بابر، رضوان ’’ہاروڈ ایگزیکٹو پروگرام‘‘ کا حصہ بننے والے پہلے کرکٹرز

دنیائے کرکٹ میں اپنے چھکوں اور چوکوں سے پہچان بنانے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے بازوں بابراعظم اور محمد رضوان نے لندن کے ہارورڈ بزنس سکول کے ایجوکیشن پروگرام کا حصہ بن کر منفرد اعزاز اپنے نام کر لیا ہے، وہ ایسا کرنے والے دنیا کے واحد کرکٹرز ہیں۔
دونوں نے ہارورڈ بزنس سکول کے دی بزنس آف انٹرٹینمنٹ، میڈیا اینڈ اسپورٹس (بی ای ایم ایس) کے ایگزیکٹو ایجوکیشن پروگرام میں شمولیت اختیار کرنے والے پہلے کرکٹر بن گئے ہیں، یہ خبر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ایک پریس ریلیز میں سامنے آئی۔
ایک روزہ عالمی کرکٹ کی رینکنگ میں نمبر ون بلے باز پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم اور پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، اپنے سرپرست، سایا کارپوریشن کے بانی اور سی ای او طلحہ رحمانی کے ساتھ ہارورڈ بزنس سکول کے انٹرٹینمنٹ، میڈیا اور سپورٹس بزنس آف ایگزیکٹو کے ایجوکیشن پروگرام میں شامل ہونے والے پہلے کرکٹر ہیں۔
بابر اعظم اور محمد رضوان مشہور شخصیات اور دنیا کے اعلیٰ ترین کھلاڑیوں کی طویل فہرست میں شامل ہوں گے جنہوں نے اس باوقار پروگرام میں شرکت کی، پروگرام میں دونوں کرکٹرز پاکستان اور دنیائے کرکٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں جہاں کھیل، میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کی دنیا کے بااثر ترین نام موجود ہوں گے۔یہ پروگرام 31 مئی سے 3 جون تک بوسٹن میساچوسٹس میں واقع ہارورڈ بزنس سکول میں ہوگا، یہ تینوں پروگرام کے بعد 13 جون تک امریکا میں مختلف کمیونٹی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں گے، دونوں کرکٹرز نے اس پروگرام میں شرکت کے حوالے سے کافی جوش اور ولولے کا اظہار کیا۔
بابراعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں زندگی بھر سیکھنے کی سوچ رکھنے والا شخص ہوں، میں نے پروفیسر ایلبرس اور طلحہ رحمانی کے ساتھ اس پروگرام سے متعلق تفصیلی بات چیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہارورڈ میں اس عالمی معیار کے پروگرام میں شامل ہونے کے لیے میرے شوق کی وجہ کچھ نیا دریافت کرنا، سننا، سیکھنا، اپنے اندر مزید بہتری لانا اور دنیا بھر کی کمیونٹی کے لیے کچھ کرنا ہے۔مجھے یقین ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مایہ ناز کھلاڑیوں اور انٹرٹینمنٹ، میڈیا اور اسپورٹس کی صنعتوں کے اعلیٰ کاروباری عہدیداروں سے سیکھنے کے لیے بہت سی چیزیں ہیں۔
ٹی 20 انٹرنیشنل میں دوسری پوزیشن پر براجمان بلے باز محمد رضوان نے کہا کہ ایسے باوقار عالمی اسٹیج پر پاکستان کی نمائندگی کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے، اس پروگرام کی فیس 10500 ڈالر ہے جو پاکستانی 29 لاکھ 92 ہزار روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، پروگرام کی چیئر انیتا ایلبرس نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں بابراعظم اور محمد رضوان کو ہارورڈ بزنس سکول کے بی ای ایم ایس پروگرام میں خوش آمدید کہہ پا رہی ہوں، ہمیں لگتا ہے کہ دوسرے فیلوز کو ان کے تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
بابراعظم کی جانب سے ٹوئٹر پر لگائی ہوئی تصویر نے اکثر لوگوں کو زمانہ طالبعلمی کی یاد دلوا دی ہے، ایک صارف نے انھیں طعنہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہمیں کرکٹ پر لگا کر خود پڑھائی میں مصروف ہو گئے ہیں، ایک اور صارف نے بابر اور رضوان کی تصویر کا بغور جائزہ لیا جس پر پتا چلا کہ رضوان کے ہاتھ میں تسبیح ہے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بابر بظاہر اس بے فقرے طالبعلم کی طرح ہیں جو صرف ایک مرتبہ پڑھ کے پرچہ دے دیتے ہیں لیکن رضوان وہ ہیں جو پڑھتے بھی ہیں اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے ہیں کہ دونوں پاس بھی ہو جائیں۔
کچھ صارفین نے کہا کہ بابراعظم اور محمد رضوان کا امریکہ جانا پاکستان کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرنے جیسا ہے، یہ دونوں سپرسٹار ہیں، ایک صارف نے لکھا کہ ملکی صورتحال دیکھتے ہوئے لڑکے آئلٹس (IELTS) کی تیاری میں لگ گئے ہیں، اسی طرح کی مزاحیہ باتیں مختلف صارفین کرتے دکھائی دیئے، ایک صارف کا کہنا تھا کہ پہلے سیمیسٹر میں سارے ایسے ہی پڑھتے ہیں لیکن پھر صورتحال بدل جاتی ہے، ایک اور مداح نے لکھا کہ ویسے تو کہتے ہیں کہ پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب، لیکن آپ کے لیے کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب صحیح بیٹھتا ہے۔کسی نے لکھا کہ ’بابر بھائی پڑھائی پر دھیان دیں، موبائل تو ساری زندگی استعمال کرنا ہے۔
