نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت کا کہنا ہے کہ بڑے صوبوں کی انتظامی بنیادوں پر تقسیم سے گورننس بہتر اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوسکتے ہیں، معاملے پر قومی سطح پر کھلی بحث ہونی چاہیے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی اور اختیارات کی مؤثر تقسیم سے متعلق ہے، ہم کسی مخصوص نئے یونٹ کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔
نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی جماعت کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ انتظامی اور مالی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہییں تاکہ عوام کے مسائل مقامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں حل ہوسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً تین سال قبل بھی نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے بحث شروع ہوئی تھی اور اس کے بعد سے مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس معاملے پر گفتگو جاری ہے۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق ملک کی کئی بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما بھی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر اظہارِ خیال کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ سے بھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خالد مقبول صدیقی، جام کمال، محسن نقوی اور علیم خان سمیت مختلف حکومتی شخصیات بھی اس معاملے پر اپنی آرا سامنے لاچکی ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ بڑے صوبوں کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کے مسائل حل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہے۔ انہوں نے سندھ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدرآباد صوبے کی آبادی کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، لیکن موجودہ نظام میں ان شہروں کے عوام صوبائی حکومت کے فیصلوں پر محدود اثر رکھتے ہیں۔
کراچی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر بڑے مالی وسائل دستیاب ہونے کے باوجود شہر کو پانی، نکاسی آب اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کے حوالے سے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بڑے شہر کی آبادی صوبے کا تقریباً 40 فیصد ہو لیکن وہ اپنے انتظامی معاملات میں مؤثر اختیار نہ رکھتا ہو تو موجودہ نظام کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کی تجویز کا مقصد کسی صوبے یا علاقے کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ انتظامی کارکردگی بہتر بنانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر اختیار دینا ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، بڑے صوبوں میں شہری مسائل کا دیرپا اور مؤثر حل مشکل رہے گا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ نئے انتظامی یونٹس کے معاملے پر قومی سطح پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کھلے ذہن کے ساتھ بحث ہونی چاہیے اور یہ جائزہ لیا جانا چاہیے کہ موجودہ انتظامی نظام عوام کو کس حد تک سہولیات فراہم کررہا ہے اور اسے مزید بہتر کیسے بنایا جاسکتا ہے۔
