ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کردیا جبکہ پاکستان فیٹف کی مانیٹرنگ لسٹ میں رہے گا۔

فیٹف کے صدر ٹی راجا کمار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان 2018 سے گرے لسٹ میں تھا اور حکام کی جانب سے بڑی محنت کے بعد منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی فنڈنگ کے حوالے سے کمزور پر قابو پاتے ہوئے 34 نکات پر عمل درآمد مکمل کرلیا، ایف اے ٹی ایف پاکستان کو اس پیش رفت پر خیرمقدم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان اب منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے فنڈنگ پر مؤثر کام کر رہا ہے، ایف اے ٹی ایف کی ٹیم نے تصدیق کی کہ اصلاحات کی گئی ہیں اور اصلاحات جاری رکھنے کے لیے اعلیٰ سطح کی قابلیت اور عزم ہے، یہ اصلاحات ملک اور خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے اچھے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں مزید کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ٹی راجا کمار کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے پاکستان نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کے ریجنل شراکت دار ایشیا پیسفک گروپ سے تعاون جاری رکھے گا،میانمار کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے، جس کی وجہ گزشتہ ڈھائی برس میں انسداد دہشت گردی اور منی لانڈرنگ پر قابو پانے میں بڑے پیمانے پر حکمت عملی میں خامیاں پائی گئیں۔

ایف اے ٹی ایف کے دو روزہ اجلاس میں وفد کے ہمراہ پاکستان کی نمائندگی کرنیوالی وزیرمملکت برائے خارجہ نے ایف اے ٹی ایف کے اعلان کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 2018 اور 2021 کے دیے گئے تمام ایکشن پلان پر مکمل عمل کیا، ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا اور وائٹ لسٹ میں شامل کر لیا ہے،اس حوالے سے پاکستانی قوم طویل عرصے سے خوش خبری کا انتظار کر رہی تھی۔

انکا کہنا تھا میں گزشتہ دو دن سے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری اور آئی سی آر جی میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہوں، جس کا آج اختتام ہوا ہے، اجلاس کے دوران پاکستان میں دو ہفتے قبل ایف اے ٹی ایف کے آن سائٹ وزٹ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا، الحمد اللہ پاکستان کی چار سالہ مستقل اور پائیدار کوششوں کا اعتراف کیا گیا، پاکستان نے 2018 اور 2021 کے تمام ایکشن پلان پر مکمل عمل کر لیا ہے، لہٰذا ایف اے ٹی ایف نے متفقہ طور پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا اور وائٹ لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔

انہوں نےکہا ایف اے ٹی ایف نے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کو سراہا، پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں، یہ عمل تھوڑا غیرمعمولی تھا، پاکستان کو ایک وقت میں دو ایکشن پلان پر عمل کرنا پڑا، فیٹف نے 2018 اور جون 2021 میں جن اسٹریٹجک مسائل کی نشان دہی کی تھی، پاکستان نے 2021 کے ایکشن پلان پر وقت سے پہلے ہی عمل کر لیا تھا، جس سے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے تسلیم کیا گیا تھا۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ کام جاری رکھے گا تاکہ اے ایم ایل اور سی ایف ٹی کے نظام کو مزید بہتر کرسکے اور ہماری کامیابیاں مزید درست سمت میں جائیں،یہ پورے ملک کی کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا، مکمل سیاسی اتفاق رائے کے بغیر گرے لسٹ سے نکلنا ممکن نہیں ہوسکتا اور یہ اس بات کا اظہار ہے کہ اگر پاکستان بطور قوم متحد ہو کر کام کرے تو کوئی بھی مقصد حاصل کرسکتا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت خزانہ، پولیس، سی ٹی ڈی سمیت دیگر تمام اداروں نے کردارا دا کیا ہے ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹ میں شامل ہونے کا مطلب ہے کہ لوگ آپ کے ملک میں بغیر سوچے سرمایہ کاری کرسکتے ہیں، بغیر سوچے آپ کے ملک کے ساتھ تجارت کرسکتے ہیں اور یقیناً یہ بہت اچھی خبر ہے،پاکستان کا پچھلے چار سالوں میں کھٹن سفر رہا ہے، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی جانب سے 2 ورکنگ پلان 2018 اور 2021 میں ہمیں دیا گیا، ان دونوں ورکنگ پلان کے تقریبا 34 نکات تھے، جن پر پاکستان کو کام کرنا تھا۔

حنا رضا کھر کا کہنا تھا کہ ہمیں قانونی، انتظامی اور ادارہ جاتی تبدیلیاں کرنا پڑیں اور کیونکہ ہم گرے لسٹ میں آ گئے تھے، اس لیے ہمیں باقی ممالک سے بہت آگے نکلنا پڑا تاکہ ہم یہ بتا سکیں کہ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے تمام ایکشن پلان کو پورا کرنے کے لیے پاکستان پُرعزم ہے، اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف جو قانون سازی ہوئی، وہ آج پوری دنیا میں نمایاں ہوئی ہے، ہمارا یہ عزم ہے کہ جو فائدہ ہمیں حاصل ہوا ہے،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایک ملک کے علاوہ ہر ملک نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا، اور کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار سالوں میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ غیر معمولی ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا ہمارے عزم اور برسوں سے جاری مسلسل کوششوں کااظہار ہے،میں اپنی سول اور ملیٹری قیادت کو مبارک باد دوں گا جنہوں نے آج کی کامیابی کے لیے سخت محنت کی۔

شہباز شریف نےکہا کہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیموں اور تمام سیاسی جماعتوں کو ان کی کاؤشوں اور کردار پر مبارک دیتا ہوں کہ انہوں نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے متحد ہو کر کام کیا۔
وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر بیان میں قوم کو اس پیش رفت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان کے عوام کو مبارک ہو، پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سےباقاعدہ طور پر نکال دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس جون میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو تمام 34 نکات پر عمل پیرا پایا اور اس نے گرے لسٹ سے پاکستان کا نام خارج کرنے کے باضابطہ اعلان سے قبل اس کی تصدیق کرنے کے لیے اپنی ٹیم دورے پر بھیجنے کا فیصلہ کیا جو بالآخر اگست اور ستمبر میں ہوا،ایف اے ٹی ایف کے طے شدہ معیارات کی تکنیکی تعمیل کے لحاظ سے ایشیا پیسیفک گروپ نے رواں برس اگست میں ایف اے ٹی ایف کی 40 میں سے 38 تجاویز پر پاکستان کو عمل پیرا یا بڑی حد تک تعمیل کرنے والے ملک کے طور پر شمار کیا جس سے پاکستان ان تجاویز پرعمل پیرا ممالک میں سرفہرست آگیا۔

انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے حوالے سے ایف اے ٹی ایف/ایشیا پیسیفک گروپ کے ایکشن پلان کی مارچ 2022 کے آخر تک تکمیل آئی ایم ایف کا بھی مطلوبہ معیار تھا جسے جون میں معمولی تاخیر کے بعد بالآخر حاصل کرلیا گیا،حکومت نے آئی ایم ایف کو جون 2022 کے آخر تک تعمیراتی شعبے کے لیے ٹیکس ایمنسٹی پروگرام کے حوالے سے مالیاتی اداروں کے ذریعے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے کنٹرولز کے نفاذ کا جائزہ لینے اور ایشیا پیسیفک گروپ کے ایکشن پلان 2021 کے نفاذ کا وعدہ کیا ہے۔

Back to top button