اینٹی اسٹیبلشمینٹ کاکڑ کی پراسرار موت مشکوک ہو گئی

ہر آمر کے خلاف جدوجہد کرنے والے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر محمد عثمان کاکڑ کی پراسرار موت نے معاملے کو مشکوک بنا دیا ہے اور ان کے گھر والوں نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ انکی موت قدرتی نہیں بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ عثمان کاکڑ کو گھر میں برین ہیمرج ہوا جس کے بعد وہ گر پڑے اور ان کے سر میں شدید چوٹ آئی جس سے بعد ازاں ان کی موت ہو گئی۔ تاہم ان کے بڑے بیٹے خوشحال خان کاکڑ کا کہنا ہے کہ ان کے والد واقعے کے وقت گھر پر اکیلے تھے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کم از کم دو افراد نے حملہ کیا جس کے دوران ان کے سر اور پاوں پر کلہاڑی کے وار کیے گے جو بعد ازاں انکی موت کا باعث بنے۔ کاکڑ کے بیٹے کا کہنا تھا کہ انکے والد کے سر اور پاؤں پر گہرے زخم کے نشانات ہیں جنکا برین ہیمبرج اٹیک سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ یاد رہے کہ عثمان کاکڑ کی عمر صرف 60 برس تھی اور وہ بالکل صحت مند تھے۔
یاد رہے کہ سینٹ میں اپنے الوداعی خطاب کے دوران عثمان کاکڑ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں ان کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کی وجہ سے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ کاکڑ کی وفات کے اعلان کے فوراً بعد سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مرتضی کامران نے مطالبہ کیا کہ انکے ساتھی کی اچانک پراسرار موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کروائی جائیں چونکہ ان کے خاندان کے افراد یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ایک بھلا چنگا شخص اچانک گر کر اتنا زخمی ہو کی جان سے ہی چلا جائے۔ مرتضی کامران نے کہا کہ کاکڑ کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ موقف سے ہم سب واقف ہیں اس لئے خاندان کی جانب سے سے خدشات کے اظہار کے بعد انکی اچانک موت کی تحقیقات کے لیے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے ان کی وفات پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
افغانستان کے صدارتی محل سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر اشرف غنی نے عثمان کاکڑ کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ‘عثمان خان کاکڑ افغان سرزمین کے زیرک سیاست دان اور امن کے خواہاں تھے۔ وہ افغان امن عمل کے حمایتی اور افغانستان میں بیرونی مداخلت کے سخت مخالف تھے۔’ اعلامیے کے مطابق عثمان خان کاکڑ ہر قسم کے تشدد، ظلم اور جبر کے خلاف اپنے مظلوم اور محکوم عوام کی آواز تھے اور ان کی موت افغان سرزمین اور عوام کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ لہازا افغان حکومت اور عوام پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور ان کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔‘
خیال رہے کہ عثمان کاکڑ کو 17 جون کو شہباز ٹاﺅن کوئٹہ میں واقع ان کے گھر سے بے ہوشی کی حالت میں ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اس وقت بتایا تھا کہ انھیں گھر پر اچانک دورہ پڑا ہے جس کے باعث وہ گرے اور ان کے سر پر چوٹ آئی۔ کیونکہ واقعے کے وقت وہ گھر میں اکیلے تھے اس لئے کئی گھنٹے تک ان ان کی حالت کے بارے میں کسی کو پتہ نہ چل سکا۔ تاہم ان کے قریبی رشتہ دار اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری محمد یوسف خان کاکڑ نے بتایا کہ گھر میں بے ہوش ہونے سے پہلے عثمان کاکڑ مکمل صحت مند تھے۔ انھوں نے کہا کہ کاکڑ 17 جون کو تین بجے جناح روڈ پر واقع پشتون خوامیپ پارٹی کے دفتر سے گھر گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جو ذاتی محافظ تھا وہ عثمان کاکڑ کے گھر پہنچنے کے بعد واپس پارٹی دفتر آ گیا تھا جس کے بعد یہ خبر آئی کہ کہ وہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ عثمان کاکڑ کو بے ہوشی کی حالت میں کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کے دماغ کا آپریشن کیا تھا لیکن وہ ہوش میں نہیں آئے تھے۔ انھیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ حکومت نے علاج کے لیے کراچی منتقل کیا تھا۔
عثمان کاکڑ ایک عوامی سیاسی رہنما تھے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف کوئٹہ میں ہسپتال کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہی بلکہ کراچی کے جس نجی ہسپتال میں وہ زیر علاج تھے اس ہسپتال کے باہر بھی پشتونخوامیپ کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ جب ان کے رشتہ دار یوسف خان کاکڑ نے کراچی میں ان کے موت کا اعلان کیا تو ہسپتال کے باہر کارکن زار و قطار رونے لگے۔ کوئٹہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی ان کی موت کی خبر سن کر لوگ رنجیدہ ہوئے۔
