میثاق جمہوریت کے باوجودپیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں عدم اعتماد کیوں؟

سنہ 2996 میں میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین آج بھی اعتماد کا مسلسل فقدان پایا جاتا ہے۔ نوے کے عشرے میں ملکی سیاست دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے گرد گھومتی رہی۔ لیکن یکے بعد دیگرے اقتدار حاصل کرنے والی ان دونوں جماعتوں میں سے کوئی بھی اپنے اقتدار کی مدت پوری نہ کر پائی جس کی بنیادی وجہ ان کا اسٹیبلشمنٹ کے پیادے صدر پاکستان کے ہاتھوں فارغ ہونا تھا جو کہ مسلح افواج کا سپریم کمانڈر بھی ہوتا ہے۔ مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین ملک سے باہر چلے گئے اور مشرف نے اپنے فسطائی اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ان دو جماعتوں کو عملی طور پر دیوار سے لگا دیا۔ ایسا کرنے کے لئے مشرف نے دو مصنوعی جماعتیں کھڑی کیں جن میں سے ایک کا نام مسلم لیگ قاف تھا جبکہ دوسری پیپلز پارٹی پیٹریاٹ تھی۔
اسی دوران پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی جلا وطن مرکزی قیادت نے ماضی کی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی اور بقاء کی خاطر 2006 میں لندن میں میثاق جمہوریت جیسی اہم دستاویز پر دستخط کیے۔
میثاق جمہوریت کو اگر گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے سنجیدہ سیاسی دستاویز کا درجہ دیا جائے تو بے جا نہیں ہو گا۔ پاکستان کے جمہوریت پسند شہریوں نے میثاق جمہوریت پر سکھ کا سانس لیا کہ اب دو بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین جاری سیاسی محاذ آرائی نہ صرف رک جائے گی بلکہ ملک میں حقیقی معنوں میں سیاسی جمہوری کلچر کو فروغ ملے گا اور جمہوریت اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے۔
2008 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی مرکز اور سندھ میں اقتدار میں آئی اور ن لیگ کو پنجاب میں اقتدار میں ملا۔ تاہم میثاق جمہوریت کو بھلاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نواز شریف تب کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے تیار کردہ میمو گیٹ سکینڈل میں اسوقت کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہو گے۔
اسی طرح مشرف کے ہاتھوں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی بحالی اور آزاد عدلیہ کی خاطر چلائی جانے والی وکلاء تحریک کی کمان جب نواز شریف نے سنبھالی تو یہ میثاق جمہوریت کی خلاف ورزی کا نقطۂ عروج تھا۔ گو کہ یہ تحریک مشرف کے فیصلوں کے خلاف تھی تاہم اس کا نقصان بہرحال پیپلز پارٹی کی حکومت کو پہنچ رہا تھا۔ بالآخر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ججز کو بحال کر کے ممکنہ سیاسی بحران کو حل کر دیا لیکن یہ اور بات کہ انہی ججوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو بطور وزیراعظم نااہل کر کے گھر بھیج دیا۔
ان واقعات کے بعد پیپلز پارٹی کی نون لیگ سے دوریاں بڑھتی گئیں۔ 2013 کے عام انتخابات میں نون لیگ برسراقتدار آ گئی۔ 2014 میں تحریک انصاف نے دھاندلی کا الزام لگا کر نون لیگ کی حکومت کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دے دیا۔ ایسے میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی دوریاں بھی حد سے زیادہ بڑھ چکی تھیں تو توقع کی جا رہی تھی کہ شاید پیپلز پارٹی اپنے دیرینہ سیاسی حریف کو نووارد سیاسی حریف کے ہاتھوں زچ ہوتا دیکھتی رہے گی اور صورتحال مزید خراب ہوتی جائے گی۔ عمران خان کے دھرنے کے باعث جب نون لیگ کی حکومت لڑکھڑا رہی تھی تو ایسے وقت میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے جمہوری نظام کے تسلسل اور پارلیمان کی بالادستی کی خاطر تمام تر ناراضیوں کو بھلاتے ہوئے نون لیگ حکومت کی حمایت کا اصولی فیصلہ کیا۔
