باغی سعودی افسر کو شہزادہ سلمان کا کونسا راز معلوم ہے؟

سعودی انٹیلی جنس کے ایک سابق طاقتور افسرکے بیٹے نے الزام لگایا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کے والد کو ملک واپس لانے کے لیے ان کے خاندان کے کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کہا جا رہا یے کہ کئی برسوں تک سعودی عرب میں انٹیلی جنس کے اہم ترین عہدے پر تعینات رہنے والے سعد الجابری سعودی شہزادہ سلمان کے بہت قریب تھے اور ان تمام قتل کیے گئے افراد کے حوالے سے حساس انفارمیشن رکھتے ہیں جنہیں سعودی شہزادے کے احکامات پر ٹھکانے لگایا گیا۔
شہزادہ سلمان کے زیر حراست فرسٹ کزن محمد بن نائف کے کیمپ سے تعلق رکھنے والے سعد الجابری اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے باعث 2017 میں کینیڈا منتقل ہوگئے تھے اور واپسی کے لیے مسلسل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا دباؤ برداشت کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سعد کے بیٹے خالد الجابری نےنیویارک ٹائمز کو بتایا کہ محمد بن سلمان ان کے والد کو گھر واپس جانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی، بہن اور چچا کو سعودی سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرلیا اور مارچ سے حراست میں ہیں اور کوئی اطلاع نہیں ہے۔ خالد الجابری نے کہا کہ ‘کئی ہفتے ہوگئے ہیں لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، انہیں ان کے گھروں سے اٹھایا گیا تھا اور ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ آیا وہ زندہ ہیں یا مار دیے گئے ہیں’۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ماہر سعد الجابری سعودی عرب میں کئی کلیدی عہدوں پر فائز رہے اور القاعدہ کے خلاف لڑنے اور امریکا سمیت دیگر اتحادیوں کے ساتھ رابطے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم وہ بعد میں جان کے خطرے کے پیش نظر سعودی عرب چھوڑ گئے تھے۔ اب ان کے بیٹے او سابق امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ محمد بن سلمان دباؤ ڈال رہے ہیں کہ سعدالجابری وطن واپس آئیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ باہر وہ قابو میں نہیں رہیں گے جبکہ خفیہ معلومات تک ان کی رسائی رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق الجابری کئی حساس معاملات سےواقف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ شہزادے کے حکم پر مارے جانے والوں کے تابوت کہاں دفن ہیں۔
خیال رہے کہ سعد الجابری کا انٹیلی جنس کیرئراس وقت ختم ہوا تھا جب محمد بن سلمان اور محمد بن نائف کے درمیان سعودی عرب کے ولی عہد بنے کی جنگ شروع ہوئی تھی اور 2017 سے ملک سے باہر ہیں۔ رپورٹس کے مطابق محمد بن نائف اس روز کے بعد نظر بند ہیں اور اطلاعات آئی تھیں کہ رواں برس مارچ میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا کہ کیونکہ ذاتی ملاقاتوں میں محمد بن سلمان کی حکمرانی کے اندازپر تنقید کررہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سعد الجابری نے امریکا میں گہرے تعلقات ہونے کے باجود وہاں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ڈونلڈٹرمپ کی انتظامیہ محمد بن سلمان کی درخواست بھی واپس سعودی عرب بھیج دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعد الجابری نے جب سعودی عرب چھوڑا تو حکام کی جانب سے ان کی 20 سالہ بیٹی سارہ اور 21 سالہ عمر پر پابندیاں عائد کرنے شروع کردیں جو اب بھی سعودی عرب میں ہیں۔ خالد الجابری کا کہنا تھا کہ دوبچے تعلیم کے لیے امریکا جانے کو تیار تھے لیکن محمد بن سلمان نے حکومت میں آتے ہی انہیں باہر جانے پر پابندی لگادی گئی، ان کے بینک اکاؤنٹ منجمد کیا گیا اور مختلف تفتیشی سوالوں کے لیے طلب کیا جانے لگا۔ سعودی حکام ان پر دباؤ ڈال رہے کہ وہ اپنے والد کو وطن واپسی کے لیے قائل کریں۔
سعودی سیکیورٹی فورسز نے سعد الجابری کے دونوں بچوں کو 16 مارچ کو دارالحکومت ریاض میں واقع گھر سے علی الصبح اٹھایا جس کے بعد کوئی خبر نہیں۔ گزشتہ ہفتے حکام نے سعد الجابری کے بھائی عبدالرحمٰن الجابری کو بھی گرفتار کرلیا جو امریکا سے تعلیم یافتہ الیکٹریکل انجینیئر ہیں۔
