شہباز کے وزیراعظم بننے کے بعد سے حمزہ غائب کیوں ہو گئے؟

 

 

 

شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد سے ان کے سیاسی جانشین سمجھے جانے والے حمزہ شہباز شریف عملی طور پر ملکی سیاست سے تقریباً غائب ہو گئے ہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب کی سیاست میں طویل عرصے تک مضبوط گرفت رکھنے، مسلم لیگ نون کے تنظیمی ڈھانچے کو سنبھالنے اور مستقبل کی قیادت کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جانے والے سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سیاسی منظرنامے میں غیر معمولی حد تک خاموش ہیں۔ وفاق اور پنجاب دونوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کے باوجود نہ وہ کسی اہم حکومتی ذمہ داری کا حصہ ہیں، نہ بڑے سیاسی فیصلوں میں ان کا کردار نمایاں نظر آتا ہے اور نہ ہی انتخابی مہمات میں ان کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔

 

یہ صورتحال سیاسی حلقوں میں مسلسل سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ آیا یہ خاموشی محض وقتی حکمت عملی ہے، اقتدار سے دوری کا نتیجہ ہے یا پھر مسلم لیگ (ن) کے اندر بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کی عکاس ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن 2024 کے بعد مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر وفاق اور پنجاب میں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ اس کے بود شہباز شریف وزیراعظم جبکہ مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب بن گئیں، مگر اسی دوران ایک ایسی شخصیت عملی سیاست سے تقریباً اوجھل ہو گئی جو برسوں تک شہباز شریف کی سیاسی جانشین سمجھی جاتی رہی۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی، تاہم حکومت بننے کے بعد انہیں نہ کوئی نمایاں حکومتی منصب ملا اور نہ ہی وہ فیصلہ سازی کے اہم عمل میں دکھائی دیے۔

 

نون لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق حکومت کی تشکیل کے بعد حمزہ شہباز کو وزیراعظم کے پبلک افیئرز یونٹ کا چیئرمین بنانے اور وفاقی وزیر کا درجہ دینے کی تجویز بھی زیر غور رہی۔ اس مقصد کے لیے لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں دفتر کی تیاری تک مکمل کر لی گئی تھی، تاہم یہ تقرری آخری مراحل میں پہنچ کر عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقرری کی حتمی منظوری مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے دینی تھی، جو تاحال سامنے نہیں آ سکی۔ اس دوران یہ اطلاع بھی آئی کہ حمزہ شہباز کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا صوبائی صدر بنانے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی اور تنظیمی حلقوں میں اس ممکنہ تقرری کو محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ پارٹی کے مستقبل کے سیاسی خدوخال متعین کرنے والا اہم اقدام قرار دیا جا رہا تھا، کیونکہ پنجاب مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا سب سے اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز نے نواز شریف کے سامنے پنجاب میں فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ ان کی اس تجویز کو پارٹی کے کئی سینئر رہنماؤں، خصوصاً خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ کی حمایت بھی حاصل رہی۔ دونوں رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ حمزہ شہباز صوبے میں پارٹی کو دوبارہ منظم اور متحرک بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم اس حمایت کے باوجود یہ معاملہ مسلسل تعطل کا شکار رہا اور اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔

 

سیاسی مبصرین کے مطابق اس تاخیر کی ایک بڑی وجہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اندر پائے جانے والے اختلافات اور مختلف آراء بھی بتائی جاتی ہیں۔ بعض اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز شریف فی الحال حمزہ شہباز کو پنجاب کی تنظیمی قیادت سونپنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کسی بھی رہنما کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقے اسے پارٹی کے اندر مستقبل کی قیادت اور طاقت کے توازن سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔

 

