باجکوگروپ آف کمپنیز کے ریکارڈ میں عید والے دن ٹیمپرنگ کس نے کروائی؟

فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ نے ایک اور تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ شائع کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں قائم بزنس کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے ذمہ دار ادارے سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایک غیر معمولی اقدام اٹھاتے ہوئے پاک چین سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ ریٹائرڈ جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کی چھ ملکیتی کمپنیوں میں سے پانچ کے آن لائن ریکارڈ کو بڑی عید کے روز قومی تعطیل والے دن اپنی ویب سائٹ سے حذف کر دیا۔ ایسا اس وقت کیا گیا جب سینئر صحافی احمد نورانی فیکٹ فوکس کے لیے ایک تحقیقاتی رپورٹ کے سلسلے میں عاصم سلیم باجوہ کے دو عشروں پر محیط کیرئر میں انکی اہم عہدوں پر تعینیاتی کے دوران ان کے خاندان کے چار مختلف ممالک میں بنائے گئے اثاثہ جات کے حوالے سے تحقیق کر رہے تھے۔
فیکٹ فوکس نامی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی احمد نورانی کی تازہ رپورٹ کے مطابق باجوہ خاندان کی ملکیتی ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ چھ کمپنیوں میں سے پانچ عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیت تھیں، جن کا ریکارڈ ڈیلیٹ کیا گیا جبکہ چھٹی کمپنی انکے بھائیوں کی ملکیت تھی جس کا ریکارڈ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر برقرار رہا۔ اکتیس جولائی 2020 بروز جمعہ سے دو اگست 2020 بروز اتوار تک پاکستان میں عیدالاضحیٰ کی چھٹیاں تھیں۔ جب پاکستانی قوم عید منا رہی تھی تو سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے دفتر میں کوئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں محمد سلیم باجوہ، یوشع سلیم باجوہ اور عازب سلیم باجوہ کی ملکیتی کمپنیوں کے حوالے سے ریکارڈ غائب کرنے میں مصروف تھا۔ فیکٹ فوکس نے اکیس جولائی 2020 سے عاصم باجوہ کے خاندان کے افراد کی چار مختلف ممالک میں ملکیتی کمپنیوں کے آن لائن ریکارڈ کا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ محفوظ کرنا شروع کر دیا تھا۔ عید کی چھٹیوں کے فوراً بعد تین اگست کو پیر کے دن فیکٹ فوکس کی ٹیم کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی کمپنیوں سے متعلق آن لائن ریکارڈ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ سے غائب ہے۔ فیکٹ فوکس نے پاکستان میں مختلف مقامات سمیت دنیا میں مختلف جگہوں سے مختلف کمپیوٹرز کے ذریعے ایس ای سی پی کی ویب سائٹ کو بارہا چیک کیا۔ ان کمپنیوں سے متعلق ریکارڈ غائب کر دیا گیا تھا۔ ایس ای سی پی اپنی ویب سائٹ پر کمپنیوں کی بنیادی معلومات کے علاوہ کمپنی کے ڈائریکٹرز کی معلومات فراہم کرتی ہے۔ تاہم یہی ریکارڈ، یعنی عاصم باجوہ کے بیٹوں کے بطور ڈائریکٹر نام ایس ای سی پی ویب سائٹ سے غائب کر دیے گئے۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے تین اگست سے دوبارہ ڈیجیٹل شواہد اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کر دیئے۔ یہ ریکارڈ ستائیس اگست پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجے باجوہ خاندان کے کاروباروں سے متعلق خبر شائع ہونے کے کئی گھنٹوں بعد تک غائب رہا۔ باجوہ خاندان کے چار مختلف ممالک میں کاروباروں سے متعلق خبر میں ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اٹھائیس اگست کو یہ دیکھا گیا کہ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پرمذکورہ ڈیٹا دوبارہ ظاہر ہو گیا ہے۔ ڈیٹا کے غائب اور ظاہر کئے جانے کے تمام شواہد فیکٹ فوکس کے پاس موجود ہیں۔ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر تین اگست اور اٹھائیس اگست کو کمپنی موچی کارڈوینرز کا ریکارڈ، تین اگست کو ڈائریکٹرز کا ریکارڈ غائب ہے جو کہ ستائیس اگست کو فیکٹ فوکس کی خبر چھپنے کے بعد اٹھائیس اگست کو دوبارہ نمودار ہو گیا۔
اکتیس اگست 2020 کو فیکٹ فوکس سے بات کرت ہوئے ایس ای سی پی کے چئیرمین عامر خان نے اپنے زیراثر ادارے میں ہونے والی ڈیٹا کی اتنی اہم تبدیلی کے بارے میں بولنے سے انکار کر دیا۔ فیکٹ فوکس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی کے ترجمان سے بات کی جائے کیونکہ ایس ای سی پی میں یہی طریقہ کار رائج ہے۔ جب انھیں یہ یاد دلایا گیا کہ کمیشن کے چئیرمین کے طور پر وہ ایس ای سی پی کے چیف سپوکس پرسن بھی ہیں اور ان سوالات کا براہِ راست تعلق ان سے ہے اور چونکہ اس سطح پر ریکارڈ میں یوں اچانک اتنی اہم تبدیلی کمیشن کی سینئر قیادت کے حکم کے بغیر ناممکن ہے، تو اس پر بھی چیئرمین ایس ای سی پی اس بات پر مصر رہے کہ وہ بات نہیں کریں گے اس نمائندے کو میڈیا سیکشن سے رابطہ کرنا چاہیے۔ فیکٹ فوکس کی جانب سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا وہ ریکارڈ میں لائی جانے والی اس تبدیلی سے آگاہ تھے یا کیا انھوں نے اس حوالے سے کسی انکوائری کا حکم دیا؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ وہ فیکٹ فوکس کی طرف سے بھیجے جانے والے سوالات متعلقہ شعبہ کو بھیجیں گے اور میڈیا سیکشن سے کوئی افسر فیکٹ فوکس سے رابطہ کر لے گا۔
ان کا کہنا تھا ” ہم آپ کے سوالات کا یقینی طور پر جواب دیں گے”۔ تاہم بار بار یاد دہانی کرائے جانے کے باوجود ایس ای سی پی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ابتدائی طور پر سوالات بھیجنے کے بعد فیکٹ فوکس نے ایس ای سی پی کے جواب آنے کا بارہ دن تک انتظار کیا اور اس دوران بارہا یاد دہانی بھی کروائی۔ جن کمپنیوں کے آن لائن ریکارڈ میں ردو بدل کر کے عاصم باجوہ کے بیٹوں کے نام بطور ڈائریکٹرز ہٹائے گئے، ان کے نام درج ذیل ہیں،
سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس
ہمالیہ واٹرز
موچی کارڈوینرز
ایڈوانسڈ مارکیٹنگ
سائن بلڈرز ایل ایل پی ایل ایل پی ایل ایل پی
باجوہ خاندان کی ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ملکیتی چھ کمپنیوں میں سے اوپر دی گئی پانچ کمپنیوں جو بیٹوں کی ملکیت تھیں کے آن لائن ریکارڈ میں ردوبدل کی گئی جبکہ چھٹی کمپنی سلک لائنز انٹرپرائزز جو کہ عاصم باجوہ کے بھائیوں کی ملکیت ہے کے ریکارڈ میں تبدیلی نہ کی گئی۔ چیئرمین ایس ای سی پی کو عاصم باجوہ کے بیٹوں کی ملکیتی پانچ کمپنیوں کے آن لائن ریکارڈ میں ردوبدل کرنے کے حوالے سے مندرجہ ذیل سوالات بھیجے گئے:
کیا آن لائن ریکارڈ کا غائب ہو جانا آپ کے علم میں ہے؟
