بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر

سپریم کورٹ میں ایک وکیل کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی جس میں کراچی کے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ پر گزشتہ سال 21 مارچ کو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔
یہ درخواست حافظ عرفات احمد چوہدری نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے چیئرمین ملک ریاض حسین، ان کے بیٹے احمد علی ریاض، بینا ریاض اور زین ملک کے خلاف دائر کی۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس نے کراچی کے بحریہ اسپورٹس سٹی میں دو پلاٹ خریدے تھے جس کا آغاز فروری 2016 میں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شرائط کے مطابق خریداروں کو 16 قسطوں میں ادائی کرنا تھی اور آخری قسط اس سال 16 مارچ کو ادا کرنی تھی۔ درخواست گزار کے مطابق اس نے چار سالوں میں تمام 16 قسطیں بھر دی ہیں اور اس وقت ان پر کوئی ادائی باقی نہیں ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ دونوں پلاٹوں کی مد میں 95 لاکھ روپے کی پوری ادائی موصول ہونے کے باوجود بحریہ ٹاؤن کراچی کی انتظامیہ نے اس درخواست گزار کو قبضہ نہیں دیا اور بتایا ہے کہ یہ اس علاقے میں نہیں ہے جو ان کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی جو گزشتہ سال 21 مارچ کے عدالتی حکم کا ایک حصہ بھی ہے کہ جن درخواست دہندگان کو ایسے علاقوں میں پلاٹ الاٹ کیے گئے تھے جن پر بحریہ ٹاؤن کا اصل قبضہ نہیں تھا انہیں کسی ایسے علاقے میں رہائشی پلاٹ جو اس کے قبضے میں ہے، دیا جائے گا، بصورت دیگر بحریہ ٹاؤن نے یقین دلایا کہ انہیں ‘ان کے اطمینان کے مطابق’ تلافی دی جائے گی۔
درخواست گزار نے دعوی کیا کہ اس نے پچھلے سال 19 اگست سے لے کر اس سال 21 اپریل تک چار خط لکھے ہیں اور بحریہ ٹاؤن سے درخواست کی تھی کہ وہ عدالت کو دیے گئے انڈر ٹیکنٹنگ کا احترام کرے اور یا تو درخواست گزار کے پلاٹوں کو کسی ایسے علاقے میں ایڈجسٹ کرے جو اس کے زیر قبضہ ہے یا مناسب معاوضہ ادا کرے۔ درخواست گزار کے مطابق انہیں ابھی تک اپنے خطوط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جواب دہندگان کے پاس ان کے طرز عمل کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے درخواست گزار سے بھاری رقم لی تھی لیکن 2016 کے معاہدے کی نفی میں اسے کوئی پلاٹ نہیں دیا گیا ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ ‘ڈویلپرز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button