ایران کے سپریم لیڈر سے استعفے کا مطالبہ

ایران کی جانب سے یوکرین کا مسافر طیارہ گرانے کی غلطی کے اعتراف کے بعد ایران کی اپوزیشن جماعتوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ایران کی ‘گرین موومنٹ’ کے رہ نما مہدی کروبی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر ملک کی قیادت کے اہل نہیں رہے ہیں۔ انہیں فوراً اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔
کئی سال سے گھر نظربند مہدی کروبی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کی قیادت سنبھالنے کے اہل نہیں رہے ہیں۔ اس لیے انہیں عہدے سے سبکدوش ہونا پڑے گا۔ انہوں نےسوال کیا کہ آپ کیسے کمانڈر انچیف ہیں کہ آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آپ کی ماتحت فوج نے ایک مسافر جہاز کو میزائل مار کر اسے مارگرایا؟۔ آپ اس وقت کہاں تھے؟ جنہوں نے کہ جرم کیا ہے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور مسلسل تین دن تک دنیا کے سامنے جھوٹ کیوں بولا گیا۔
مہدی کروبی کا مزید کہنا تھا کہ طیارہ حادثہ پہلا واقعہ نہیں جس کی ذمہ داری سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔اس طرح کے کئی دوسرے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ نوے کی دھائی میں سیریل کلنگ کے واقعات کی آج تک تحقیقات نہیں کی گئیں۔ سنہ 2018ء اور 2019ء میں پرامن احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مگر اس قتل عام کے ذمہ داروں کو بھی کچھ نہیں کہا گیا۔
اپوزیشن رہ نما کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہے کہ موجودہ ایرانی قیادت بالخصوص خامنہ ای میں ملک کا نظام چلانے کے لیے دانش مندی، ہمت، حوصلے، نظم وضبط اور طاقت کافقدان ہے۔ اس لیے انہیں سپریم لیڈر کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
خیال رہے کہ کل ہفتے کے روز تہران میں جامعہ امیر کبیر کے باہر سیکڑوں طلبہء نے حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد 700 سے ایک ہزار کے درمیان تھی۔
ایران میں پاسداران انقلاب کی طرف سے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کے اعتراف کے بعد اصفہان اور شیراز میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اس موقع پر مظاہرین نے پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور دیگر ایرانی لیڈروں کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کی تصویریں پھاڑ ڈالیں۔ مظاہرین نے طیارہ مار گرانے والے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ایرانی حکومت سے سوال کیا کہ جب ایران میں پہلے سے ہی کشیدہ صورت حال تھی تو طیارے کو پرواز کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟ مظاہرین نے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔
