میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے معروف لکھاری اور تجزیہ نگار ایاز امیر نے ایک مرتبہ پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا ہے کہ ایکسٹینشن کی بھی حد مقرر ہونی چاہیے، بھائی لوگوں سے اپنا کام ٹھیک طرح سے ہوتا نہیں، لیکن یہ دوسروں کے کام میں مداخلت کر کے اسے بھی خراب کرتے ہیں۔ ایاز امیر نے کہا ہے کہ سرکاری محکموں کا کوئی ضابطہ ہوتا ہے چنانچہ ایکسٹینشن کی بھی حد مقرر کی جانی چاہیئے اور یہ طے ہونا چاہیئے کہ آخر کتنی ایکسٹینشیں ہونی چاہئیں؟ یہاں تین سال کی ایکسٹینشن کے بعد پھر تین سال کی توسیع دی جاتی ہے اور وہ بھی صرف اسلئے کہ دوسروں کا کام خراب کرنا ہوتا ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایاز امیر کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف جیسا آدمی بھی، جس نے فوج میں رہ کر اچھی خاصی عزت کمائی، جاتے جاتے نواز شریف کے ترلے پر اتر آیا کہ مجھے ایکسٹینشن دے دو یا فیلڈ مارشل بنا دو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی قیادت کی کتاب میں تو پہلا باب ہی ایکسٹینشن کا ہے۔ خیال رہے کہ کچھ روز قبل بھی ایاز امیر نے عمران کی موجودگی میں بظاہر پاکستانی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ عمران خان کی اپنی حکومت کے خاتمے کے خلاف مزاحمت کو سراہتے ہوئے ان کے اپنے بعض فیصلوں پر کڑی تنقید کی تھی۔ پاکستان آرمی سے بطور کیپٹن ریٹائر ہونے والے ایاز امیر نے عمران کے حکومت کے خاتمے کے بارے میں کہا تھا کہ اسکی منصوبہ بندی جہاں ہوئی وہ جگہ ’اسلام آباد سے قریب ہے۔ اُنھوں نے فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملے پر بھی تنقید کی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے ’سیانے لوگ‘ ایکسٹینشن کے معاملے کو سپریم کورٹ لے گئے جہاں سے یہ معاملہ پارلیمنٹ گیا اور اب یہ قانون بن گیا ہے حالانکہ پہلے توسیع صرف روایت تھی۔ اس موقع پر اُنھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو اس معاملے میں جو بھی ’کھلواڑ‘ ہوا ہے اس میں اُن کا بھی برابر کا حصہ ہے۔

لیکن اس تقریر کے اگلے ہی روز ان کی لاہور میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں دھلائی اور ٹھکائی ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے جیو ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے ایاز امیر نے بتایا تھا کہ ان پر تشدد کے واقعے سے پہلے ایک اہلکار ان کے گھر آیا تھا اور انہیں بھائی لوگوں پر ہاتھ ہولا رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری اسلام آباد والی تقریر کے بعد اسی شخص کا فون آیا اور اس نے گلہ کیا کہ آپ نے میرے مشورے پر عمل نہیں کیا۔ ایاز امیر کا کہنا تھا کہ تشدد کے دوران ان کا موبائل چھین لیا گیا تھا لیکن جب انہوں نے اپنا موبائل ڈیٹا ریکور کیا تو یہ انکشاف ہوا کہ اس میں سے صرف اسی اہلکار کا نمبر ڈیکیت ہوا تھا جس نے انہیں ہاتھ ہولا رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ اپنے جس متنازع خطاب کی وجہ سے ایاز میر کو تشدد کا نشانہ بننا پڑا وہ عمران خان کی موجودگی میں ہوا تھا۔ ایاز امیر نے عمران خان سے کہا تھا کہ پراپرٹی ڈیلروں کے چنگل سے نکلو، ورنہ بھائی لوگوں کو تو پاکستان کی زمین کم پڑ جائے گی، لیکن انکی ڈی ایچ ایز بنانے کی خواہش پوری نہیں ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سارے کھلواڑ میں ایک ہی اچھی چیز ہوئی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کو پراپرٹی ڈیلرز کے حوالے کرنے والی عمران خان حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

ایاز امیر نے عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس تقریب میں قائداعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر آویزاں کی ہوئی ہیں، انکی جگہ دو پراپرٹی ڈیلرز کی تصاویر لٹکا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ایاز امیر نے عمران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے آپ کو دھکا اور لات پڑی تو ما شا اللہ آپ بھی اب چی گویرا بن رہے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اب آپ چی گویرا ہی رہیں۔ ایاز امیر کا کہنا تھا کہ اب تو کچھ سیکھیں اور ان پراپرٹی ڈیلروں سے اپنی جان چھڑائیں۔ لاہور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسی خباثتیں جو آپ نے اپنے دماغ میں ڈال لی تھیں، خدارا ان سے نکلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے آپ نے پراپرٹی سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی اسکے نتیجے میں پاکستان کی آدھی زمین راولپنڈی میں بیٹھے ہمارے بھائیوں نے کھا لی۔

اس خطاب کے صرف ایک روز بعد ہی ایاز امیر کو دنیا نیوز کے لاہور دفتر کے باہر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کو گاڑی سے گھسیٹ کر ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے تھے۔ نامعلوم افراد نے ان کو تھپڑ مارے اور موبائل فون بھی چھین لیا لیکن اب تک اس واقعے کے ملزمان گرفتار نہیں ہو پائے۔

Back to top button