سینئرترین جرنیل کو آرمی چیف تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ


جنرل قمر باجوہ کی جانب سے مزید توسیع نہ لینے کے واضح اعلان کے بعد پاک فوج کے سینئر ترین جرنیل کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ ہو گیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر نہایت وضاحت کے ساتھ یہ اعلان کر دیا ہے کہ اب وہ مزید ایکسٹینشن نہیں لیں گے اور پانچ ہفتوں بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ میں اپنے ایکسٹینشن نہ لینے کے عزم پر قائم ہوں اور نئے آرمی چیف کا اعلان اگلے چند ہفتوں میں کر دیا جائے گا۔ جنرل باجوہ کے اس اعلان سے چند گھنٹے پہلے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ بیان دیا تھا کہ سینئر ترین جرنیل کو نیا آرمی چیف مقرر کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ دو ہفتے پہلے بھی واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا تھا کہ وہ مزید توسیع نہیں لیں گے اور اپنے وعدے کے مطابق نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

جنرل باجوہ کے اس اعلان سے توسیع کی ان افواہوں کا بھی خاتمہ ہو گیا جو آرمی چیف کی عمران خان سے ایوان صدر میں ایک خفیہ ملاقات کے بعد اڑنا شروع ہوئی تھیں۔ اس ملاقات کے بعد عمران نے مطالبہ کیا تھا کہ اگلے آرمی چیف کا انتخاب اگلے الیکشن کے انعقاد کے بعد نئی حکومت کرے اور تب تک جنرل قمر باجوہ کو بطور آرمی چیف برقرار رکھا جائے۔ عمران کی اس تجویز کے بعد عسکری حلقوں میں آرمی چیف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ انہوں نے فوج کے ادارے کو گالیاں دینے والے شخص کے ساتھ خفیہ ملاقات کیوں کی اور اس حوالے سے ادارے کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے جنرل باجوہ کو مزید توسیع دینے کا ایک فیصد چانس بھی تھا تو وہ عمران کی جانب سے آنے والی ایکسٹینشن کی تجویز کے بعد مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا اور آرمی چیف کو بھی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ کچھ حکومتی حلقے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ کی جانب سے عمران سے ملاقات کا بنیادی مقصد حکومت پر ایک اور توسیع کے لیے دباؤ ڈالنا تھا لیکن حکومت اور اپوزیشن کا متفقہ امیدوار بننے کی یہ کوشش الٹی پڑ گئی۔

جنرل باجوہ کے ریٹائرمنٹ کے حتمی اعلان کے بعد اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی جگہ کونسا جرنیل نیا آرمی چیف بنے گا؟ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ جس جرنیل کو اپنی جگہ دیکھنا چاہتے ہیں وہ کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد ہیں، لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں چکوال کنکشن کی وجہ سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور عمران خان کے دست راست لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا یار غار مانا جاتا ہے، لہذا یہ خدشہ موجود ہے کہ اگر ساحر شمشاد کو آرمی چیف لگایا گیا تو فوج کو غیر سیاسی کرنے کا عمل ریورس ہو جائے گا اور حکومت کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو جائے گا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ساحر شمشاد دراصل فوج میں اس دھڑے کی نمائندگی کرتے ہیں جسے سیاست کا ٹھرک ہے اور جس نے فوج اور آئی ایس آئی کو سیاست کی دلدل میں پھنسایا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس دھڑے سے تعلق رکھنے والے تین اہم ترین کردار آئی ایس آئی کے سابقہ سربراہ رہے ہیں جن میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا، لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے دس برس میں صرف ایک آئی ایس آئی چیف ایسا آیا تھا جو سیاست سے دور رہا اور جس نے فوج کے ادارے کو بھی سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ اس جرنیل کا نام لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر تھا جنہیں ظہیر الاسلام کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئی ایس آئی کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ابھی انہیں تعینات ہوئے نو ماہ ہی ہوئے تھے کہ عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی فیض آباد دھرنے کے ماسٹر مائنڈ فیض حمید کو انکی جگہ نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ عاصم منیر نے عمران خان کو خاتون اول کے خاندان کی کرپشن کے حوالے سے آگاہ کیا تھا جس پر وہ ناراض ہو گئے اور انہیں فوری طور پر فارغ کروا دیا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر ہیں اور ان کے آرمی چیف بننے کا امکان بھی موجود ہے۔

