ایاز امیر کی سابقہ اہلیہ بہو کے قتل میں دوبارہ گرفتار

اسلام آباد پولیس نے سینئر صحافی ایاز امیر کی سابقہ اہلیہ اور سابق وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کی بیوہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کروانے کے بعد انہیں سارہ انعام قتل کیس میں گرفتار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھی اس قتل میں شریک مجرم ہیں۔ یاد رہے کہ ثمینہ شاہ قتل کے وقت اس گھر میں موجود تھیں جہاں سفاک قاتل شاہنواز امیر نے اپنی تیسری اہلیہ سارہ کا قتل کیا تھا۔ سارہ کے قتل کے بعد ثمینہ کو اپنے سابقہ شوہر ایاز امیر کے ساتھ ہی گرفتار کر لیا گیا تھا کیونکہ شاہنواز نے قتل کے بعد پہلا فون اپنے والد کو ہی کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں ایاز امیر اور ان کی سابقہ اہلیہ دونوں کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

لیکن 19 اکتوبر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں مرکزی ملزم شاہ نواز کی والدہ کی درخواست ضمانت کی سماعت کے بعد ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ نے ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کر دی، سماعت کے دوران ملزمہ ثمینہ شاہ اپنے وکلا کے ہمراہ، سارہ کے والد انجینئر انعام الرحیم، مقدمے کے مدعی اپنے وکیل راؤ عبد الرحیم کے ہمراہ اور کیس کے تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت میں پیش ہوئے۔مدعی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ثمینہ شاہ اپنے بیانات کی بنیاد پر اس مقدمے میں ملزمہ نامزد کی گئیں۔ جس پر ثمینہ شاہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کی موکلہ نے ملزم کو گرفتار کروانے میں پولیس کی مدد کی ہے اور یہ کہ ان کی فقط اتنی غلطی ہے کہ وہ وقوعہ کے وقت چک شہزاد کے فارم ہاؤس میں موجود تھیں۔

یاد رہے کہ یہ فارم ہاؤس دراصل عبدالحفیظ پیرزادہ کی ملکیت تھا جو ان کی وفات کے بعد ان کی بیوی کے حصے میں آ گیا۔ یہاں پر انکا ایاز امیر سے پیدا ہونے والا بیٹا شاہنواز ان کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ ثمینہ شاہ کے وکیل ارسل ہاشمی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فنگر پرنٹ یا اس کے علاوہ بھی کوئی ثبوت ثمینہ شاہ کے خلاف نہیں ہے۔ وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ دو دن پہلے سی سی ٹی وی بند کیوں ہوا اس کا جواب نہیں دیا گیا ہے، ثمینہ شاہ کا کردار صرف مدد کرنے کی حد تک ہے یا قتل میں بھی کردار ہے یہ تفتیش میں سامنے آئے گا۔

مدعی کے وکیل عبدالرحیم نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزمہ ثمینہ شاہ کو مزید ضمانت نہیں دی جانی چاہیے، انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ثمینہ شاہ کی مزید ضمانت قبل از گرفتاری خارج کی جائے کیونکہ اسکا کردار مشکوک ہے وہ قاتل کو روک سکتی تھی۔چنانچہ عدالت نے ملزمہ ثمینہ شاہ کی ضمانت خارج کر دی، جس کے بعد تھانہ شہزاد ٹاؤن کی پولیس نے انھیں کمرہ عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا۔

خیال رہے کہ 23 ستمبر کو سارہ انعام کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں قتل کر دیا گیا تھا اور اس قتل کے الزام میں اُن کے شوہر شاہنواز امیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ شاہنواز کے والد اور سینیئر صحافی ایاز امیر کو بھی بعدازاں حراست میں لیا گیا تھا تاہم بعد ازاں انھیں شواہد کی عدم موجودگی کے باعث انھیں رہا کرنے کے احکامات جاری ہوئے تھے۔ 3 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل شیخ کی عدالت نے سارہ انعام قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہنواز امیر کی والدہ ثمینہ شاہ کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی تھی۔

یاد رہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے میں ہونے والی سماعت میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ انعام کے قتل کے مقدمے سے سینیئر صحافی ایاز امیر کا نام نکالنے اور انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ پولیس نے شاہنواز کے فارم ہاؤس سے اسلحہ برآمد کرتے ہوئے ان کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ درج کیا تھا، پولیس کے مطابق سارہ انعام کے قتل کا یہ واقعہ 23 ستمبر بروز جمعہ صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان پیش آیا تھا۔ اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق قتل کی اس واردات کی اطلاع ملزم شاہنواز کی والدہ ثمینہ شاہ نے پولیس کو دی تھی۔

Back to top button