خاشقجی کے بیٹے باپ کے قاتلوں کو معافی دینے پر مجبور

ترکی میں قتل کیے گئے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بیٹوں نے حیران کن طور پر باپ کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کا قتل کرنے والے قاتلوں کے لیے معافی کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ صحافی کو مبینہ طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان کے احکامات پر ایک منصوبے کے تحت ترکی میں سعودی ایمبیسی کے اندر قتل کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی لاش کو غائب کر دیا گیا تھا جو آج تک نہیں مل پائی۔ تاہم قتل کے عمل کے دوران ریکارڈ ہونے والی کشمکش کی آوازوں پر مبنی ایک آڈیو ضرور مارکیٹ میں آئی تھی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ جمال خاشقجی کو ذبح کیا گیا۔ بعد ازاں یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ سعودی صحافی کو قتل کرنے والی ایک 11 رکنی ٹیم کو سعودی عرب سے خصوصی طور پر ترکی بھیجا گیا تھا۔
اب سعودی صحافی کے بیٹے صلاح خاشقجی نے کہا ہے کہ ان کے اہلخانہ نے والد کے قاتلوں کو معاف کردیا ہے۔ سعودی گزیٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر پر جاری بیان میں اس نے کہا کہ ان کے اہلخانہ نے والد کا قتل کرنے والوں کو معاف کردیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ یہ فیصلہ کرتے وقت ہمارے ہمارے ذہن میں اللہ تعالیٰ کا اپنی مقدس کتاب میں کہا گیا وہ فرمان ہے کہ جو شخص معاف کرتا ہے اور مفاہمت کرتا ہے تو اللہ اس کا اجر دیتا ہے، وہ ناانصافی پسند نہیں کرتا۔ ہم اپنے والد کے قاتلوں کو اللہ کی خاطر معاف کرتے ہیں اور اس سے اجر مانگتے ہیں’۔ تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ مقتول سعودی صحافی کے بیٹوں نے قاتلوں کو معافی دینے کا فیصلہ سعودی شاہی خاندان کے دباؤ کے تحت کیا ہے۔
خیال رہے کہ جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان کا بہت بڑا ناقد تھا اور اکتوبر 2018 میں قتل کے بعد الزام لگنے پر سعودی فرماںروا سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے انکے کے بیٹے صلاح سے ملاقات کی اور ان کے والد کے قتل پر ان سے اظہارِ افسوس کیا تھا لیکن سوشل میڈیا نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر تو یہ تک لکھ دیا گیا کہ خاشقجی کے بیٹے کو اس شخص سے ہاتھ ملانا پڑا جو اس کے والد کا قاتل ہے۔ سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2017 سے امریکا میں مقیم تھے۔ تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔
صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔ ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔ سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔ 12 اکتوبر 2018 کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے شاہی خاندان کے 5 افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔ اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔ اسی سال 17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا تھا۔ دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا۔ علاوہ ازیں امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔ مزید برآں دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
4 جنوری 2019 کو ریاض کی عدالت میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ نے ٹرائل کو ‘ناکافی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ٹرائل کی شفافیت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔۔ اسی دوران سعودی عرب کی جانب سے مقتول صحافی خاشقجی کے 4 بچوں کو ‘خون بہا’ میں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دینے کا انکشاف بھی ہوا تھا تاہم جمال خاشقجی کے خاندان نے سعودی انتظامیہ سے عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کی تردید کردی تھی۔
جمال خاشقجی کے بڑے بیٹے صلاح خاشقجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘فی الوقت معاملے کا ٹرائل چل رہا ہے اور تصفیہ کے لیے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے’۔ اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی، مارچ 2019 میں ٹیم کی سربراہ اگنیس کیلامارڈ نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔ بعدازاں جون میں اقوام متحدہ نے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ اگنیس کیلامارڈ نے رپورٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ اس قتل کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی تفتیش کی جائے۔
علاوہ ازیں سعودی عرب میں جاری خاشقجی کے قتل کے خلاف مقدمے میں اس وقت ڈرامائی موڑ سامنے آیا تھا جب خاشقجی کے قتل سے متعلق ریکارڈنگ کی نئی تفصیلات سامنے آئی تھیں جن میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ میرا منہ بند نہ کریں، مجھے دمہ ہے۔ بعدازاں ستمبر 2019 میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ میں صحافی جمال خاشقجی قتل کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں کیونکہ یہ واقعہ ان کے دور اقتدار میں رونما ہوا تھا۔ دسمبر 2019 میں سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں 5 افراد کو سزائے موت اور دیگر تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
بعدازاں رواں برس مارچ میں ترکی کے پراسیکیوٹر نے جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے دو قریبی ساتھیوں سمیت 20 افراد پر باقاعدہ فرد جرم عائد کردی تھی۔ ترک پراسیکیوٹر نے حتمی سماعت کی تاریخ دیے بغیر کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیے گئے تھے لیکن ملک میں عدم موجودگی کے باوجود ٹرائل شروع ہوگا، ترکی تمام 20 ملزمان کو عمر قید کی سزا دینے کے حق میں ہے۔
