پروفیسر وارث میر کے خاندان کی کہانی، حامد میر کی زبانی

سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے اپنے شجرۂ نسب اور آباؤ اجداد کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے خاندان کی بنیاد روحانیت اور جمہوریت پسندی پر استوار رہی ہے، اسی وجہ سے فوجی آمریتوں کے ادوار میں ان کے والد پروفیسر وارث میر کو انکے عوام دوست نظریات کی وجہ سے غدار قرار دے دیا گیا، حالانکہ وہ پاکستان کو علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے تصور کے مطابق ایک حقیقی جمہوریہ دیکھنا چاہتے تھے۔
حامد میر نے روزنامہ جنگ کے لیے ایک تحریر میں اپنی یادوں کا آغاز اپنے دادا میر عبدالعزیز سے کیا، جو معروف نعت گو شاعر اور استاد تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان بچپن کی یادیں آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں اور وہ جب بھی کوئی نعت یا حمد سنتے ہیں تو انہیں اپنے دادا جان یاد آ جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میر عبدالعزیز لاہور میں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے سیالکوٹ سے سفر کر کے آئے۔ برکت علی اسلامیہ ہال میں رات گئے تک مشاعرہ جاری رہا۔ رات زیادہ ہو جانے کے باعث انہوں نے گھر آنے کے بجائے دیگر شعرا کے ساتھ ہال ہی میں قیام کیا، سوتے وقت انہوں نے اپنے دیوان کو تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھ لیا۔ صبح نماز فجر کے وقت وہ بیدار ہوئے تو ان کا دیوان غائب تھا۔ حامد میر کے مطابق یہ دیوان بلکہ ان کے دادا کی زندگی بھر کی ذہنی تخلیق کا خزانہ تھا، جس میں فارسی، اردو اور پنجابی زبان میں لکھی گئی شاعری محفوظ تھی۔ بہت تلاش کے باوجود دیوان نہ مل سکا۔
بعد ازاں جب میر عبدالعزیز اپنے بیٹے پروفیسر وارث میر کے گھر پہنچے تو پورا خاندان پریشان ہو گیا۔ اس وقت حامد میر کم عمر تھے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر ایسی کون سی چیز گم ہو گئی ہے جس پر ان کے والد اس قدر افسردہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر وارث میر نے اپنے والد کے گمشدہ دیوان کی تلاش کے لیے بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے مختلف اخبارات میں اشتہارات دیے تاکہ اگر کسی کو دیوان ملے تو واپس کر دے۔ پاکستان ٹائمز سے وابستہ محمد ادریس کا موقف تھا کہ یہ ادبی چوری کا کیس ہے، اور ممکن ہے کوئی شاعر میر عبدالعزیز کی شاعری کو اپنے نام سے پیش کر دے۔ تاہم وارث میر نے انہیں بتایا کہ چونکہ دیوان میں زیادہ تر فارسی شاعری تھی، اس لیے چور کو شاید زیادہ فائدہ نہ ہو۔ اس کے باوجود تمام کوششیں ناکام رہیں اور میر عبدالعزیز کا دیوان کبھی برآمد نہ ہو سکا۔
حامد میر نے بتایا کہ 1978ء میں جب پروفیسر وارث میر اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے تو ان کے دادا لاہور آ کر ان کے ساتھ رہنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ میر عبدالعزیز صرف شاعر ہی نہیں بلکہ حکمت کے ماہر بھی تھے اور فی سبیل اللہ لوگوں کا علاج کرتے تھے۔ وہ جڑی بوٹیوں کی تلاش میں مختلف علاقوں کا رخ کرتے اور بعض اوقات حامد میر بھی ان کے ساتھ جاتے۔ حامد میر نے اپنے آبائی خاندان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ موسم گرما کی چھٹیوں میں ان کے تایا انور میر انہیں پاک بھارت سرحد کے قریب بڈیانہ کے گاؤں سدھار والی لے گئے، جہاں ان کے خاندان کے بہت سے لوگ آباد تھے۔ اسی گاؤں میں حضرت بابا کرم علی شاہ کا مزار بھی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پردادا امام دین میر مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے بانہال سے حضرت کرم علی شاہ کی خدمت میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔ بانہال سرینگر اور جموں کے درمیان واقع ایک تاریخی علاقہ ہے جہاں کشمیری زبان بولی جاتی ہے۔
حامد میر نے بتایا کہ امام دین میر کے خاندان کے کئی افراد حضرت کرم علی شاہ کے شاگرد تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے ان کا خاندان بانہال آتا جاتا رہا، لیکن حضرت کرم علی شاہ کی وفات کے بعد مستقل طور پر سدھار والی میں آباد ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پردادا کے والد کرم دین میر کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب امام دین میر کم سن تھے، جس کے بعد ان کی پرورش میر بخش میر نے کی، جو حضرت کرم علی شاہ کے مرید تھے۔ بعد ازاں امام دین میر کو بھی حضرت کرم علی شاہ کے سپرد کر دیا گیا۔ چونکہ وہ اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھے، اس لیے بانہال کی تمام جائیداد چھوڑ کر اپنے مرشد کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔
