بزدل ن لیگی لیڈر ہی نواز شریف کے اصل دشمن ہیں؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے کہا ھے کہ نواز شریف کی 40 سالہ سیاست 2021 میں آسمان چھوچُکی تھی لیکن مسلم لیگ ن کے لیڈروں نے ھی اُس کو اقتدار کی ہوس میں فروخت کر ڈالا۔ اب بھی نواز شریف کے پاس ایک مظبوط اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ اپنانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا مگر مسلم لیگ ن کے قائدین اس بیانیے پر کانپنے لگ گئے اور انہوں نے نواز شریف کو اپنے نئے نویلے بیانیہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ اللّہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ سو گیدڑوں کی قیادت ایک شیر کے پاس ھو یاسو شیروں کی قیادت ایک گیدڑ کے پاس ، دونوں صورتوں میں شکست ، ذلت، خواری ہی مقدر رہتی ھے ۔ نواز شریف ایک راست قدم اٹھاتا ہے تو ان کے توجانثار ان سے سینکڑوں قدم ان سے آگے نکل جاتے ہیں مگر ن لیگ کےرہنماؤں کا معاملہ مختلف ہے، اُنکوقائد کی ٹانگ پیچھے کھینچنے میں جھجک ھے نہ ہچکچاہٹ ۔ اس کھینچا تانی میں ہی تو توسیع مدتِ ملازمت قانون پر انہوں نے نواز شریف کو شرمندہ کروایا، تحریک انصاف کے ساتھ یکسوئی اور یگانگت کا مظاہرہ کر کے ذلت کمالی ۔ 2021 کے آخر میں مسلم لیگ ن جب عمران خان کی حکومت گرانے میں جنرل باجوہ کے ہاتھ کا کھلونا بنی ۔ مسلم لیگ ن کوسب کچھ لٹا کر جب حکومت ملی ، تو سیاست زندہ درگور ہو گئی۔غور طلب اور اہم،نواز شریف کے اپنے دور ِاقتدار میں جب بھی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کی توسیع کا معاملہ آیا انہوں نے توسیع نہیں دی ۔2016 کے ہنگامے ، شورش، پانامہ اور اقامہ سب کے پیچھے جنرل راحیل کی مدتِ ملازمت میں توسیع ہی وجہ نزاع بنی۔وطن عزیز میں آج جو سیاسی عدم استحکام ہے اُس کی بنیاد جنرل راحیل شریف کے دستِ مبارک سے ہی ڈالی گئی ۔ ‘‘سیاست نہیں ریاست بچاؤ اور پانامہ دونوں کارنامے جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں ادا ہوئے

حفیظ اللّہ خان نیازی کہتے ہیں کہ ستم ظریفی یہ رہی کہ فوراًبعدآنے والے جنرل باجوہ گروپ نے سب وہیں سے شروع کیا جہاں ’’راحیل شریف گروپ‘‘چھوڑ کر گیا تھا۔عمران خان کی بھرپور ناکامی کے بعد سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ کے مقدس فریضہ کی ادائیگی میں جنرل باجوہ گروپ کا سارا انحصار جسٹس ثاقب کے عدالتی نظام کے مضبوط کندھوں پر آن پڑا۔ جسٹس ثاقب نثار گروپ نے مایوس نہ کیا، آئین و قانون کو دن دھاڑے روندا ۔ نواز شریف کو ہر مد میں سیاست سے باہر کر دیاگیا۔اس کے پیچھے اغراض و مقاصد فقط یہ تھے کہ 2018 الیکشن کا سال اور 2019 توسیع مدتِ ملازمت کا سال تھا، الیکشن میں نواز شریف کو مائنس اور عمران خان کو پلس کرنا تھا جو کر دیا گیا۔ جبکہ نواز شریف جو بلا شرکت ِغیرے مقبول ترین رہنماء تھے اگر الیکشن جیت جاتے تو جنرل باجوہ کی رخصتی دیوار پرکندہ تھی۔ جنرل باجوہ ایک ہی وقت میں عمران خان اور اپوزیشن سے مفاہمت اور دلجوئی میں با کمال تھے

حفیظ اللّہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ قومی رہنماؤں کےلئے مقبولیت کا نسخہ کیمیاء اسٹیبلشمنٹ کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو آڑے ہاتھوں لینا ہی تو ہے۔نواز شریف کو اس کا عملی تجربہ ہے ۔ 2018 کے پہلے تین ماہ نواز شریف نے مریم نواز کی انگلی پکڑ کر ملک بھر شہر شہر جا کر’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیہ کو پروان چڑھایا جسےغیر معمولی پذیرائی ملی، مقبولیت ٹھاٹھیں مار رہی تھی۔6جولائی2018کو احتساب عدالت نے مانیٹرنگ جج کی نگرانی میں جب نواز شریف کو دس سال اور مریم نواز کو سات سال قید سنائی تو باپ بیٹی لندن میں مقیم تھے۔ تاریخ میں پہلی بار ھوا کہ دس سال قید کاٹنے کے لئے ہزاروں میل مسافت طے کر کے جولائی کی گرمی اور حبس میں خود چل کر آگئے۔ بیٹی کی انگلی پکڑ ے شان کیساتھ اپنے آپکو حوالہِ زنداں کیا۔ 13جولائی کو جس تعداد، جوش ولولے سے مسلم لیگی کارکن نکلے،تاریخ رقم ہوئی۔ مسلم لیگ ن کی بدقسمتی کہ اس وقت قیادت گیدڑوں کے پاس تھی۔ اپنوں نے ہی تو استقبال ناکام بنوایا۔اپنے ہی رہنماؤں کی ملی بھگت نے نواز شریف کی سیاست کو بستر مرگ پر پہنچا دیا۔ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت کے ساڑھے پانچ سال میں کئی مسلم لیگی قائدین جز وقتی نوکری کرتے رہے جبکہ آخری چھ ماہ جنرل باجوہ نے مسلم لیگ ن کو فُل ٹائم نوکر رکھ لیا ۔ ہمہ یاراں اقتدار دے کر ذلت کی بھٹی میں جھونک دیا۔

حفیظ اللّہ کہتے ہیں کہ 12 اپریل 2022 کو ، جس دن مسلم لیگ ن کے وزیراعظم نے حلف اُٹھایا ، نواز شریف کی سیاست دفن ہو گئی ۔ ایسے میں عمران خان کی سیاست نے زندہ جاوید ہونا ہی تھا ۔ اس میں کوئی حیرت نہیں کہ 12 اپریل 2020 سے آج تک وطنی سیاست کا محور عمران خان ھیں اور اُنکا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ نواز شریف کو پاکستان آنے پر سیاسی SPACE چاہئے ، بظاہر عمران خان کے پاس، اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ عمران خان کو برا بھلا کہنا یا اُسکے عرصہ اقتدار کو پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرانا ، ایک مدافعانہ اور وضاحتی عمل ہوگا ۔ دوسری طرف آج اسٹیبلشمنٹ جتنی غیر مقبول ھے ، شاید ماضی میں ایسے چند موقعوں پر ہی رہی ہو ، نواز شریف کا مضبوط بیانیہ ھی تریاق ثابت ہو سکتا تھا مگر حیف! مسلم لیگ ن کے وطن مقیم قائدین اس بیانیے پر کانپنے لگ گئے ۔ تگڑے بیانیے کی غیر موجودگی میں نواز شریف کا سیاست میں موثر کردار نہیں بن پائے گا ۔ اس دفعہ ثابت ہوا کہ سوگیدڑوں کا قائد شیر بھی ہوتو نتیجہ ذلت اور ناکامی ہی رہتا ہے۔

Back to top button