چوہوں کی بستی

تحریر : عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
جمعرات کی صبح اٹھ کر میری طرح کئی پاکستانی یہ خبر دیکھ کر حیران ہوگئے ہوں گے کہ پیرس سے اپنے وطن لوٹنے سے قبل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دیرپاامن کی تلاش کے لئے تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردئے ہیں۔ ایرانی صدر نے بھی اپنے وطن کی مٹی چھوڑے بغیر تہران بیٹھے ہی اس دستاویز کی نقل پر دستخط کئے اور یوں دونوں ممالک کے مابین معاہدہ ہوگیا۔ دونوں ممالک کے صدور کی جانب سے ’’اچانک‘‘ ہوئے دستخطوں سے قبل یہ طے ہوا تھا کہ پاکستان کی بے پناہ کوششوں سے تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب سوئٹزرلینڈکے ایک خوبصورت قصبے میں ہوگی۔ اس میں شرکت کے لئے پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈمارشل کو جمعرات کے روز سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا۔ جمعرات کی صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے مفاہمتی دستاویز پر دستخط ثبت کئے جانے کے بعد پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت سوئٹزرلینڈ میں طے ہوئی اس تقریب میں شرکت کیلئے پرواز کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گی۔
ہمارے کئی جھکی اور قنوطی دوست مذکورہ تقریب سے قبل ہی امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے مفاہمتی دستاویزات پر ہوئے دستخطوں سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ پاکستان سے محاورے والی ’’بی فاختہ‘‘ جیسی مشقت کروالینے کے بعد امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ ’’ڈائریکٹ‘‘ ہوگئے ہیں اور ہمیں استعمال کرنے کے بعد بھلادیا گیا ہے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ جمعرات کی صبح اٹھنے کے بعد میرا فوری ردعمل بھی ایسا ہی تھا۔ پانی کا گلاس ختم کرنے کے بعد غور کیا تو اپنے لاہور کے ملامتی صوفی شاہ حسین کا وہ مصرعہ یاد آگیا جو مکھیوں کی جانب سے ’’گڑ‘‘ ختم کئے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم اور فیلڈمارشل کی میزبانی میں ایرانی اور امریکی وفود کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ان دونوں کے مابین ہوئے معاہدے کا ’’ضامن‘‘ بنادیتے۔ عالمی امور کا ادنیٰ طالب علم ہوتے ہوئے مفاہمی یادداشت کے 14نکات میں نے دس مرتبہ غور سے پڑھے ہیں۔ بدھ کی رات ایک بجے تک بے تحاشہ ماہرین عالمی امور کے اس کے متن کے بارے میں ہوئے تجزیے بھی نہایت انہماک سے دیکھے۔ میری جستجو یہ سوچنے کو مجبور کررہی ہے کہ مفاہمی یادداشت میں دیرپاامن کی خاطر جو روڈ میپ اور ٹائم فریم طے ہوا ہے اس پر عملدرآمد ممکن نہیں۔ مذکورہ یادداشت کی ہر سطر واضح الفاظ میں یہ حقیقت بھی عیاں کررہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے رواں برس کے مارچ میں جن اہداف کے حصول کے لئے ایران پر حملہ کیا تھا ان میں سے ایک کے حصول میں بھی ناکام رہے۔ ایرانی مزاحمت کے نتیجے میں مقدر ہوئی ہزیمت کا اب اخلاقی ہی نہیں ٹھوس دفاعی اور مالی اعتبار سے خمیازہ ادا کرنا ہوگا۔ امریکی میڈیا کی اکثریت لگی لپٹی رکھے بغیر ایران اور امریکہ کے مابین ہوئی ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ کو ’’دستاویزِ شکست‘‘ ٹھہرارہی ہے۔
فرانس میں قیام کے دوران بدھ کے روز امریکی صدر چند غیر ملکی سربراہان کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرتے رہے۔ ان کی سوئی یہ دعویٰ کرنے پر اٹکی رہی کہ وہ ایران کے ساتھ ’’تاریخی‘‘ سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ٹرمپ سے لے کر جوبائیڈن تک امریکہ کا ہر صدر گزشتہ 47برسوں میں ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے میں ناکام رہا۔ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے ایران کو اپنا ایک فوجی بھی ایران کی زمین پر اتارے بغیر ’’جھکنے‘‘ کو مجبور کیا۔ محض فضائی بمباری سے اس کی فوجی، فضائی اور بحری قوت تباہ کردی۔
