بدزبان فیصل واوڈا نے منصور خان کو گالیاں کیوں دیں؟


اینکر پرسن منصور علی خان کی جانب سے سینیٹر فیصل واوڈا کے ایک اورجھوٹ کا پردہ چاک کرنے پر موصوف نے حسب سابق اپنی اوقات دکھا دی اور منصور علی خان کے خلاف گالیوں بھرا ٹویٹ داغ دیا جس کے جواب میں مںصور علی خان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ وہ لاہوریے ہونے کی بنا پر پنجابی زبان میں بہت موٹی اور پر اثر گالیاں نکال سکتے ہی لیکن بطور صحافی وہ ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔
خیال رہے کہ حکمران جماعت کے فیصل واوڈا نے حال ہی میں اینکر منصور علی خان کو ٹویٹر پر گالیوں سے نوازا تھا۔ سماجی حلقوں میں فیصل واوڈا کے اس اقدام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فیصل واوڈا نے یہ ٹویٹ منصور علی خان کی حالیہ ایک ویڈیو کے ردعمل میں لکھی جس میں انہوں فیصل واوڈا کے اس الزام کو شواہد کی بنیاد پر غلط ثابت کیا تھا کہ کالعدم مذہبی تنظیم تحریک لبیک کے معاملے پر جو حالات آج اس نہج پر پہنچے ہیں، اس میں وزرا ہی اصل ذمہ دار ہیں جبکہ وزیراعظم کو تو اس معاملے اور معاہدے کی شرائط بارے علم ہی نہیں تھا۔ یاد رہے کہ اگلے ہی روز وزیر اطلاعات فواد چودھری نے فیصل واڈا کے اس بیان کی نفی کر دی تھی اور کہا تھا کہ ہر بات وزیراعظم عمران خان کے علم میں تھی۔ تاہم اس کڑوے سچ کا سامنا کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے ایک ٹویٹ میں فیصل واوڈا نے منصور علی خان کو مخاطب اور ٹیگ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں ہیں، منصور علی خان تمہارے لئے کوئی ہڈی نہیں ہے، ہُش چل بھاگ جا۔
واوڈا کا یہ واہیات ٹویٹ دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد سینیٹر فیصل واوڈا کو بد زبانی پر شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے حامی اپنی ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے فیصل واوڈا کی تعریف کے پل باندھ رہے ہیں۔یاد رہے کہ فیصل واوڈا اپنی بدمزاجی اور بدتمیزی کے لئے مشہور ہیں۔ ماضی میں ان کا صحافی فخر درانی اور عمر چیمہ سے الجھنے کا وقعہ بھی بہت مشہور ہوا تھا۔ بعد ازاں وہ سینئر صحافی مطیع اللہ جان سے بھی عدالت کے باہر الجھے۔ اسکے علاوہ انہوں نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کے بارے میں بھی نازیبا ٹویٹس کی تھیں اور اب انہوں نے منصور علی خان کے بارے میں ایک واحیات ٹویٹ کر دی۔
واوڈا کو جواب دیتے ہوئے منصور علی خان نے کہا کہ 16 نومبر 2020ء کو تحریک لبیک کاحکومت کے ساتھ جو معاہدہ ہوا اس سے اگلے ہی روز خبر شائع ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس معاملے پر ان کا وزیراعظم کیساتھ رابطہ تھا۔ منصور کا کہنا تھا کہ اس خبر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تحریک لبیک کیساتھ حکومتی معاہدے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان آن بورڈ تھے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج ہو رہا ہو، وزرا لبیک کیساتھ مذاکرات کر رہے ہوں اور وزیراعظم اس سارے معاملے سے لاعلم ہو۔ انہوں نے کہا کہ میرے وی لاگ کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کیساتھ میں تشریف لائے تو میزبان نے ان سے بھی یہ سوال دہرایا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنے بڑے معاملے کا وزیراعظم کو علم نہ ہو اور وفاقی وزرا خود سے جا کر معاہدہ کر لیں۔ اس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں اس بات پر قائم ہوں کہ وزیراعظم کی اجازت سے ہی ٹی ایل پی کیساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔ منصور علی خان نے کہا کہ میرے وی لاگ میں پیش کئے گئے حقائق اور وزیر داخلہ شیخ رشید کے شاہ زیب خانزادہ کے سامنے دیئے گئے اعترافی بیان نے سینیٹر فیصل واوڈا کو جھوٹا ثابت کر دیا تھا۔ اینکر منصور علی خان نے واوڈا کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجابی میں اگر گالی نکالی جائے تو وہ زیادہ زور سے لگتی ہے اور میں تو پلا بڑھا ہی لاہور کا ہوں۔ پنجابی گالیاں مجھے بہت آتی ہیں لیکن فیصل واوڈا کے جھوٹ بے نقاب کرنا زیادہ اہم ہے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر نشر کی گئی ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ گالیاں دینا کونسا لاہوریا نہیں جانتا، میں بھی اسی سوسائٹی کا حصہ ہوں اور واوڈا کی گالی کا جواب انھیں انہی کی زبان میں دے سکتا ہوں لیکن میرا پروفیشن مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں ذاتیات پر اتروں۔ تاہم ان کے جھوٹ کو ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر بے نقاب کرتا رہوں گا۔

Back to top button