آرمی چیف کی تقرری آئین کے آرٹیکل 243 کے سیکشن تین کے مطابق صدر مملکت، وزیر اعظم کی سفارش پر کرتا ہے۔‎عام طور پر جی ایچ کیو چار سے پانچ سب سے سینئر لیفٹیننٹ جنرلز کے ناموں کی فہرست اور ان کی تفصیلات وزارت دفاع کو بھیجتا ہے، جس کے بعد یہ لسٹ وزیر اعظم کی میز پر پہنچتی ہے جو صدر سے مشاورت کے بعد اس عہدے پر تعیناتی کرتے ہیں، اس معاملے پر مزید غور و خوض کے لیے اگر وزیر اعظم چاہیں تو کابینہ کے سامنے بھی یہ معاملہ زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے اور وزیراعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ غیر رسمی مشاورت کر سکتے ہیں۔پاکستانی فوج کے ایک سابق سینئر افسر کے مطابق فوج میں یہ قانون تو نہیں تاہم روایت ضرور ہے کہ فور سٹار جنرل یعنی آرمی چیف یا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر ترقی پانے والے افسران بطور لیفٹیننٹ جنرل کمانڈ اور سٹاف دونوں فرائض سر انجام دیتے ہیں۔

نومبر 2022 میں اگر وزیر اعظم شہباز شریف سنیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کا انتخاب کرتے ہیں تو موجودہ فوجی سربراہ کی ریٹائرمنٹ کے وقت 76 ویں لانگ کورس کے افسران فوج میں سب سے سینئر ہیں۔76ویں لانگ کورس میں آج سینئر ترین افسر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ہیں۔ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے دو روز پہلے 27 نومبر کو انکی ریٹائرمنٹ طے ہے لیکن ان کا نام بھی ان جرنیلوں کی لسٹ میں شامل ہو گا جو آرمی چیف کے ممکنہ امیدوار ہوں گے۔ عاصم منیر کی بطور تھری سٹار تعیناتی تو ستمبر 2018 میں ہو گئی تھی تاہم انھوں نے اگلے دو ماہ رینک نہیں لگایا تھا کیونکہ انہیں جس جرنیل کی جگہ آرمی چیف لگایا گیا تھا اس کی ریٹائرمنٹ میں دو ماہ باقی تھے۔ اس لیے ان کی چار سالہ مدت ملازمت 27 نومبر کو یعنی موجود آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن پہلے پوری ہوگی۔

عسکری ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر آرمی چیف بھی لگ سکتے ہیں اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بھی تعینات ہو سکتے ہیں کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا کی ریٹائرمنٹ کے دن وہ حاضر سروس ہوں گے۔ لیکن چونکہ آرمی چیف کے امیدواروں کی سنیارٹی لسٹ جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے کچھ ہفتے پہلے وزیر اعظم جانی ہے لہٰذا اس میں سید عاصم منیر احمد شاہ کا نام لازمی شامل ہوگا۔

عاصم منیر کے بعد 76 ویں لانگ کورس میں دوسرا نام کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا ہے۔ بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے اظہر عباس سینیارٹی میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ وہ اس وقت فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک یعنی چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر تعینات ہیں۔ اگرچہ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود سینیارٹی میں چوتھے نمبر پر ہیں مگر وہ بھی ایک مضبوط کیریئر کے حامل ہیں۔ نعمان اس وقت نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ ہیں۔ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر اس وقت غالبا ًخاموش ترین طبیعت کے افسر کے طور پر معروف لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر ہیں جو کشمیری برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت کور کمانڈر گوجرانوالہ ہیں۔ آرٹلری سے تعلق رکھنے والے عامر سابق صدر آصف زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہے ہیں۔ سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر ہین جنکا تعلق فرنٹیئر فورس رجمنٹ سے ہے اور اس وقت وہ کور کمانڈر ملتان ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس پبلک کرنے والے انڈی شیل نامی ہیکر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کے قریب ترین جرنیل ہیں اور مسلسل ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔

Back to top button