برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن سوشل میڈیا پر زیر بحث

فیملی کے ساتھ جعلی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد شہزادہ ولیمز کیساتھ شاپنگ کرتی کیٹ مڈلٹن کو یورپی میڈیا نے مشکوک لڑکی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شہزادی کیٹ ہو ہی نہیں سکتی ہیں، اس حوالے سے سوشل میڈیا پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔جنوری میں پیٹ کی سرجری کے بعد شہزادی کیٹ کے عوامی منظر نامہ سے غائب ہونے کی وجہ سے بہت سے سوالات اور اسی طرح کے بے بنیاد دعوؤں نے جنم لیا ہے۔ کینزنگٹن پیلس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شہزادی صحتیاب ہو رہی ہیں اور توقع ہے کہ ایسٹر کے بعد وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے واپس آ جائیں گی۔بی بی سی کی نامہ نگار ماریانہ سپرنگ کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر بے شمار ایسی خبریں اور لوگ موجود ہیں جو ایسی معلومات شئیر کرتے ہیں جس میں اب کسی حد تک میڈیا بھی اپنا حصہ ڈالنے لگا ہے، شہزادی کیتھرین کے بارے میں سوشل میڈیا پر پہلے سے ہونے والی چہ مگوئیوں میں اُس وقت مزید شدت آئی تھی جب شاہی محل کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی شہزادی اور ان کے بچوں کی ’مدرز ڈے‘ کی تصویر کو ایڈٹ کیا گیا۔شہزادی نے بعد میں اس پر معافی مانگی اور تصویر میں ایڈیٹنگ کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔سوشل میڈیا سائٹس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں شہزادی کیٹ کی ہمشکل ہونے سے متعلق جھوٹے دعوؤں سے جُڑی خبروں کو ایکس پر 12 ملین سے زیادہ اور ٹک ٹاک پر 11 ملین سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ایکس پر اکاؤنٹس اکثر امریکی ہوتے تھے اور ان کا کام بس یہی تھا کہ وہ ہر ایک گھنٹے کے بعد ویلز کی شہزادی کے بارے میں پوسٹ کرنے کے لیے وقف تھے۔ ان میں سے کئی مصدقہ اکاؤنٹس یعنی وہ اکاؤنٹس تھے کہ جن کے پاس بلیو ٹک تھا۔ یہ نیلی رنگ کے چیک مارکس تصدیق شدہ اکاؤنٹس کو دیئے جاتے تھے۔ اب انھیں سوشل میڈیا سائٹ پرخریدا بھی جاسکتا ہے۔امریکہ سے سمیریلڈا نامی ایک ٹک ٹاکر نے شہزادی کیٹ کی ہمشکل کے حوالے سے جو ویڈیو شئیر کی وہ 29 لاکھ افراد تک پہنچی۔ جرمنی میں ایک صارف کیری، جنھوں نے اسی سازشی نظریے کو شیئر کیا، نے بتایا کہ وہ اپنی ٹک ٹاک پوسٹس کے بارے میں ’مجرم محسوس‘ نہیں کرتی ہیں، میرے خیال میں سب سے بڑی بھلائی اظہار رائے کی آزادی ہے اور اسے سوشل میڈیا پر بھی پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ذرائع ابلاغ پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ آن لائن پوسٹ کیے جانے والے شواہد سے پاک سازشی نظریات کو دہرا رہے ہیں اور شیئر کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سوشل میڈیا پر ہے جہاں مواد اپنی انتہا پر نظر آتا ہے، اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ فوٹیج کو کسی بھی طرح سے تبدیل کیا گیا ہے، لیکن جاسوس اس طرح کی ویڈیوز شیئر کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاکھوں ویوز جمع کرتے ہیں اور نئے فالوورز بھی۔ٹک ٹاک کی گائیڈ لائنز کے مطابق، سوشل میڈیا سائٹ ’گمراہ کن، یا جھوٹے مواد کی اجازت نہیں دیتی ہے جو افراد یا معاشرے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، چاہے ارادہ کچھ بھی ہو۔ اس سے قبل یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ ویب سائٹ ایسے مواد کی رسائی کو کم کر رہی ہے جو شاہی خاندان اور دیگر طاقتور گروہوں کے بارے میں سازشوں کو آگے بڑھاتا ہے اور جو بغیر کسی ثبوت کے مذموم سازشوں کا حصہ ہیں۔’’ایکس‘‘ نے بی بی سی کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا تاہم یہ پلیٹ فارم اپنی گائیڈ لائنز میں کہتا ہے کہ صارف کی آواز کا دفاع اور احترام کرنا اس کی بنیادی اقدار میں سے ایک ہے۔