اپنے ’’کارناموں‘‘ کی تفصیل خودپرست رعونت سے گنوانے کے بعد مگر وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے کو مجبور ہوئے کہ دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوت کا حامل ہونے کے باوجود امریکہ آبنائے ہرمز کی بحری تجارت کے لئے کھلوا نہ پایا۔ حالات اگر یوں ہی رہتے تو آئندہ چار ہفتوں کے بعد دنیا بھر میں تیل تقریباََ نایاب ہوجاتا۔ تیل اور گیس کے علاوہ کھاد کی نایابی دنیا کے بے تحاشہ ممالک کو قحط سالی کا نشانہ بھی بنادیتی۔ تیل کی نایابی اور غذائی بحران کے امکانات ذہن میں رکھتے ہوئے امریکہ سخت شرائط کے تحت ایران کے ساتھ مفاہمی یادداشت کو مجبور ہواہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بدھ کے روز امریکی صدر بارہا اصرار کرتے رہے کہ ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ کا جو مسودہ بلوم برگ جیسے مستند صحافتی اداروں نے شائع کیا وہ ’’فیک‘‘ہے۔ مذکورہ متن کے مطابق ایران کے ساتھ ہوئے معاہدے میں اسے جنگ کی وجہ سے ہوئے نقصانات کی تلافی کے لئے 300ارب ڈالر کی خطیر رقم دینے کا وعدہ بھی ہوا ہے۔ ٹرمپ مصر ہے کہ امریکہ اس ضمن میں ایران کو ’’ایک سینٹ‘‘ بھی نہیں دے گا۔ ایران کے عرب ہمسائے البتہ اس ملک میں سرمایہ کاری کے ذریعے خوشحالی کے نئے در کھول سکتے ہیں۔ بدھ کی رات تاہم انہوں نے جس معاہدے پر دستخط کئے ہیں اس میں 300ارب ڈالر کی خطیر رقم پر مشتمل ایک فنڈ کے قیام کا ذکر موجود ہے جو ایران میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا۔
ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ بھی کرتے رہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد آبنائے ہرمز بحری تجارت کے لئے مکمل طور پر کھل جائے گی۔ ایران وہاں سے گزرتے جہازوں سے کوئی ’’ٹول ٹیکس‘‘ بھی وصول نہیں کرے گا۔ بالآخر جس معاہدے پر انہوں نے دستخط کئے ہیں اس کا متن واضح الفاظ میں یہ عندیہ دیتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طورپر پاک کرنے کے لئے کم از کم 30دن درکار ہوں گے۔ فی الوقت صرف ان ہی راستوں سے بحری تجارت ہوسکتی ہے جو ایران کی کامل نگرانی میں ہیں۔ بارودی سرنگیں صاف ہوگئیں تو ایران عمان کے علاوہ دیگر خلیجی ممالک کی مشاورت کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے کسی نہ کسی نوعیت کا ’’ٹول ٹیکس‘‘ وصول کرنا شروع ہوجائے گا۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت ’’کھولنے‘‘ کا جو بندوبست مفاہمتی یادداشت بیان کرتی ہے اسے تیل برآمد کرنے والے کئی ممالک تسلیم کرنے کو رضا مند نہیں ہوں گے۔ ان ممالک کے چند صحافی اور مبصرین سوشل میڈیا پر سوال اٹھانا شروع ہوگئے ہیں کہ وہ ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی جنگ کا ’’خمیازہ‘‘ مالی اعتبار سے آئندہ کئی برسوں تک کیوں بھگتیں؟علاوہ ازیں ان کی دانست میں امریکہ انہیں حالیہ جنگ کے دوران ’’دفاعی چھتری‘‘ فراہم کرنے میں بھی کاملاََ ناکام رہا ہے۔ انہیں اپنی بقاء اور دفاع یقینی بنانے کے لئے نیا بندوبست ڈھونڈنا ہوگا۔
اسرائیل بھی مفاہمتی یادداشت کے متن سے قطعاََ مایوس ہوا ہے اور وہ اس پر عملدرآمد رکوانے کو اعلانیہ نہیں تو خفیہ طورپر ہر حربہ استعمال کرے گا۔ ایسے عالم میں پاکستان کے لئے امریکہ اور ایران کے مابین دیرپا امن یقینی بنانے کے لئے ’’ضامن‘‘ کی ذمہ داری اٹھانا ہر حوالے سے کاربے سود ہوتا۔ امریکہ اور دنیا کے بے تحاشہ ممالک نے ایران امریکہ جنگ بند کروانے اور انہیں مذاکرات کی جانب مائل کرنے میں پاکستان کے کردار کو کھلے دل سے سراہاہے۔ ہمیں ’’جو میرا فرض تھا میں نے پورا کیا…‘‘ والارویہ اختیار کرتے ہوئے ’’ضامن‘‘ ہونے کی ذمہ داری سے محفوظ رہنے پر ربّ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
