کیا جنرل فیض، فیض آباد کیس میں اندر جانےوالے ہیں؟

وفاقی حکومت کے اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ سے فیض آباد دھرنا کیس کے 2019 کے فیصلہ پر عملدرآمد کے وعدے کے بعدملک میں فوجی افسروں کے احتساب کا دروازہ کھلنے کا امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے یہ یقین دہانی سپریم کورٹ کے فیض آباد دھرنا کیس کے 2019 کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران کروائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کے علاوہ ، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، الیکشن کمیشن، پیمرا، انٹیلی جنس بیورو، اعجاز الحق اور عوامی مسلم لیگ کے لیڈر شیخ رشید نے نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ تاہم نظرثانی کیس کی پہلی سماعت کے دوران ہی بیشتر درخواست دہندگان نے اپنی پٹیشنز واپس لینے کا عندیہ دے دیا ہے۔ تاہم چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ہمارا خیال تھا کہ میرٹ کی بنیاد پر فیصلے میں نقائص کی نشاندہی کی جائے گی لیکن آج جیسے درخواستیں واپس لینے کے لیے بےچینی ظاہر کی گئی ہے، اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ کہیں سے حکم ہوتا ہے تو درخواستیں دائر ہوجاتی ہیں اور جب دوسرا حکم آتا ہے تو درخواستیں واپس لے لی جاتی ہیں۔ انہوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پٹیشن واپس لینے کا یہ مطلب ہوگا کہ سب فریق اس فیصلہ کو درست مان رہے ہیں اور حکومت اب اس میں دیے گئے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ ہم خود اپنے احتساب سے اس کا آغاز کرسکتے ہیں‘۔

واضح رہے کہ نومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان نے دھرنا دیا تھا ۔دھرنا ختم کرنے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدہ میں آئی ایس آئی کی طرف سے اس وقت میجر جنرل فیض حمید نے ضامن کے طور رپر دستخط کیے تھے۔ نظر ثانی کی درخواستوں پر غور کے دوران اسی معاہدے اور اس کے ضامن کا حوالہ سامنے آیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاہدہ ریکارڈ پر لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ سپریم کورٹ کےمطابق اس معاہدہ کی ضمانت دینے والے فوجی افسر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔

فیض آباد دھرنا کیس پر نظر ثانی کا معاملہ تو شاید اگلی سماعت میں اپنے حتمی انجام کو پہنچے تاہم عدالتی کارروائی کے دوران سب کے احتساب کے بارے میں جو اہم نکتہ زیر بحث آیا ہے، وہ اس وقت ملک کی سیاسی صورت حال کو بدل سکتا ہے ہے۔ پاک فوج اگر عدالتی حکم کے مطابق ان تمام افسروں اور اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے پر راضی ہوجاتی ہے جنہوں نے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنےکے دوران میں کوئی کردار ادا کیا تھا جسے عدالتی فیصلہ میں عہد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا تو یہ ایک انقلابی پیش رفت ہوگی۔ اب اٹارنی جنرل اس فیصلہ پر عمل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے چیف جسٹس کے یہ ریمارکس ضرور حکومت اور متعلقہ حکام تک پہنچائیں گے کہ اس معاہدہ پر دستخط کرنے والے جنرل فیض حمید کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے کیونکہ جنرل فیض ایسے کسی معاہدے میں ثالث کا کردار ا دا کرنے کے مجازنہیں تھے۔

تاہم مبصرین کے مطابق اسٹبلشمنٹ کبھی بھی اپنے سابق اعلیٰ افسروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کو قبول نہیں کرے گی۔ کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار سابق چیف جسٹسز اور ججوں کے حوالے سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ملک میں عام طور سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دونوں ادارے اپنے موجودہ ہی نہیں ،سابق عہدیداروں کے بارے میں بھی شدید حساس ہیں ۔ سیاسی پارٹیاں اس حوالے سے بے بس ہیں۔ دیکھا جائے تو فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد نہ ہونا اور چار سال تک نظر ثانی کی درخواستوں کو سماعتوں کے لیے مقررہ نہ کرنے کا بھی یہی مقصد تھا کہ داخلی احتساب کے حوالے سے فوج اور سپریم کورٹ ایک ہی صفحے پر ہیں۔ یہ دونوں ادارے سیاست دانوں سے مکمل ایمانداری اور قانون کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جب ان کے اپنے عہدیدار اپنے حلف کے خلاف کارروائی میں ملوث ہوتے ہیں تو اس معاملہ کو نظر انداز کردیاجاتا ہے۔ اس حوالے سے خاص طور سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف اپریل 2011 میں سپریم کورٹ کو بھیجے گئے صدارتی ریفرنس کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ صدر کے طور پر آصف زرداری نے بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلہ کے خلاف عدالت عظمی کو ریفرنس بھیجا تھا لیکن 12 سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے اس ریفرنس پر سماعت مکمل نہیں کی۔ حالانکہ عام طور سے بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلے کو ’انصاف کا قتل‘ قرار دیا جاتا ہے۔

اب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے میں ملوث کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالتی حکم کے مطابق کارروائی کی امید ظاہر کی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے اس فیصلہ پر عمل کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اگر فوج جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی پر راضی ہوجاتی ہے تو یہ فوجی قیادت کے اس دیرینہ طرز عمل سے متضاد طریقہ ہوگا جس میں اپنے افسروں کے خلاف کسی سول معاملہ میں کارروائی کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔مبصرین کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس کے حوالے سے اگر بعض فوجی افسروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور چیف جسٹس اپنے اعلان کے مطابق عدلیہ کے احتساب کے بارے میں اقدام کرتے ہیں تو سابق جرنیلوں اور ججوں کا احتساب کوئی ایسا مطالبہ نہیں رہے گا جس کے بارے میں بات کرنا سیاسی خود کشی قرار پائے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ ملک کی موجودہ عسکری و عدالتی قیادت احتساب کے حوالے سے کتنی سنجیدہ ہے

Back to top button