صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی افواج کے ایران پر شدید حملے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر مزید حملوں کے اعلان کے بعد امریکی افواج نے مسلسل تیسری رات ایران پر شدید حملے کیے ہیں جس میں کئی اہداف کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔
امریکی فوج کے مطابق یہ حملے ایرانی افواج کو بھاری نقصان پہنچاتے رہیں گے، حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے ۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف تازہ فضائی کارروائی مکمل کرلی ہے، کارروائی 5 گھنٹے جاری رہی، فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایران کے چاہ بہار، بوشہر، کنارک، جاسک، ابو موسیٰ اور بندر عباس کے علاقوں میں موجود فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی افواج نے جدید اور انتہائی درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے،جن کے ذریعے ایرانی ساحلی دفاعی نظام،میزائل اور ڈرون تنصیبات اور بحری فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید حملوں کا اعلان
سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کامقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کےذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنےوالے تجارتی جہازوں اور عالمی بحری تجارت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
امریکی فوج نے مزید بتایاکہ اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں اور خطے میں پیدا ہونےوالی کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کےلیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے بوشہر کے مختلف علاقوں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے۔
