کیا ایم کیو ایم نے حکومت کے خاتمے کی گھنٹی بجادی؟

سات اراکین قومی اسمبلی رکھنے والی جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے حکومتی اتحاد سے نکلنے کے اعلان نے مرکز میں پی ٹی آئی حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں اور سیاسی حلقے اس فیصلے کو حکومت کے خاتمے کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسوقت تحریک انصاف حکومت کو قومی اسمبلی میں عددی اکثریت برقرار رکھنے کا کڑا چیلنج درپیش ہے خصوصا جب کہ حکومت صرف دس ووٹوں کی اکثریت پر قائم ہے۔ اپوزیشن حلقے تو ایم کیو ایم کے وزارت چھوڑنے کے فیصلے کو حکومت کے خاتمے کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے دعوی کیا ہے کہ حکومت بہت جلد ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہوجائے گی اور سازشی عناصر کو ایک مرتبہ پھر مایوسی ہوگی۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں حکومتوں کو بنانے اور گرانے میں بنیادی کردار اسٹیبلشمنٹ کا ہوتا ہے اور جس روز اسٹیبلشمنٹ نے حکومت تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ایم کیوایم کو علیحدہ ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
12 جنوری بروز اتوار کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ اور وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کو حکومت بنانے کے لیے اپنا تعاون پیش کیا تھا۔ بدلے میں کراچی کی حالت سنوارنے کے لیے ترقیاتی کاموں پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم تحریک انصاف نے گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران جس انداز میں ملکی معاملات اور کراچی کے حالات بہتر بنانے پر اذیت ناک پیشرفت کی ہے اس سے ہم بہت زیادہ مایوس ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہم سے دو وزراء کے نام مانگے تھے جو ہم نے دے دیے مگر مجھے ڈاکٹر ہونے کے باوجود انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت دی گئی اور ہماری ڈیمانڈ کے برخلاف سینیٹر فروغ نسیم کو وفاقی وزیر قانون بنا دیا گیا کیونکہ تحریک انصاف کو اپنے کیسز کے لیے ایک اچھے وکیل کی ضرورت تھی۔ تاہم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ حکومت سے نکلنے کا تعلق بلاول بھٹو زرداری کی سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت سے بالکل نہیں ہے۔ ہم مستقبل میں بھی تحریک انصاف کے ساتھ پارلیمنٹ میں تعاون جاری رکھیں گے۔ خالد مقبول صدیقی کے مؤقف کے برعکس اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ایم کیو ایم حکومتی اتحاد سے نکلی گی اور اگلے مرحلے میں تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں پیش پیش ہوگی۔ اس طرح حالیہ آرمی ترمیمی ایکٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قانون کی غیر مشروط حمایت کا اصل مقصد بھی سامنے آئے گا۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے نتیجے میں طے شدہ معاملات کے نتائج بھی واضح ہو جائیں گے۔
یعنی اب حکومت کے خاتمے کا آغاز ہوچکا ہے کیونکہ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ نواز پارٹی ہے اور وزارت چھوڑنے کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور مشاورت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں تحریک انصاف پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت نہیں کر سکتی کیونکہ گذشتہ چار ماہ کے دوران تحریک انصاف کی دو وکٹیں گر چکی ہیں۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے اراکین قومی اسمبلی کی تعداد سکڑ کر 155 تک آگئی ہے۔ قومی اسمبلی میں مختلف جماعتوں کے تناسب کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس وقت اتحادی جماعتوں کے 26 مستعار یعنی مانگے تانگے کے ووٹوں کی بنیاد پر وزیراعظم کے عہدے پر موجود ہیں۔
تحریکِ عدم اعتماد کی صورت میں وزیراعظم کو اپنی جماعت کے تمام 155 اراکین کے علاوہ کم از کم 17 اتحادی اراکین کے ووٹ بھی درکار ہیں یعنی اگر ایم کیو ایم جیسی سب سے بڑی سابق اتحادی جماعت نے مخالفت میں ووٹ دیا تو عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بلوچستان سے اخترمینگل بھی آجکل حکومت سے نالاں ہیں اور علیحدہ ہونے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ 25 جولائی 2018 اکے انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف نے 158 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم عمران خان تین نشستوں پر کامیاب رہے، الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق عمران خان نے دو نشستیں خالی کردیں۔ ایک نشست پر ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے پھر سیٹ جیت لی تاہم لاہور کے حل کا این اے 131 میں عمران خان کی جیتی ہوئی نشست مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق لے اڑے۔ چند ماہ قبل گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے علی محمد مہر ہر انتقال کرگئے، اس نشست پر ضمنی انتخاب ہوا اور اس مرتبہ اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کی یہ وکٹ اڑا دی۔ الیکشن ٹرائبیونل نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے اور تحریک انصاف کی یہ وکٹ بھی کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
جب تحریک انصاف نے اگست 2018 میں سات جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے اپنی حکومت قائم کی تو اسے 26 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت حاصل تھی۔ اٹھارہ ماہ قبل وزیراعظم عمران خان 176ووٹ لے کر پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ آئین کی رو سے عمران خان کو اپنا عہدہ برقرار رکھنے کے لئے 172 ووٹ درکار ہیں جبکہ تحریک انصاف کی اپنی نشستوں کی تعداد محض 155 ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیراعظم کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لئے اتحادی جماعتوں کے کم ازکم 17ووٹ درکار ہیں۔ اگر مستقبل قریب میں سات نشستوں والی متحدہ قومی موومنٹ کے بعد پانچ پانچ نشستوں والی پاکستان مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی، چار نشستوں والی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ، تین اراکین قومی اسمبلی پر مشتمل گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس جیسی جماعتیں بھی حکومتی اتحاد سے نکل گئیں تو پھر تحریک انصاف کی حکومت شیخ رشید اور شاہ زین بگٹی کی حمایت کے باوجود بچ نہیں پائے گی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی پانچ نشستوں والی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق بھی چوہدری مونس الہیٰ کو وفاق میں وزارت ملنے پر درپردہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر کسی مسئلہ پر تحریک انصاف کے اپنے اتحادیوں کے اختلافات شدت اختیار کرگئے اور اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آگئی تو تحریک انصاف حکومت کا بچنا تقریباً ناممکن ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button