نوازشریف کی طرح عمران بھی پارٹی سربراہی سے فارغ


سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشنر بن کر پہلے انہیں نااہل کروانے اور پھر پارٹی صدارت سے محروم کرانے والے عمران خان اب خود الیکشن کمیشن کے ہاتھوں نااہل قرار پانے کے بعد پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے بھی فارغ ہونے جا رہے ہیں کیونکہ جو شخص صادق اور امین نہیں رہتا وہ پارٹی صدارت کا بھی اہل نہیں رہتا۔ ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی بالآخر عمران خان کی جگہ نئے چیئرمین بن جائیں گے۔

یاد رہے کہ عمران خان ماضی میں صادق اور امین نہ رہنے پر نا اہل قرار دیے جانے کے قانون کی وکالت کرتے رہے ہیں اور یہ بھی فرما چکے ہیں کہ اگر اسکے تحت وہ بھی نااہل ہو جائیں تو انہیں افسوس نہیں ہو گا کیونکہ جو شخص صادق اور امین نہیں اسے عوام کی نمائندگی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ لیکن موصوف یہ گفتگو تب کیا کرتے تھے جب انہوں نے خود سپریم کورٹ میں نواز شریف کی نااہلی کے لیے پٹیشن دائر کر رکھی تھی۔ اب عمران خان کی نااہلی پر ان کی جماعت نے شور ڈال دیا ہے کہ انہیں ٹیکنیکلی ناک آؤٹ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ رونا روتے ہوئے خان کے عمرانڈوز بھول گئے کہ انہوں نے خود آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست ڈال کر پہلے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل کروایا تھا اور پھر پارٹی صدارت سے محروم کروایا تھا۔

قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے پارٹی کی صدارت سے بھی محروم ہونے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں وفاقی کابینہ کا حصہ بننے والے عرفان قادر کا کہنا ہے کہ عمران خان آئین کی شق 63(1)ایف کی رو سے ’صادق و امین‘ نہیں رہے۔ ایسے میں موصوف پارٹی کی سربراہی سے بھی فارغ ہو جائیں گے جیسا کہ نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا۔ لیکن ایسا کروانے کیلئے کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنا ہو گی۔

یاد رہے کہ فروری 2018 میں عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کی دفعہ 62، 63 پر پورا نہ اترنے والا نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کی صدارت نہیں کرسکتا۔ فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف مسلم لیگ نواز کی صدارت کے لیے نااہل ہوگئے تھے جنہیں پاناما کیس کے فیصلے میں آئین کی دفعہ 62، 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔ تب کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی شق 203 اور232 کو آرٹیکل 62 اور63 اے کے ساتھ پڑھا جائے گا، آرٹیکل 62 اور63 کے تحت اہلیت نہ رکھنے والا شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا۔ ایسا شخص آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی سربراہ یا کسی حیثیت میں کام نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے بطور مسلم لیگ نواز کے صدر تمام اقدامات، احکامات اور ہدایات کالعدم قرار دی گئیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف کے 28 جولائی 2017 کی نااہلی کے بعد بطور پارٹی سربراہ تمام احکامات کالعدم قرار دے دیے گئے جبکہ ان کی طرف سے بطور پارٹی سربراہ جاری دستاویزات بھی کالعدم دی گئیں۔ سپریم کورٹ نے تب یہ حکم بھی دیا کہ الیکشن کمیشن نواز شریف کا نام بطور پارٹی صدر مسلم لیگ ن ریکارڈ سے ہٹا دے۔ تاہم اب عمران خان اپنے ہی بچھائے ہوئے جال کی زد میں آ گئے ہیں۔ ایسے میں قوی امکان ہے کہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی عمران کی جگہ نئے چیئرمین بن جائیں گے۔

Back to top button