ایک ہزار میں سے ایک میں کورونا وائرس ویکسین کا معمولی ردعمل سامنے آیا

اسلام آباد میں جہاں 19 ہزار سے زائد افراد کو کورونا ویکسین لگائے گئے ہیں ان میں سے ایک ہزار میں سے ایک میں حفاظتی ٹیکے لگنے کے بعد معمولی رد عمل سامنے آئے تاہم اموات یا اسپتال میں داخل ہونے کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
مزید یہ کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ویکسین کے تقریباً 160 ڈوزز ضائع ہوچکے ہیں۔ یہ ویکسین پورے شہر میں 14 بالغوں کے ویکسینیشن مراکز (اے وی سی) میں دی جارہی ہے۔ مائکرو بائیوولوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر جاوید عثمان نے کہا کہ طبی اصطلاح میں ویکسین اور دوائی کے رد عمل کو ‘انافیلیکٹک ری ایکشن’ کہا جاتا ہے اور ہزار میں سے ایک کیس معمول کی بات ہے۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 19 ہزار 625 ہیلتھ کیئر ورکرز (ایچ سی ڈبلیوز) اور سینئر شہریوں کو کورونا ویکسین لگائے گئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے 2 فروری کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کیا تھا اور اس کے اگلے روز سے ہی ملک بھر میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا تھا۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 60 سال سے زائد عمر کے افراد کےلیے پاکستان میں دستیاب واحد ویکسین سائنوفارم کے استعمال کی اجازت دی تھی اور 10 مارچ سے اسے لگانے کا کام شروع کردیا گیا تھا۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے 15 مارچ کو فیصلہ کیا کہ 70 سال یا اس سے زائد عمر کے لوگوں کو، جنہوں نے ہیلپ لائن 1166 پر اپنا اندراج کرایا ہے، کو ٹیکے لگانے کےلیے کسی بھی مرکز میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ 2 مارچ کو اسلام آباد میں منفی رد عمل کا پہلا واقعہ دیکھنے میں آیا تھا اور اس کے بعد کم از کم ایک مرکز سے روزانہ اس طرح کے واقعات کی اطلاع ملی ہے اور مجموعی طور پر 18 افراد میں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید عثمان نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حفاظتی ٹیکے لگنے کے بعد 18 افراد پر اثرات مرتب ہوئے جو کہ معمول کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو حفاظتی ٹیکوں کے مراکز پر رکھنے کی پالیسی کا آغاز امریکا میں کیا گیا تھا کیوں کہ عام طور پر اس کا اثر ویکسینیشن کے ٹھیک بعد ظاہر ہوتا ہے اور لوگوں کو ویکسینیشن سینٹرز میں رکھنے سے الرجی اور اسٹرائیڈز کی دوائیوں کے ذریعے ان پر قابو پانا ممکن ہوجاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاہم اس بات کو دھیان میں رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات بے چینی کی وجہ سے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے کیونکہ لوگ ویکسینیشن کے دوران یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ویکسین لگوانے کا ان کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ زیادہ تر ایسے افراد جن میں معمولی اثرات سامنے آتے ہیں، کی دل کی دھڑکن 120 فی منٹ تک بڑھ جاتی ہیں۔ سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ایک ہزار میں سے ایک کیس بالکل معمول کی بات ہے اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔ جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زعیم ضیا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ویکسینیشن کے بعد اموات یا اسپتال میں داخل ہونے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام افراد پر ویکسین کے معمولی اثرات سامنے آئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button