ایک بھارتی نے پاکستانی جرنیل کو تحفہ کیوں دیا؟

https://youtu.be/4HsIkM2WV4Q
پینڈورا پیپرلیکس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے ایک مشہور فلمی ڈائریکٹر آصف اکبر کے بیٹے نے ایک تھری اسٹار پاکستانی جنرل شفاعت علی شاہ کی اہلیہ کو اپنی آف شور کمپنی کے ذریعے لندن میں ایک لگژری اپارٹمنٹ منتقل کیا تھا۔ پنڈورا پیپرز جاری کرنے والے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس یا آئی سی آئی جے کی رپورٹ کے مطابق جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ کی اہلیہ نے 2017 میں آف شور ٹرانزیکشن کے ذریعے لندن میں 1.2ملین ڈالر کا اپارٹمنٹ حاصل کیا۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ یہ پراپرٹی لیفٹیننٹ جنرل شفاعت اللہ شاہ کی اہلیہ کو اکبر آصف کی ملکیت میں شامل آف شور کمپنی کے ذریعے منتقل کی گئی۔
یاد رہے کہ بھارت کے معروف فلم ڈائریکٹر آصف اکبر کے بیٹے خود بھی ایک کاروباری شخصیت ہیں جن کے لندن اور دبئی میں ریسٹورنٹس ہیں۔ آئی سی آئی جے کی رپورٹ کے مطابق دستاویزات سے پتہ چلا کہ بھارتی فلم ڈائریکٹر آصف کی آف شور کمپنیوں کی ملکیتی کروڑوں ڈالرز کی جائیدادیں ہیں۔ انہی کمپنیوں میں سے برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی طلحہ لمیٹڈ کے ذریعے اکبر آصف نے لندن میں اپنا ملکیتی ایک اپارٹمنٹ لیفٹیننٹ جنرل شفاعت شاہ کی اہلیہ کے نام منتقل کیا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کینیری وارف فنانشل ضلعے میں واقع اپارٹمنٹ 2006 میں خریدا گیا، اگلے برس اکبر آصف نے اس کمپنی کی ملکیت لیفٹیننٹ جنرل شاہ کی اہلیہ کو منتقل کردیا۔
دلچسپ طور پر تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اکبر کی بہن، حنا اکبر ‘اقبال مرچی کی بیوہ، ایک منظم کرائم گروپ ڈی کمپنی کی سنیئر رکن ہیں’۔ اس وقت اقبال مرچی بھارت کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل تھے جنکا انتقال 2013 میں ہوا تھا۔ آئی سی آئی جے کی رپورٹ کے مطابق شفاعت شاہ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ لندن کے اس اپارٹمنٹ کی خریداری انہوں نے ایک سابق فوجی ساتھی کے ذریعے کی تب وہ لندن میں رئیل اسٹیٹ کمپنی کے لیے بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے تھے۔ انکا کہنا تھا کہ یہ پراپرٹی انہوں نے کسی ذاتی تعلق کے ذریعے نہیں خریدی تھی۔ انہوں نے کہا کہ فلیٹ اہلیہ کے نام پر اس لیے خریدا گیا کیونکہ میری ساری جائیداد اپنی اہلیہ کے نام پر ہے۔ ریٹائرڈ جنرل نے کہا کہ ان کی اہلیہ نے اکبر آصف سے کبھی ملاقات نہیں کی اور میں صرف ایک دفعہ ان سے ملا جب میں پرویز مشرف کا معاون تھا۔ شفاعت شاہ نے انکشاف کیا کہ ڈورچیسٹر ہوٹل کی راہداریوں میں ان کی یہ ملاقات تب ہوئی جب اکبر آصف اپنے والد کی فلم ریلیز کرنا چاہتے تھے اور وہ پرویز مشرف کی اہلیہ کے بال بنوانے وہاں آئے تھے۔ آئی سی آئی جے کی رپورٹ کے مطابق اکبر آصف نے اس ملاقات میں مشرف سے کہا کہ وہ ان کے والد کی فلم پاکستان میں ریلیز کرنے کی اجازت دیں، جہاں تب بھارتی فلموں پر پابندی تھی۔ پرویز مشرف نے یقین دہانی کروائی اور بعد میں پابندی ہٹا دی۔
آئی سی آئی جے کی رپورٹ مذید بتاتی ہے کہ ایک سابق سینیئر فوجی عہدیدار میجر جنرل (ریٹائرڈ) نصرت نعیم، جو ایک وقت میں آئی ایس آئی میں ڈائریکٹر جنرل کاؤنٹر انٹیلجنس بھی تھے، ایک بی وی آئی کمپنی افغان آئل اینڈ گیس لمیٹڈ کے مالک تھے جو ان کی ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصہ بعد 2009 میں رجسٹرڈ ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیں نے ایک موقع پر نصرت نعیم کے خلاف سترہ لاکھ ڈالر سے ایک سٹیل مل خریدنے کی کوشش سے وابستہ مبینہ فراڈ کیس شروع کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ لیخن بعد ازاں یہ کیس ختم کر دیا گیا تھا۔ نصرت نعیم نے اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ 2009 میں انھوں نے ایک افغان آئل اینڈ گیس کمپنی نامی آف شور کمپنی الٹرا ونٹرائزڈ ڈیزل بیچنے کے لیے قائم کی تھی۔ اس کمپنی کے ذریعے انھوں نے مزید کوئی کام نہیں کیا اور اسے اسی برس بند کر دیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کمپنی انھوں نے افغانستان میں الٹر ونٹرائزڈ ڈیزل کی پہلی کھیپ بھجوانے کے بعد قائم کی تھی کیونکہ افغانستان میں موجود کمپنی نے ان سے مستقبل میں مزید کاروبار کرنے کا کہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس کاروبار میں صرف چار ٹینکر افغانستان بھجوائے تھے جس سے صرف تین لاکھ روپے کمائے اور تمام اخراجات کے بعد ان کے پاس صرف 80 ہزار روپے منافع آیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ وہ دور تھا جب افعانستان میں سکیورٹی صورتحال شدید خراب تھی اور ٹینکروں کی سکیورٹی اور بروقت پہنچنے میں مشکلات تھیں جس کے باعث انھوں نے مزید اس کمپنی کے ذریعے یہ کام کرنے کا فیصلہ ترک کر دیا۔ جب ان سے پنڈورا پیپرز میں 1.7 ملین ڈالرز کی سٹیل مل خریدنے کے الزام اور بعدازاں اس کیس کے ڈراپ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے عدالت میں ہوتے ہیں۔
آئی سی آئی جے کے تفتیش کاروں کے مطابق پاکستان ائیر فورس کے سابق سربراہ عباس خٹک کے دو بیٹوں احد خٹک اور عمر خٹک نے 2010 میں برٹش ورجن جزائر میں یہ کہہ کر ایک کمپنی رجسٹر کی تھی کہ وہ اپنی ‘خاندانی کاروبار کی کمائی’ سے سٹاک، بانڈز، میوچویل فنڈ اور ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ آئی سی آئی جے نے ان سے رد عمل کے لیے رابطہ کیا لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

Back to top button