پشتونخوا میپ کے رہنما یوسف خان کاکڑ نے کہا کہ عثمان کاکڑ ایک بہادر سیاسی کارکن اور رہنما تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جسے غلط سمجھتے تھے ببانگ دہل اس کو غلط کہتے تھے اور جو لوگ اس غلط کام کے پیچھے تھے وہ ان کا نام بھی لیتے تھے جن میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے نام بھی ہوتے تھے۔انھوں نے سینیٹ میں کاکڑ کے الوداعی خطاب کی ایک ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ واضح طور پر کہا تھا کہ انھیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس ویڈیو میں عثمان کاکڑ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں ایک ذاتی بات کرنا چاہتا ہوں جو میں نے چھ سال میں نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پر سخت دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ ہم جمہوریت اور اپنے نظریات سے دستبردار ہو جائیں، قوموں کی بات کرنا چھوڑ دیں، پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرنا چھوڑ دیں اور جو غیر جمہوری قوتیں ہیں ان پر تنقید کرنا بند کر دیں۔’
عثمان کاکڑ نے کہا تھا ‘مجھے یہ پیغامات مل رہے ہیں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔ اگر مجھے کچھ ہوا، میرے بچوں کو کچھ ہوا اور میرے خاندان کو کچھ ہوا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ مجھے میرے نظریات، جمہوریت، اپنی قوم اور پارلیمنٹ کی بالادستی زیادہ عزیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر بھی میں یہ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ مجھے یا میرے خاندان کو اگر کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار دو انٹیلی جینس ادارے ہوں گے، میں یہ اس لیے ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں تاکہ ایسا کوئی واقعہ گم کھاتے میں نہ جائے۔’
یوسف خان کاکڑ کا کہنا تھا کہ جس وقت عثمان کاکڑ زخمی ہوئے تب گھر میں ان کی ایک 11 سالہ بچی کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ عثمان کاکڑ گھر کے نچلے حصے میں تھے اور بچی بھی اس حصے میں تھی۔ یوسف کاکڑ نے بتایا کہ جب عثمان اپنے گھر کے ایک کمرے میں آرام کرنے گئے تو ان کی بچی ان کے پاس موجود نہیں تھی۔ انھوں نے دعوی کیا کہ اس دوران باہر سے گھر کے اندر داخل ہونے والے لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور انہیں زخمی کر دیا۔ لہازا عثمان کاکڑ کی موت طبعی نہیں ہے۔
دوسری جانب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک اعلامیے میں عثمان کاکڑ کے لیے ‘شہید’ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ عثمان کاکڑ بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے مسلم باغ میں سنہ 1961 پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے معروف اور بڑے قبیلے کاکڑ سے تھا۔میٹرک کوئٹہ میں اسلامیہ اسکول سے کرنے کے بعد انہوں نے بھاولپور سے انجنیئرنگ میں ڈپلوما حاصل کیا۔ سائنس کالج سے بی ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے ایم اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں لا کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی بھی کیا۔ زمانہ طالعلمی سے ہی وہ پشتون قوم پرست طالب علم تنظیم پشتونخوا ملی اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن سے وابستہ ہوئے۔ وہ تنظیم کے مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ سنہ 1987 میں پشاور میں ایک بڑی کانفرنس میں تنظیم کے سیکریٹری اول یعنی سربراہ منتخب ہوئے۔
عثمان کاکڑ سابق آمر ضیاءالحق کے دور میں پابندیوں کے باعث ترقی پسند طلبا کی ملک گیر الائنس پاکستان پروگریسو الائنس کے پلیٹ فارم سے بھی متحرک رہے۔
1986 میں طلبا سیاست سے فراغت کے بعد انھوں نے باقاعدہ طور پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔پارٹی میں فعال کردار کی وجہ سے محمد عثمان کاکڑ کو پارٹی کا صوبائی صدر منتخب کیا گیا اور گذشتہ طویل عرصے سے پارٹی کے صوبائی صدر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیتے رہے۔
پارٹی کا صوبائی صدر ہونے کے ساتھ ساتھ وہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ عثمان کاکڑ سنہ 2015 میں پشتونخوا میپ کے ٹکٹ پر بلوچستان سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔عثمان کاکڑ نہ صرف اپنی پارٹی کی سطح پر بلکہ محکوم اقوام کی تحریک (پونم) اور ایم آرڈی سمیت دیگر تحریکوں میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ایک بیان کے مطابق ان کی میت 22 جو کو کراچی سے کوئٹہ منتقل کی جائے گی اور 23 جون کو ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے مسلم باغ میں کی جائے گی۔
