ایران پردباؤبڑھانےکیلئےامریکانےنئی پابندیاں عائدکردیں

ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے ایک ایرانی فارن کرنسی ایکسچینج ہاؤس اور ایرانی بینکوں کی جانب سے لین دین کرنے والی مبینہ فرنٹ کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، ان تازہ ترین پابندیوں کا نشانہ ایران میں قائم امائن ایکسچینج کو بنایا گیا ہے، جسے ابراہیمی اینڈ ایسوسی ایٹس پارٹنرشپ کمپنی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اس ایکسچینج ہاؤس کا فرنٹ کمپنیوں پر مشتمل ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جو متحدہ عرب امارات ، ترکیہ اور ہانگ کانگ سمیت کئی ملکوں اور خطوں میں پھیلا ہوا ہے۔

مالیاتی کارروائی کے ساتھ ساتھ، امریکہ نے 19 بحری جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ امریکی محکمے کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام بحری جہاز غیر ملکی گاہکوں کو ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات اسمگل کرنے اور ان کی ترسیل میں براہِ راست ملوث تھے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایرانی ایکسچینج ہاؤسز سالانہ اربوں ڈالرز کے غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین کو ممکن بناتے ہیں، جس کا مقصد ایرانی حکومت کو بین الاقوامی پابندیوں سے بچانا اور عالمی مالیاتی نظام تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ فرنٹ کمپنیاں ایرانی بینکوں کی ایما پر کروڑوں ڈالرز کی ٹرانزیکشنز کو سنبھالتی ہیں۔

ان پابندیوں کے بعد اب بلیک لسٹڈ کمپنیوں اور اثاثوں تک امریکی رسائی بلاک کر دی گئی ہے اور کسی بھی امریکی شہری یا ادارے کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

 

Back to top button