بلاول اور آصف زرداری میں اختلافات کی حقیقت کیا ہے؟

پیپلزپارٹی نے بھی مسلم لیگ نون کی حکمت عملی اپنانے لی۔ مبصرین کے مطابق عام انتخابات کے انعقاد بارے پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو اور ان کے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری کے متضاد بیانات دراصل،’’ Good Cop Bad Cop ‘‘ ہعنی ایک ساتھی ایک دشمن کا کھیل ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اندر کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بلاول اور زرداری ایک ہی سکے کے دورخ ہیں اور پیپلز پارٹی قیادت کے لفظی اختلافات ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ہر کوئی جانتا ہے کہ کون کسے بنارہا ہے اور کس کی بات ماننی ہے۔ ذرائع نے دونوں کے مابین اختلافات کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ زرداری جو کچھ کہتے ہیں وہ پارٹی پالیسی ہوتی ہے اور بلاول بھٹو جو کچھ کہتے ہیں وہ عوام کے لیے ہوتا ہے۔ آصف علی زرداری بنیادی طور پر اس وقت پیپلزپارٹی کا سیاسی ذہن ہیں۔ جو فیصلہ وہ کرتے ہیں وہ حتمی ہوتا ہے اور پارٹی میں ہر کوئی اسے ہی حرف آخر جانتا ہے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو پاپولر ہے اور اسے ان ایشوز پر ایسی باتیں کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے جس سے عام عوام کی توجہ حاصل کی جاسکے۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے کو چیئرمین نے محاذ آرائی کی پالیسی سے خاصے سبق حاصل کیے ہیں۔
مبصرین کے مطابق بلاول بھٹو کے 90 دن میں انتخابات کے مطالبے کے بعد آصف زرداری کے بیان کو ایک طرح سے بلاول کے لیے جھاڑ کے طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ آصف زرداری نے جو کچھ کہا ہے کہ وہ معیشت کی درستی کے لیے انتخابات میں تاخیر کے شبہے کو آگے بڑھاتا ہے۔ تاہم آصف علی زرداری کے بیان کے بعد ہفتے کو بلاول بھٹو نے یہ چونکا دینے والا رد عمل دیا کہ تازہ حلقہ بندیوں پر ان کا بیان ان کا ذاتی بیان تھا اور وہ پارٹی پالیسی نہیں ہے اور جب ان سے بیانات کے اختلاف کے حوالے سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب سے پوچھاجائے کہ اس بیان سے ان کا کیا مطلب ہے۔ بلاول نے مزید کہا کہ خاندانی معاملات میں زرداری صاحب کی بات ماننے کا مکلف ہوں لیکن سیاسی و آئینی معاملات اور پارٹی پالسیی کے حوالے سے وہ اپنے کارکنوں سینٹرل ایگزیکٹو کے فیصلوں پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔
خیال رہے کہ آئندہ عام انتخابات کی تاریخ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے اور زور دیا کہ ای سی پی آئین کے مطابق الیکشن کروائے‘ جبکہ بلاول بھٹو زرادری نے اس کے بالکل برعکس رائے کا اظہار کیا ہے۔آصف زرداری نے مزید کہا تھا کہ ’ملک اس وقت معاشی بحران سے گزر رہا ہے، ہم سب کو سیاست کے بجائے معیشت کی فکر پہلے کرنی چاہیے۔ ملک ہے تو ہم سب ہیں۔‘آصف زرداری کے اس بیان سے بظاہر یہ تأثر ملا کہ وہ عام انتخابات کا جلد انعقاد نہیں چاہتے۔
اس کے بعد سنیچر کو صوبہ سندھ کے شہر بدین میں بلاول بھٹو زراری نے حیدر آباد میں بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’کہا جا رہا ہے کہ 90 دن میں الیکشن نہیں ہوسکتے، 90 دن تو بہت دور ہیں 60 دن میں الیکشن ہونے چاہیے تھے، 90 دن میں بھی نہیں کرانا چاہتے تو الیکشن کب کرائیں گے؟‘
اب سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیربحث ہے کہ کیا بلاول بھٹو زراری اور ان کے والد آصف زرداری آمنے سامنے آ چکے ہیں اور پھر یہ بیانات ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں؟سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان بیانات سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پیپلز پارٹی میں کوئی دراڑ پڑ رہی ہے، درست نہیں۔ بعض تجزیہ کار ان بیانات کو محض ’نمائشی پریکٹس‘ قرار دے رہے ہیں۔
سینیئر تجزیہ کار ارشاد احمد عارف کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے پیپلز پارٹی نے یہ سبق مسلم لیگ نواز سے سیکھا ہے اور اس وقت گڈ کاپ بیڈ کاپ تکینک کا استعمال کر رہے ہیں۔‘ارشاد عارف نے کہا کہ ’اس طرح کے بظاہر متضاد بیانات کے ذریعے پیپلز پارٹی ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کو خوش رکھنا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عوام کی ہمدردیاں بھی اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہے۔‘بلاول بھٹو کی جانب سے 90 دن میں الیکشن کرانے پر اصرار سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں جس کابینہ کے اجلاس میں نئی مردم شماری کی منظوری دی گئی، اس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی موجود تھے۔ اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت وہاں کے تمام وزرا بلاول ہی کے ماتحت ہیں۔ مردم شماری کی منظوری دینے کا مطلب یہی تھا کہ الیکشن وقت پر نہ ہوں۔ لہٰذا اس فیصلے میں بلاول کی مرضی شامل تھی۔‘
بلاول بھٹو کی جانب سے ’کیئر ٹیکرز کے چیئر ٹیکرز بن جانے‘ کے خدشے کے اظہار سے متعلق ارشاد عارف کا کہنا تھا کہ ’یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ الیکشن اگلے برس ہوں یا پھر یہ نگراں سیٹ اپ دو برس تک چلتا رہے۔ کیونکہ جو منصوبے اور اقدامات شروع کیے گئے ہیں، وہ دو چار ماہ میں مکمل تو نہیں ہو سکتے۔ اگر اس دوران نئی حکومت آ گئی تو سب کچھ ٹھپ ہو سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں بھی ہوتا رہا۔‘’اس لیے موجودہ سیٹ اَپ کے ذریعے کچھ ایسے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے کہ اگلے الیکشن میں یہ سیاسی جماعتیں پوری طرح مؤثر نہ ہو سکیں۔ ایسے دورانیوں میں سسٹم میں نئے تیار کیے گئے لوگ داخل کیے جاتے ہیں۔ ضیاءالحق اور پرویز مشرف کے دور میں بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔‘
مستقبل قریب میں ملک کے مجموعی سیاسی منظرنامے کے بارے میں ارشاد عارف کا کہنا تھا کہ ’سیاست کا اصل میدانِ جنگ پنجاب ہی ہے۔ مسلم لیگ نواز پنجاب کھونا نہیں چاہتی جبکہ بلاول اور آصف زرداری سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں حمایت حاصل کیے بغیر ہم کچھ کر نہیں سکتے۔‘’اس وقت ن لیگ کا خیال ہے کہ الیکشن جب بھی ہوں گے ، نقصان انہی کا ہو گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ناکامیوں کو بوجھ نگراں سیٹ اپ پر پڑے اور لوگ چند ماہ گزر جانے کے بعد ان کی قیادت میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کی کارگردگی بھول جائیں۔ ان کے خیال میں عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے۔‘
