امریکا-ایران کشیدگی : خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر

امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جب کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے،جس سے عالمی سپلائی اور تجارت سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت میں منگل کو تقریباً 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ گزشتہ روز اس میں 9.6 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کےلیے برینٹ خام تیل کے سودے 84.91 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے،جو گزشتہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ماہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کےبعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی،تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کےبعد برینٹ خام تیل کی قیمت جنگ کے آغاز سے قبل کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد بڑھ چکی ہے۔
خیال رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر مسلسل تیسرے روز حملے کیے،جن کا مقصد ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔
صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی افواج کے ایران پر شدید حملے
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں دو آئل سپر ٹینکروں کو نشانہ بنایا اور امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
