ایجنسیاں عزیر بلوچ کو بچانے کیلئے گواہ منخرف کروانے لگیں


کراچی گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر جان بلوچ کو سزا سے بچانے کے لئے خفیہ ہاتھوں کی جانب سے پراسیکیوشن اور گواہان کو دھمکانے کی اطلاعات ہیں جس وجہ سے اسے سنگین کیسز میں عدالتوں سے یکے بعد دیگرے بریت ملتی جا رہی ہے۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی مخالف عذیر بلوچ کی بریت کے پیچھے ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور وہی اس کے خلاف گواہان کو ڈرا دھمکا کر منحرف کروانے میں مصروف ہیں۔
یاد ریے کہ عزیر بلوچ لیاری گینگ وار کے سرغنہ ہیں اور پیپلز پارٹی سے باغی ہونے سے پہلے وہ لیاری کی پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ تھے۔ عزیر کے خلاف دہشت گردی اور قتل کے بیسیوں مقدمات درج ہیں اور اسکا شمار بدنام زمانہ گینگسٹرز میں ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ ابھی تک کسی بھی سول یا انسدادِ دہشت گردی عدالت میں اسے مجرم ثابت نہیں کیا جا سکا بلکہ حالیہ مہینوں کے دوران اسے سنگین کیسز میں دھڑا دھڑ بریت کا پروانہ ہی تھمایا گیا ہے جس کے پیچھے خفیہ والوں کی مہربانیاں کارفرما نظر آتی ہیں۔
کراچی کی سیشن عدالت سے عذیر بلوچ کے مسلسل بری ہونے کے حوالے سے پراسیکیوٹر نے حال ہی میں دلائل دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسکے خلاف گواہان اور پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ گزشتہ برس اسکے خلاف ایک مقدمہ قتل کے اہم گواہ اور تفتیشی افسر شہباب حیدر کو گینگ وار کے کارندوں نے قتل کردیا تھا اور اب دیگر گواہان سمیت لیاری ٹاسک فورس کے افسران اہلکاروں کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ کراچی سینٹرل جیل جوڈیشل کمپلیکس میں سیشن عدالت کے روبرو عذیر جان بلو چ کے خلاف دھماکا خیز مواد اور اسلحہ ایکٹ کے مقدمہ کی حالیہ سماعت کے دوران عذیر بلوچ کے مسلسل بری ہونے کے حوالے سے پراسیکیوٹر نے دلائل میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عذیر بلوچ اور گینگ وار کی جانب سے گواہوں و پراسیکیوشن کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے گواہان کے علاوہ عدالتی عملہ اور پراسیکیوشن کو بھی جان کا سنگین خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ پراسیکیوٹڑ نے موقف اپنایا کہ ملزم عزیر جان بلوچ کے خلاف گواہی دینے کے لئے گواہان عدالت آنے پر آمادہ نہیں ہو رہے جس کی بنیاد پر عذیر بلوچ کو ریلیف مل رہا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گواہوں کو تحفظ دینا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کا کام ہوتا ہے لہذا اگر سنگین مقدمات میں گواہی دینے والے منحرف ہو رہے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ بھائی لوگ عذیر بلوچ کو بچانا چاہتے ہیں ورنہ گواہان کو جان کے تحفظ کی یقین دہانی کروا کر عدالت لایا جا سکتا یے۔ لیاری گینگ وار کے زیر حراست سربراہ عزیر جان بلوچ کے سنگین مقدمات میں عدم شواہد اور گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے بری ہو جانے پر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شاید اسے رہائی دلوا کر ایجنسیاں اسے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ 2016 میں سندھ رینجرز کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے عزیر جان بلوچ پچھلے چار برس سے رینجرز کی تحویل میں ہیں اور انہیں جیل میں رکھنے کی بجائے کراچی میں آرام دہ میٹھا رام ہاسٹل میں رکھا گیا ہے جبکہ ہاسٹل کی عمارت کو سب جیل کا درجہ دیا گیا ہے۔ رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کو جیل کی بجائے ایک ہاسٹل میں رکھنے کی بنیادی وجہ سیکیورٹی خدشات ہیں۔ تاہم یہ کراچی کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک خطرناک مجرم کو جیل کی بجائے جیل سے باہر آرام دہ ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 2016 میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتاری سے پانچ برس پہلے ہی عزیر بلوچ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا تھا اور لیاری کے علاقے میں بھٹوز کی داخلہ پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ پیپلز پارٹی حکومت نے لیاری گینگ وار کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع کیا تھا تاکہ علاقے کے لوگوں کو امن فراہم کیا جا سکے۔ تاہم اپنی گرفتاری کے بعد ایجنسیوں کودیے گے اپنے اقبالی بیان میں اس نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ایماء پر قتل و غارت کی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ سال 2016 میں گرفتاری کے بعد عزیر بلوچ تین برس تک پاکستان آرمی کی کور 5 کی تحویل میں رہا اور پھر اسے صرف ایک مہینہ ہی سینٹرل جیل کراچی میں رکھے جانے کے بعد میٹھا رام ہاسٹل منتقل کر دیا گیا۔ عزیر جان کے خلاف مقدمات کی سماعت کراچی سینٹرل جیل میں خصوصی طور پر قائم عدالتوں میں کی جا رہی ہے۔ سینٹرل جیل کے اندر انسدادِ دہشت گردی اور سیشن کورٹ قائم ہے جہاں خطرناک ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت کی جاتی ہے۔ تاہم حیران کن طور پر پچھلے تین ماہ میں عذیر بلوچ اپنے خلاف بنائے گے درجن بھر سنگین مقدمات میں بری ہو گیا ہے جن سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے اسے آزادی دلوانے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ مستقبل میں اسے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ تاہم سکیورٹی ذرائع ان خدشات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عزیر کی رہائی کا امکان معدوم ہے کیونکہ اس کے خلاف دہشت گردی کے 50 مقدمات سمیت 40 سے زائد کیسز ابھی بھی زیر سماعت ہیں اور کسی نہ کسی کیس میں اسے سزا ضرور ہو جائے۔
خیال رہے کہ عزیر بلوچ کو پاکستان رینجرز سندھ کی جانب سے ابتدائی طور پر 90 روز کی حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا اور پھر جنوری 2016 میں اس کی پراسرار گرفتاری کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد اپریل 2017 میں فوج نے اعلان کیا کہ ایران کے لیے جاسوسی کے الزام پر عزیر بلوچ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ عزیر بلوچ انسداد دہشت گردی کی عدالت اور سیشن عدالتوں میں اپنے حریف ارشد پپو کے بہیمانہ قتل سمیت 50 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button