بااختیار عمران خان اب بے اختیاری کا رونا کیوں روتے ہیں؟

اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران خان مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ بطور وزیراعظم بے اختیار تھے اور حکومت سے لیکر نیب تک تمام معاملات جنرل قمر باجوہ چلا رہے تھے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ بطور وزیر اعظم خان صاحب یہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ پہلی حکومت ہے جس میں سارے فیصلے وہ خود کرتے ہیں اور جنرل باجوہ ان کے ساتھ ایک صفحے پر ہوتے ہیں۔ ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یا تو عمران پہلے غلط بیانی کر رہے تھے یا اب جھوٹ بول رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر جنرل باجوہ واقعی اتنے برے تھے تو عمران نے انہیں تین سال کی توسیع دینے کے بعد پچھلے مہینے دوبارہ ان کے عہدے میں توسیع کی تجویز کیوں دی تھی۔
بطور وزیراعظم بااختیار ہونے کا دعویٰ کرنے والے عمران نے اگلے روز ایک کانفرنس سے خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دور حکومت میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ تمام فیصلہ کرتے تھے۔ یہ فیصلہ بھی وہی کرتے تھے کہ نیب نے کس پر کب اور کتنا دباؤ ڈالنا ہے، کب کسے پکڑنا اور کب چھوڑنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بالکل بے بس تھے، یعنی آپکا وزیر اعظم بے بس بیٹھا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنے دور میں ان کیسز پر پوری کوشش کی کیونکہ اُن کے مقدمات میچور تھے لیکن نیب کے اندر سے ہمیں کہتے تھے پیچھے سے اجازت نہیں ہے اور پیچھے سے جنرل باجوہ اجازت نہیں دیتے تھے۔‘
لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ عمران خان نے اپنے دور حکومت کے سابق آرمی چیف کے ہاتھوں ’بے بس‘ ہونے کا اظہار کیا ہو۔ وہ جب سے اپوزیشن میں آئے ہیں تب سے متعدد بار ایسے دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں ’اصل اختیار‘ کسی اور کے پاس تھا اور یہ کہ اُن کے ’ہاتھ بندھے‘ ہوئے تھے۔ ایسا ہی ایک دعویٰ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کے دور میں جب چیف الیکشن کمشنر کے نام پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈلاک ہوا تو ’نیوٹرلز نے سکندر سلطان کی گارنٹی دی تھی۔ اسے تسلیم کرنا ہماری بڑی حماقت تھی۔‘ وہ سابق آرمی چیف پرسیاسی نوعیت کے معاملات پر ’ڈبل گیم‘ کھیلنے جیسے الزامات عائد کر چکے ہیں۔
لیکن تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب تک عمران وزیراعظم تھے تو کہتے تھے کہ وہ طاقتور ہیں، سارے فیصلے کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی دونوں باتوں میں کچھ حقیقت بھی ہے اور کچھ افسانوی رنگ بھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات تو درست ہے کہ اُس وقت ہائبرڈ نظام تھا اور اس میں فوج کی مداخلت بھی زیادہ تھی۔ تاہم سہیل وڑائچ کی رائے میں نیب کے معاملات میں جنرل باجوہ سے زیادہ عمران خان کی مداخلت تھی کیونکہ شہباز شریف اور شاید خاقان عباسی کے ساتھ اس وقت کے آرمی چیف کو کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ وہ عمران خان کی خواہش پر جیل گئے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک فون ٹیپ کرنے کی باتیں ہیں تو اپنے دور حکومت میں تو عمران نے اس عمل کی حمایت کی تھی اور اسے جائز قرار دیا تھا۔عمران خان اپنے ان دعوؤں سے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ انھیں زیادہ طاقت دے کر اکثریتی ووٹ سے اسمبلی میں بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی کے فیصلے کر سکیں۔تاہم ان کے خیال میں ابھی دور دور تک انتخابات کے کوئی امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں۔
عمران خان کی تنقید کا ہدف خاص طور سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل قمر جاوید نے ریٹائرمنٹ سے قبل ’یوم شہدا‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فوج فروری 2021 کے بعد سے سیاست میں مداخلت کی پالیسی سے کنارہ کشی اختیار کر چکی ہے۔ اپنے دور حکومت کے ابتدائی برسوں میں عمران خان نے کئی مواقع پر جنرل قمر باجوہ کی ’حب الوطنی‘، ’جمہوریت پسندی‘ اور ’تعاون‘ کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ’نیوٹرل، سلجھی ہوئی شخصیت اور جمہوریت دوست‘ قرار دیتے تھے۔ عمران جب وزیراعظم تھے تو یہ یقین دلاتے تھے کہ فوج ان کی ہر بات مانتی ہے اور وہ ایک صفحے پر ہیں یعنی جو وہ چاہتے ہیں ملک میں ویسا ہی ہوتا ہے۔ عمران خان کے حالیہ دعوؤں کے بعد آج کل میڈیا پر تواتر سے خان کے ماضی کے مؤقف سے متعلق ویڈیوز چلائی جا رہی ہیں۔
تاہم ماضی کی ’ایک صفحے‘ جیسی باتوں سے اس وقت کی اپوزیشن جماعتیں متفق نہیں تھیں اور بعض اوقات واضح الفاظ میں اور بعض اوقات اشاروں کنایوں میں کہا جاتا تھا کہ امور حکومت کوئی اور چلا رہا ہے جب کہ عمران محض ایک ’سیلیکٹڈ وزیراعظم‘ ہیں۔ عمران کے دور حکومت میں سابق صدر آصف زرداری نے ایک مرتبہ اپنی درخواست ضمانت واپس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عمران کو اپنے خلاف قائم مقدمات کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتے اور یہ کہ اُن کا تنازع کہیں اور چل رہا ہے جب وہاں سے ’معاملات طے ہوں گے تو ضمانت ہو جائے گی۔‘
تو سوال یہ ہے کہ احتساب کے معاملے میں بطور وزیر اعظم عمران خان اُتنا ہی بے بس تھے جتنا وہ دعویٰ کر رہے ہیں اور ان دعوؤں کے پس پردہ وہ کیا سمجھانا یا مقاصد حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں وزرائے اعظم کے فون ٹیپ ہو رہے ہوتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کہاں اُن کی بات مانتی ہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی جماعت برسراقتدار ہوتی ہے تو اداروں کے ساتھ اُس کی پارٹنرشپ چل رہی ہوتی ہے اور اقتدار میں کُھل کر اس طرح اس نوعیت کے تحفظات کا اظہار نہیں کیا جاتا۔ فواد نے کہا کہ انھوں نے عمران کو نیب کو سرے سے ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا اور اس کے بجائے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کو مضبوط بنانے کے بارے میں رائے دی تھی۔ فواد کے مطابق حکومت کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے کہ ایک تو اب اتنی ایجنسیوں کے لیے اتنا سارا بجٹ کہاں سے لایا جائے اور پھر ناقص تفتیش میں پائی جانے والی خامیوں کا تدارک کیسے کیا جائے۔ سابق وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ نیب کہاں کسی منتخب وزیراعظم کی بات سنتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے دعوے کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ایک تو یہ ہے کہ بطور اپوزیشن اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بِکتا ہے اور اس سے شہرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ 2018 کے بعد مسلم لیگ ن نے بھی یہی کیا تھا۔ لیکن چونکہ اب آرمی چیف تبدیل ہو گئے ہیں اور عمران نے نئے آرمی چیف کو ہدف نہیں بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی فوج میں مقبولیت زیادہ ہوتی ہے اور کوئی اندرونی اختلافات بھی نہیں ہوتے تو اس وجہ سے انھوں نے بہتر یہی سمجھا کہ سابق آرمی چیف کو ہی اپنی تنقید کا ہدف بنایا جائے۔ انکا کہنا ہے کہ چونکہ عمران کے لیے کرپشن بڑا ایشو ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی چیز انھیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے جدا کرتی ہے تو وہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے اسے ہی اپنا مشن بنا رہے ہیں۔ اب عمران سوچ رہے ہیں کہ جب میرے خلاف کیسز بن رہے ہیں تو کیوں نہ میں یہ بیانیہ دوں کہ جب میں اقتدار میں تھا تو ان کے خلاف مقدمات کو کہیں نہیں پہنچا سکا۔