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ نواز شریف پنجاب کی تنظیمی قیادت میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کے خواہاں رہے ہیں۔ پنجاب کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر نئے تقرر کی بازگشت بھی کئی ماہ سے سنائی دیتی رہی، لیکن ابھی تک نہ رانا ثنا اللہ کی جگہ کسی نئے صوبائی صدر کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی احسن اقبال کے منصب سے متعلق کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے، جس سے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کا معاملہ بھی التوا کا شکار ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز موجودہ سیاسی صورتحال سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقتدار کی سیاست سے خود کو قدرے الگ رکھا ہوا ہے اور وہ کسی نئی سرکاری ذمہ داری کے لیے بھی آمادہ نہیں۔ اسی وجہ سے وہ پارٹی معاملات میں محدود دلچسپی لے رہے ہیں اور ان کی سیاسی سرگرمیاں بھی ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو چکی ہیں۔

 

اگرچہ حمزہ شہباز روزانہ کی بنیاد پر ماڈل ٹاؤن میں قائم مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ جاتے ہیں، پارٹی رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور کارکنوں سے ملاقاتیں بھی کرتے ہیں، تاہم وہ عوامی جلسوں، میڈیا پر بیانات، انتخابی مہمات اور بڑے سیاسی اجتماعات سے تقریباً مکمل طور پر دور ہیں۔ سیاسی ذرائع کے مطابق نہ انہیں گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں کوئی نمایاں کردار دیا گیا اور نہ ہی آزاد کشمیر کے انتخابات میں ان کی سرگرمی دکھائی دے رہی ہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پارٹی کی عملی سیاست میں ان کا کردار پہلے کے مقابلے میں محدود ہو چکا ہے۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں، جنہوں نے اپوزیشن لیڈر، وزیراعلیٰ پنجاب اور پارٹی کے تنظیمی معاملات میں اہم کردار ادا کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں، جب نواز شریف جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، حمزہ شہباز پاکستان میں رہ کر پارٹی کارکنوں سے مسلسل رابطے میں رہے، سیاسی دباؤ برداشت کیا اور قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی بقا اور کارکنوں کے حوصلے بلند رکھنے میں ان کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق وزارتِ اعلیٰ سے علیحدگی اور بعد ازاں مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے بعد پارٹی کے اندر سیاسی ترجیحات تبدیل ہو گئیں، جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز کی سرگرمیاں نمایاں طور پر محدود ہوتی چلی گئیں، جبکہ مریم نواز مسلم لیگ (ن) کی سب سے فعال اور بااختیار رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔ تاہم بعض مبصرین اس صورتحال کو صرف ناراضی یا سیاسی پسپائی قرار دینے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حمزہ شہباز جان بوجھ کر کم پروفائل رہتے ہوئے پارٹی کے اندرونی اختلافات سے خود کو دور رکھنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی مناسب سیاسی موقع پر دوبارہ متحرک کردار ادا کر سکیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے مختلف دھڑوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں حمزہ شہباز کی شخصیت ہمیشہ اہم رہی ہے۔ اگر وہ طویل عرصے تک عملی سیاست میں غیر فعال رہے تو اس کے اثرات نہ صرف پارٹی کی اندرونی تنظیم بلکہ پنجاب کی مجموعی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

اس کے باوجود ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حمزہ شہباز نے آج تک پارٹی قیادت یا حکومتی پالیسیوں کے خلاف کوئی عوامی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ وہ محدود سطح پر پارٹی سرگرمیوں میں شریک رہتے ہیں، جس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اگر اختلافات موجود بھی ہیں تو انہیں میڈیا یا عوامی سطح پر لانے کے بجائے خاموشی، صبر اور انتظار کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

نون لیگی سیاست میں حمزہ شہباز کا کردار محدود کیوں ہو گیا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں آزاد کشمیر کے انتخابات، مسلم لیگ (ن) کی تنظیمِ نو اور پنجاب میں پارٹی کے تنظیمی فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا حمزہ شہباز شریف دوبارہ پارٹی کی صفِ اول کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں یا شہباز شریف کے سیاسی جانشین سمجھے جانے والے اس رہنما کی موجودہ خاموشی مزید طویل ہو جاتی ہے۔ فی الحال ان کی خاموشی پاکستان کی سیاست کے ان اہم سوالات میں شامل ہے جن کے جواب کا انتظار نہ صرف سیاسی حلقے بلکہ خود مسلم لیگ (ن) کے کارکن بھی کر رہے ہیں۔

Back to top button