بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے زندگی وقف کرنے والے عظیم محقق اور دانشور کی خدمات آج بھی یاد کی جا رہی ہیں

لاہور (نیوز ڈیسک) اردو زبان کے عظیم محسن، نامور محقق اور بابائے اردو مولوی عبدالحق کی 65ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

مولوی عبدالحق نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی ترویج، ترقی اور فروغ کے لیے وقف کردی۔ انجمن ترقی اردو کے قیام سے لے کر اردو کی جامع لغت کی تیاری تک ان کی علمی اور ادبی خدمات کو اردو زبان کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

انہی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں قوم نے ’بابائے اردو‘ کا لقب دیا۔

مولوی عبدالحق صرف ایک ادیب یا محقق نہیں تھے بلکہ اردو زبان کے فروغ کے لیے ایک مکمل تحریک کی حیثیت رکھتے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد جب انجمن ترقی اردو کے قیمتی کتب خانے اور نایاب مسودات کو کراچی منتقل کرنے کا مرحلہ آیا تو انہوں نے بے شمار مشکلات کے باوجود اس علمی ذخیرے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے اردو زبان کی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی اور اردو یونیورسٹی کے قیام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بابائے اردو کا ماننا تھا کہ اردو محض رابطے کی زبان نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی تاریخ کی نمائندہ زبان ہے۔

آج کے جدید اور تیز رفتار دور میں بھی مولوی عبدالحق کی جدوجہد نئی نسل کو اپنی زبان اور ثقافتی شناخت سے جڑے رہنے اور اردو کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔

مولوی عبدالحق طویل علالت اور کینسر کے مرض کے بعد 16 اگست 1961 کو 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، تاہم اردو زبان کے لیے ان کی خدمات آج بھی زندہ ہیں۔

Back to top button