تاہم آج دوبارہ سے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کے مابین اسمبلیوں سے استعفے دینے کے ایشو پر معاملات آخری نہج پر پہنچ چکے ہیں۔ پی ڈی ایم کا آخری اجلاس اس قدر تناؤ میں ہوا کہ مریم نواز شریف اور آصف زرداری کے مابین تلخ لہجے میں گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس نشست کے اختتام پر بلاول بھٹو نے جب مولانا سے پوچھا کہ یہ بتا دیں کہ ہمیں پی ڈی ایم میں رکھنا ہے یا نہیں تو مولانا نے جواب دیا کہ اس کا فیصلہ آپ خود کر کے بتا دیں۔ نشست ختم ہوئی تو مولانا نے شرکاء کے اصرار پر میڈیا کو مارچ ملتوی ہونے کی اطلاع دی اور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے جبکہ مریم نواز شریف نے میڈیا کے سوالوں کے جواب دیے اور بات یہاں پر ختم ہوئی کہ پیپلز پارٹی نے سوچنے کا وقت مانگا ہے اس کے بعد فیصلہ ہو گا۔
اس کے بعد وہی ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان آ گیا اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم سے غداری کی ہے۔ یہ شدید ردعمل شاید اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتیں شاید یہ توقع کر رہی تھیں کہ پیپلز پارٹی بھی استعفوں کے ایشو پر حامی بھر لے گی۔ تاہم ایسا نہیں ہوا۔ زرداری کا موقف یہ تھا کہ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنا ہوگی کیونکہ استعفوں سے عمران خان مضبوط ہو گا، فی الوقت استعفے چھوڑ لانگ مارچ کیا جائے اور جب مناسب وقت آئے گا اور حکومت کمزور ہو گی تو استعفوں کی باری آئے گی۔ تاہم مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کا موقف تھا کہ پہلے استعفے دیے جانے چاہئیں اور پھر اسلام آباد کا رخ کرنا چاہیے۔ اس پر آصف زرداری نے موقف اپنایا کہ پیپلزپارٹی والے استعفی دینے کو تیار ہیں لیکن نواز شریف ملک واپس آئیں تاکہ ان کے ہاتھ میں استعفے تھمائے جائیں۔ یہ بات نواز لیگ والوں کو بہت بری لگی اور معاملات اور بگڑ گئے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسمبلیوں سے استعفے دینا مسائل کا حل ہے خصوصا جب ملک میں ایجیٹیشن کا کوئی ماحول نہیں اور حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے کا ٹاسک بھی پورا نہیں ہوسکا؟ ان حالات میں سیاسی تجزیہ کار سوال کرتے ہیں کہ بالفرض حکومت اپوزیشن جماعتوں کے اسمبلیوں سے استعفوں کے بعد ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیتی ہے تو پھر کیا ہو گا۔ جب پی ڈی ایم کے اجلاس میں یہ سوال اٹھا تو نون لیگ والوں کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو ہم ضمنی الیکشن دوبارہ لڑ لیں گے، جواب میں پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اگر ضمنی الیکشن ہی دوبارہ لڑنا ہے تو پھر مستعفی کیوں ہو رہے ہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم استعفوں کا معاملہ بعد کے لیے اٹھا رکھیں اور فی الوقت ایک بھرپور لانگ مارچ کی تیاری کریں۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ لہازا آصف زرداری جیسا زیرک سیاست دان دوسروں کی خواہش پر سندھ حکومت قربان کر کے سڑکوں پر کیوں آئے جب اس کو اتحادیوں پر بھی مکمل اعتماد اور یقین نہ ہو۔ پی ڈی ایم اجلاس کے دوران آصف زرداری نے یہ بھی کہا کہ میں نے چودہ برس جیل میں کاٹے ہیں اور آئندہ بھی جیل کاٹنے کے لئے تیار ہوں لیکن ہمارے باقی سیاستدان ساتھیوں کو بھی ملک واپس آ کر جیل جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ لیکن انکے خطاب کا حاصل غزل یہ بات رہی کہ میرا ڈومیسائل چھوٹے صوبے کا ہے اور بڑے صوبے کے ڈومیسائل کے حامل شخص کو عملی طور پر جدوجہد میں خود شریک ہونا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ قائد اعظم، فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو شہید تک سب کے ڈومیسائل چھوٹے صوبے کے تھے۔ جناح کی ایمبولینس کا ایندھن ختم ہونے سے لے کر انڈین ایجنٹ، غدار، پھانسی گھاٹ اور پھر لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر قاتلانہ حملہ بھی یہاں کی تاریخ ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور ملکی بقا خطرے میں پڑ گئی تو آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔
