کیا صرف ڈنڈے کے زور پر ڈالر کی پھینٹی لگانا ممکن ہے؟

امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق ماہ ستمبر میں پاکستانی کرنسی 5.4 فیصد اضافے کی بعد کارکردگی کے حساب سے دنیا کی بہترین کرنسی بن چکی ہے۔تاہم معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈنڈے کے زور پر جس طرح پاکستانی کرنسی نے ڈالر کی پھینٹی لگائی ہےاور ماضی میں جس رفتار سے کرنسی نیچے گری تھی، اس سے زیادہ رفتار سے اوپر آئی ہے۔ تاہم اگر دوبارہ پاکستانی کرنسی نیچے گری توملکی کاروباری حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔‘ مبصرین کے مطابق ڈالر کے ریٹ میں ہر گزرت دن کے ساتھ آنے والی کمی کی وجہ سے ’مارکیٹ میں غیر یقینی کی کیفیت بڑھ گئی ہے۔ مارکیٹ میں کیش کرنچ آ گیا ہے اور سرمایہ کاروں نے ڈالر کا ریٹ ایک سطح پر رکنے تک کام روک دیا ہے۔‘

پاکستانی روپے کی صورت حال کے حوالے سے کرنسی ایکسچینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’روپے کو مضبوط رکھنے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ڈالرز بھیجنے پر پانچ فیصد تک سبسڈی دی جائے تو روپے کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ ایکسپورٹرز کو بجلی، گیس اور دیگر معاملات میں تقریباً 30 فیصد سبسڈی دی جاتی ہے، جسے بند ہونا چاہیے۔ وہ جو برآمدات بینک کے ذریعے کیش کروائیں اس پر کچھ رعایت دی جانی چاہیے۔ ایک لاکھ ڈالرز کی درآمدات کرنے والے کے لیے دو لاکھ ڈالرز کی برآمدات لازمی قرار دی جائیں۔‘ان کے مطابق: ’سونے کے سمگلرز اور لگژری گاڑیوں کے درآمد کنندگان کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے سے بھی روپیہ مضبوط رہ سکتا ہے۔ ہنڈی اور حوالے کا سب سے بڑا استعمال ان دو سیکٹرز میں ہے، جس کی وجہ سے ڈالر ریٹ بڑھتا ہے۔ منی ایکسچینج والے خوامخواہ بدنام ہیں۔‘

دوسری جانب سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق ’دیکھنا یہ ہو گا کہ نئے مالی سال میں اب تک ایکسپورٹ میں پانچ فیصد کمی آچکی ہے۔ ترسیلات زر میں 24 فیصد کمی آئی ہے۔ مہنگائی بڑھ کر تقریباً 31 فیصد ہوگئی ہے۔ ایسی صورت حال میں چند دنوں میں روپے کی قدر میں پانچ سے چھ فیصد اضافہ بہت زیادہ ہے۔ انتظامی امور بہتر ہوئے ہیں لیکن ڈالر کنٹرول کرنے کے لیے صرف انتظامی امور سے آنے والی بہتری عارضی ہوتی ہے۔ ملک کو ایک ایسی پالیسی کی ضرورت ہے، جس سے دوست ممالک اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے۔‘لنک انٹرنیشنل ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلیم امجد اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے بلکہ پچھلے دو سالوں میں ڈالر کی قیمت نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’اگست 2022 میں مفتاح اسماعیل کے دور میں ڈالر، انٹر بینک میں 240 سے کم ہو کر 213 تک آیا تھا۔ یہ فرق تقریباً 27 روپے کا بنتا ہے۔ پھر یہ بڑھ کر 240 روپے تک پہنچ گیا تھا۔ جب اسحاق ڈار واپس آئے تو ڈالر روزانہ کی بنیاد پر تھوڑا تھوڑا کم ہوتا رہا۔ یہ اکتوبر 2022 میں انٹربینک میں 219 پر آ کر رک گیا۔ یہ کمی بھی تقریباً 21 روپے تھی، لیکن چند ماہ میں یہ بڑھ کر 250 اور پھر 288 تک پہنچ گیا۔ نگران حکومت میں ڈالر انٹر بینک میں تقریباً 307 روپے تک پہنچا اورستمبر کے مہینے میں انٹر بینک میں ڈالر ابھی تک صرف 19 روپے گرا ہے، جو کہ ماضی کی بڑی گراوٹوں کی نسبت کم ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر سال ساڑھے سات لاکھ پاکستانی باہر جا رہے ہیں۔ جو باہر جاتے ہیں وہ پراپرٹی بیچ کر جاتے ہیں اور اسے ڈالر میں تبدیل کروا کر باہر بھیج دیتے ہیں۔ ہر ماہ ایک لاکھ پاکستانی عمرہ کرنے جا رہے ہیں، جو ڈالر ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔’پہلے یہ سالانہ پانچ سو ملین ڈالرز تھا، اب تقریباً ایک ارب ڈالرز سے بڑھ گیا ہے۔ قرضوں اور سود کی ادائیگی ڈالرز میں کرنی ہے۔ ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ایک راستہ برآمدات بڑھانا، دوسرا ترسیلات زر بڑھانا اور تیسرا بیرونی سرمایہ کاری ہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک سیکٹر میں بھی پاکستان نے بہترین کارکردگی دکھائی تو ڈالر کنٹرول میں رہ سکتا ہے۔ بصورت دیگر دسمبر کے بعد روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔‘سلیم امجد کے مطابق: ’پاکستان کی ڈالرز میں آمدن تقریباً 60 ارب ڈالر اور خرچ تقریباً 85 ارب ڈالر ہے۔ 25 ارب ڈالرز کا فرق ختم کرنا ایک چیلنج ہے۔‘

Back to top button