ایران بھارت کا دوست اور پاکستان کا مخالف کیوں ہو گیا؟

افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ایران بھارت کے قریب اور پاکستان کے خلاف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے جسکی بنیادی وجہ تہران کا یہ شک ہے کہ طالبان نے پاکستانی ایما پر اپنی کابینہ میں ایران نواز جنگنجووں اور شیعہ برادری کو مناسب نمائندگی نہیں دی۔ یاد رہے کہ طالبان نے 7 ستمبر کو اپنی کابینہ کی پہلی فیز کا اعلان کرتے وقت کسی ایران نواز جنگجو یا شیعہ لیڈر کو اسکا حصہ نہیں بنایا تھا۔ تاہم 20 ستمبر کو کابینہ کی دوسری فیز کا اعلان کرتے ہوئے دو معروف ایران نواز شیعہ رہنماؤں عبدالقیوم ذاکر اور مولانا محمد ابراہیم کو نائب وزرا کے عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے۔ لیکن ایران اس پر بھی راضی نہیں ہوا اور پاکستان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بریکٹ کرتے ہوئے بھارت کے پاکستان مخالف پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دے رہا ہے۔
چند ہفتے قبل جب طالبان نے ملک میں مزاحمت کے آخری قلعے پنجشیر پر فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا تو ایران کی جانب سے پاکستان مخالف کئی غیر متوقع بیانات سامنے آئے۔ بھارتی میڈیا کی بے بنیاد خبروں کو بنیاد بناتے ہوئے ایرانی اخبار تہران ٹائمز نے بھی دعویٰ کیا کہ اکثریتی شیعہ آبادی رکھنے والے پنجشیر میں پاکستانی فوجی اسلحہ طالبان کی حمایت میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمتی اتحاد پر مبینہ پاکستانی فضائی حملوں کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ان میں ‘غیر ملکی مداخلت’ کی شدید مذمت کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران انڈین میڈیا پر چلنے والی غیر مصدقہ خبروں کا باضابطہ، سرکاری طور پر حوالہ دیتے ہوئے پاکستان مخالف بیانات اس لئے دے رہا ہے، کیونکہ بھارت کی طرح اسے بھی افغانستان میں اپنا کردرا محدود ہوتا نظر آرہا ہے۔
یاد رہے کہ جب 15 اگست کو افغان صدر اشرف غنی متحدہ عرب امارات فرار ہوئے اور کابل پر طالبان نے بغیر کوئی گولی چلائے قبضہ کیا تو ایران کی حکومت نے بظاہر ایک غیر جانبدار موقف اختیار کیا۔ لیکن جب آہستہ آہستہ نئی افغان حکومت میں کابینہ کے اراکین کے ناموں پر بات چیت شروع ہوئی تو ایران نے مطالبہ کیا کہ حکومت سازی میں خواتین اور ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کو جگہ دی جائے۔ تاہم جب سات ستمبر کو طالبان نے اپنی قائم مقام کابینہ کا اعلان کیا تو اس 33 رکنی کابینہ میں نہ کوئی ہزارہ برادری کا فرد تھا اور نہ ہی خواتین۔ اسی بنا پر ایران کو لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ایران نواز طالبان رہنماؤں کو کابینہ سے دور رکھا ہے تاکہ نئی افغان حکومت میں ایرانی کردار کو کم سے کم رکھا جائے۔ تاہم دوسری جانب ایران کے حکومتی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ طالبان کے پہلے دور حکومت کے دوران مخالفت اور ہزارہ شیعہ برادری کی اس بار کی کابینہ میں نمائندگی نہ ہونے کے باوجود افغان طالبان سے تعلقات رکھنا ضروری ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں ایران نے انڈیا اور روس کے ساتھ مل کر شمالی اتحاد کا پوری طرح ساتھ بھی دیا تھا اور پھر نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ کو طالبان کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی تھیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں تھنک ٹینک نیو لائنز انسٹٹیوٹ فار سٹریٹجی اینڈ پالیسی کے ڈائریکٹر کامران بخاری نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کی مدد کرنے کا فیصلہ اس نکتے پر تھا کہ شاید اس کے باعث ایران پر عائد پابندیاں ہٹ جائیں گی لیکن یہ نہ ہوا اور 2005 کے بعد سے ایران نے طالبان سے روابط قائم کرنے شروع کر دیے۔’ایرانی حکمت عملی دو نکات پر مبنی تھی۔ قلیل مدتی حکمت عملی تھی کہ امریکہ کو نقصان پہنچایا جائے۔ اور طویل مدتی طور پر یہ کہ جب امریکہ خطے سے چلا جائے گا تو طالبان کے پاس صرف پاکستان کا آپشن نہیں ہو گا بلکہ ایران کا بھی ہو گا، کیونکہ وہ پاکستان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا اتحادی سمجھتے ہیں۔ کامران بخاری کے مطابق ایران پاکستان کو براہ راست ایک خطرہ نہیں سمجھتا لیکن اسے لگتا ہے کہ وہ ان دونوں خلیجی ممالک کے اتنا قریب ہے کہ وہ یقیناً ان کے کہنے پر ایران کے خلاف کام کرے گا۔ سابق سفیر آصف درانی کے مطابق ماضی میں ایران یقیناً طالبان کے خلاف تھا لیکن 2005 کے بعد سے روابط قائم کر لیے تھے اور اب معاملات تبدیل ہو چکے ہیں۔’اب پہلے والا وقت نہیں ہے۔ امریکہ کے جانے کے بعد افغانستان کے پڑوسی ممالک ایک صفحے پر ہیں تو افغانستان میں طالبان کی موجودگی میں پاکستان اور ایران کی حکمت عملی کیسے ایک دوسرے سے مختلف ہو گی۔ ایران پاکستان کے درمیان مرکزی فرق ان کی ’مربوط حکمت عملی‘ یعنی سٹریٹجک اور ’حکمت عملی پورا کرنے کے اقدامات‘ یعنی ٹیکٹکس کے حوالے سے ہے۔
افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد ایک جانب جہاں پاکستان اور ایران کے تعلقات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب اس حوالے سے خطے کا ایک اور اہم ملک انڈیا مستقبل کے لیے ایران سے اپنے روابط کو مزید پختہ کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کی تقریب حلف برداری میں انڈین وزیر خارجہ کی شرکت سے لے کر اس ماہ ایرانی وزیر خارجہ کے انڈیا کے متوقع دورے تک یہ نظر آ رہا ہے کہ انڈیا اور ایران افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد مشاورت میں اضافہ کر رہے ہیں۔اور اس کی شاید ایک بڑی وجہ انڈیا کی جانب سے افغانستان کی پچھلی حکومت کو نہ صرف بڑی امداد دینا ہے بلکہ ملک میں تین سے چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا بھی ہے، جو کہ اب طالبان کی آمد کے بعد انڈیا کو ضائع ہوتی نظر آ رہی ہے۔