اگر یہ بات آپ کے علم میں تھی تو کیا آپ نے اس سے متعلق کسی انکوائری کا حکم دیا؟
اگر انکوائری کا حکم دیا گیا تو کیا معلومات سامنے آئیں؟
ریکارڈ کا غائب کر دیا جانا ایس ای سی پی کی اعلی قیادت کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ کیا لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ یا ان سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے آپ سے یا ایس ای سی پی کے اعلٰی عہدیداروں میں سے کسی سے اس حوالے سے رابطہ کیا تھا؟
چئیرمین ایس ای سی پی نے کہا کہ وہ یہ سوالات میڈیا سیکشن کو بھیج دیں گےمگر آج تک ان سوالوں کے کوئی جواب موصول نہیں ہوئے۔
ایس ای سی پی کی ویب سائیٹ پر اکیس جولائی، تین اگست اور اٹھائیس اگست کو کمپنی سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس کا ریکارڈ، اکیس جولائی کو کمپنی ڈائریکٹرز کا ریکارڈ موجود ہے، تین اگست کو ڈائریکٹرز کا ریکارڈ غائب ہے جو کہ ستائیس اگست کو فیکٹ فوکس کی خبر چھپنے کے بعد اٹھائیس اگست کو دوبارہ نمودار ہو گیا۔ ایس ای سی پی ہیڈآفس مرکزی حثییت رکھتا ہے اور پالیسیاں بناتا اور ان پر عملدرآمد یقینی بناتا ہے۔ ہیڈ آفس کے تحت علاقائی سطح پر کمپنییز رجسٹریشن آفسز (سی آر اوز) ایس ای سی پی کے ذیلی دفاتر ہیں جہاں پر درحقیقت کمپنیاں رجسٹر کی جاتی ہیں۔ علاقائی سی آر او کے دفاتر اسلام آباد، پشاور، لاہور، فیصل آباد، ملتان، کراچی، کوئٹہ، سکھر اور گلگت میں ہیں۔ ہر علاقے کا سی آر او صرف ان کمپنیوں کے آن لائن ریکارڈ میں تبدیلیاں لا سکتا ہے جو وہاں رجسٹر ہوں۔ ایک سی آر او کسی دوسرے سی آر او میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے ریکارڈ میں تبدیلی نہ کر سکتا۔ ان تمام سی آر اوز میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی سنٹرل ڈیٹا بیس ایس ای سی پی ہیڈ آفس میں ہے جہاں سے کسی بھی سی آر او میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے ریکارڈ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
سسٹم میں کسی بھی کمپنی کے ریکارڈ میں تبدیلی کی صورت میں ایک آٹومیٹک نظام کے تحت ان تبدیلیوں کے باقاعدہ لاگز بنتے ہیں۔ ان لاگز سے باآسانی پتا لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی کمپنی کے ریکارڈ میں کون سی تبدیلی کب لائی گئی اور کہاں سے لائی گئی۔ وہ تمام پانچ کمپنیاں جن کا ریکارڈ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ سے غائب کیا گیا، اسلام آباد سی آر او میں رجسٹر تھیں۔ جیسے کہ پہلے بتایا گیا کہ اسلام آباد سی آر او کا ریکارڈ کسی دوسرے سی آر او سے تبدیل یا غائب نہیں کیا جا سکتا۔ ان کمپنیوں کے ریکارڈ میں تبدیلی صرف اسلام آباد سی آر او یا ایس ای سی پی کے ہیڈ آفس سے ممکن تھی۔ فیکٹ فوکس نے کمپنیوں کے آن لائن ریکارڈ میں کی جانے والی ان تمام تبدیلیوں کے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس ہر فارمیٹ میں محفوظ کیے ہیں۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے جب احمد نورانی نے جنرل عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کی بیرون ملک سو کروڑ روپے سے زائد کے مبینہ اثاثوں کے بارے میں رپورٹ شائع کی تھی تو انہوں نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کا استعفیٰ مسترد کردیا۔