حامد میر کے مطابق امام دین میر نے اپنے تینوں بیٹوں عبدالعزیز میر، فیروز دین میر اور عبدالمجید میر کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے دادا میر عبدالعزیز فارسی اور عربی کے ممتاز عالم تھے، تاہم انہوں نے تدریس کا شعبہ اختیار کرنے کے ساتھ کاروبار بھی شروع کر لیا اور ایک بیکری قائم کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے دادا کو پہلوانی کا بھی بے حد شوق تھا اور وہ "عزیز پہلوان” کے نام سے جموں و کشمیر سے گوجرانوالہ تک معروف تھے۔
جب تحریک پاکستان نے زور پکڑا تو انہوں نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں میں قومی نظمیں پڑھنا شروع کر دیں۔ حامد میر نے بتایا کہ ان کے دادا نے اپنے چھوٹے بیٹے وارث میر کو بچپن ہی سے تعلیم کی طرف راغب کیا۔ وہ سکول جانے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے اور مسجد میں اذان بھی دیا کرتے تھے۔ بعد ازاں جب وارث میر مرے کالج سیالکوٹ میں داخل ہوئے تو اپنی ادبی صلاحیتوں کی وجہ سے جلد ہی مرے کالج میگزین کے ایڈیٹر بن گئے۔ اسی دوران انہوں نے ایک مضمون روزنامہ نوائے وقت کو بھیجا، جس سے متاثر ہو کر حمید نظامی نے انہیں ذاتی طور پر خط لکھ کر نوائے وقت میں ملازمت کی پیشکش کر دی۔ بعد ازاں وہ لاہور منتقل ہوئے، جہاں وہ جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت میں لیکچرار مقرر ہو گے۔
حامد میر نے اپنے خاندان کے روحانی پس منظر کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ ان کے خاندان اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے خاندان کا شیخ نورالدین ولی المعروف چرار شریف اور سائیں عبداللہ قادری سے گہرا روحانی تعلق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سائیں عبداللہ قادری کا مزار سیالکوٹ کے قریب اڈہ پسروریاں میں واقع ہے، جبکہ وہ گوجرانوالہ کے بزرگ خواجہ محمد عمر بخش قادری کے پہلے خلیفہ تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر جہانگیر تمیمی کی کتاب "اقبال، صاحبِ حال” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد محرم کے مہینے میں خواجہ محمد عمر بخش قادری کے مزار پر حاضری دیا کرتے تھے اور علامہ اقبال کی رسمِ بسم اللہ بھی انہی کی گود میں ادا ہوئی تھی۔ حضرت کرم علی شاہ کا بھی اسی روحانی سلسلے سے تعلق تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر وارث میر حضرت کرم علی شاہ، سائیں عبداللہ قادری، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری اور لاہور کے علاقے مزنگ میں حضرت سخی سرور کے مزارات پر بھی باقاعدگی سے حاضری دیا کرتے تھے اور اسی روحانی، علمی اور فکری ماحول نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
حامد میر کے مطابق ان کے والد پروفیسر وارث میر اسی خاندانی روایت کے زیر اثر پاکستان کو علامہ اقبال اور محمد علی جناح کے نظریات کے مطابق ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور آئینی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی سوچ کے باعث جب بھی ملک میں فوجی آمریت قائم ہوئی تو انہوں نے فوجی آمریت کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا۔ ان کے مطابق یہی وجہ تھی کہ فوجی آمروں نے تحریک پاکستان کے کارکن میر عبدالعزیز کے بیٹے وارث میر کو غدار قرار دے کر اپنے غیر آئینی اقدامات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔
حرمت ِ قلم پر جان قربان کرنیوالے وارث میر
حامد میر کے بقول ان کے والد کے انتقال کے بعد بھی ان پر غداری کے الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2020ء میں تحریک انصاف کی حکومت کے ایک وفاقی وزیر نے ایک بے فیض جرنیل کے حکم پر وارث میر کو غدار قرار دیا، جبکہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور کے نیو کیمپس کے قریب واقع وارث میر انڈر پاس کا نام ختم کر دیا۔ اس حرکت کے خلاف پنجاب اسمبلی اور سندھ اسمبلی نے متفقہ قراردادیں منظور کرتے ہوئے پروفیسر وارث میر پر لگائے گئے غداری کے الزامات کو مسترد کیا اور جمہوریت، آزادی اظہار اور آئین کی بالادستی کے لیے ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
حامد میر نے کہا انہیں فخر ہے کہ وہ تحریک پاکستان کے ایک کارکن، نعت گو شاعر اور علم و ادب کی خدمت کرنے والے میر عبدالعزیز کے پوتے ہیں، جبکہ وہ اس شخصیت کے بیٹے بھی ہیں جسے فوجی آمریتوں نے غدار قرار دیا، مگر جس نے پوری زندگی جمہوریت، آزادی اظہار اور آئین کی سربلندی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔
