اپنے بندے کو آرمی چیف بنانے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ ہر وزیر اعظم نیا آرمی چیف تعینات کرتے وقت یہی کوشش کرتا ہے کہ کسی وفادار کو فوجی سربراہ بنا دیا جائے۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود کہ ہر وزیراعظم نے اپنا وفادار ڈھونڈ کر آرمی چیف لگایا، اس وفادار نے یا تو اپنے محسن کو پھانسی کے پھندے تک پہنچایا اور یا پھر دہشت گرد قرار دلوا کر جلا وطن کروایا۔ لیکن پھر بھی حکمرانوں کو اپنا بندہ لگانے کا ایسا چسکا پڑا ہوا ہے کہ یہ باز نہیں آتے۔ کلاسراکا کہنا ہے کہ اب عمران خان اسلام آباد کو جو پانی پت کا میدان بنانے جارہے ہیں اسکے پیچھے بھی یہی کوشش ہے کہ نومبر میں جنرل باجوہ کی جگہ اپنا بندہ نیا آرمی چیف لگانے کی کوشش کی جائے۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم اپنی مرضی کی تعیناتی کریں گے جبکہ عمران خان اپنے ساتھ اپنے وفاداروں کا جتھہ لے کر پانی پت کی طرف مارچ کا اعلان کرنے والا ہے کیونکہ موصوف کو حکومت کا لگایا ہوا کوئی بھی آرمی چیف قابل قبول نہیں ہو گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ ایک معمول کی سرکاری تعیناتی ہمارے سیاستدانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ شریف ہوں یا عمران، یہ لوگ ماضی میں انہی راستوں سے اقتدار میں آتے رہے ہیں۔ یہ لوگ نہ تو عوامی سپورٹ کو کافی سمجھتے ہیں اور نہ ہی عوام کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ وہ تن تنہا انہیں مسند اقتدار تک لے جائیں گے۔ ٹھیک ہے دنیا کو دکھانے کے لیے عوام بھی ضروری ہیں لیکن اس سے زیادہ ضروری ’اپنا بندہ ٗلانا ہوتا ہے جس کیلئے بہت جلد اسلام آباد کا شہر پانی پت کا میدان بننے والا ہے۔سوال یہ ہے اگر عمران خان کو مرضی کا الیکشن یا مرضی کا بندہ نہیں ملا تو وہ کیا کر یں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ نومبر گزر گیا اور نئی تعیناتی بھی ہوگئی تو پھر کیا ہوگا؟
رؤف کلاسرا کے بقول عمران کا پانی پت کی طرف مارچ انہیں نقصان پہنچائےگا۔ موجودہ حکومت تو چاہے گی کہ اسے 12اکتوبر 1999ء کی طرح ہٹا دیا جائےتا کہ وہ دوباره مقتدرہ مخالف بیانیہ اختیار کر کے اپنا گرتا ووٹ بینک ریکور کر لے۔ ریاض پیرزادہ اور خواجہ آصف کی اسمبلی میں تقریروں سے یہی تاثر ملتا ہے کہ شریف بھی یہی چاہتے ہیں۔ ان کے پاس اور کوئی حل نہیں کہ وہ دوبارہ 12 اکتوبر 1999ء کی پوزیشن پر چلے جائیں لیکن اگر پانی پت کا میدان زیادہ گرم ہو گیا تو کون جانتا ہے کہ پھر کوئی نیا سیٹ اپ بن جاۓ اور ان سیاستدانوں کی لڑائی سے کچھ عرصہ کے لیے جان چھڑا کر سب کو گھر بھیج دیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا فائدہ موجودہ حکومت کو ہوگا اور سب سے بڑا نقصان عمران کو ہوگا جو خود کو اگلا وزیراعظم سمجھتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت شریفوں سے زیادہ عمران خان کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ شریفس پاور لے کر پھنس چکے عمران خان پاور لینے کے لیے بے چین ہور ہے ہیں اور ان سے صبر نہیں ہو پارہا اور یہیں وہ نقصان اٹھائیں گے۔
