چودھری پرویز الٰہی کی معافی کے امکانات کیسے ختم ہوئے؟

اپنے بھرپور سیاسی کیرئیر میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دینے والےپنجاب کے سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی آج کل بری طرح عتاب کا شکار ہیں۔ پرویز الہی کی ماضی قریب میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انتہائی قربت اور پھر اچانک اختلافات کا معاملہ بہت سے مبصرین کے لیے ایک معمہ بن چکا ہے۔ دوسری جانب کئی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چوہدری پرویز الہی نے اسٹیبلشمنٹ کو نہیں چھوڑا ہے بلکہ اب اسٹیبلشمنٹ نے ان کے لیے اپنے دروازے بند کر لیے ہیں۔حقیقت کچھ بھی بظاہر سابق وزیر اعلی پنجاب کو اس وقت سخت ترین حالات کا سامنا ہے۔چوہدری پرویز الہی گزشتہ چند ماہ سے عدالتوں اور مختلف حراستی مراکز کے درمیان ایک گھن چکر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے خلاف بھی اپنے قائد عمران خان کی طرح درجنوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ عدالتیں اگر انہیں کسی ایک مقدمے میں ضمانت پر رہائی کا پروانہ تھماتی ہیں تو دوسری جانب سرکار کسی نہ کسی اور مقدمے میں پرویز الہی کو پھر دھر لیتی ہے۔
بعض سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی کو عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے کی سزا دی جا رہی ہے اور اگر وہ آج پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیں تو ان کی ساری مشکلات ختم ہو سکتی ہیں۔ دوسری طرف چوہدری پرویز الہی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ چوہدری پرویز الہی کی بار بار گرفتاری کا ڈرامہ کرکے انہیں ہیرو بنا رہی ہو اور بظاہر انہیں پابند سلاسل رکھ کر پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ان کی قربانیوں پر قائل کر رہی ہو تاکہ عمران خان کی نا اہلی کے بعد وہ اسٹیبلشمنٹ کے خواہش کے مطابق پارٹی ‘سنبھال‘ سکیں۔
سینئر صحافی خالد فاروقی کے مطابق چوہدری پرویز الہی کا قصور صرف یہ ہے کہ عمران خان کے لیے اپنی حمایت کی وجہ سے اب اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول نہیں رہے۔ ان کے بقول چوہدری پرویز الہی نے پی ٹی آئی چھوڑنے یا اسے توڑنے سے انکار کیا۔ خالد فاروقی کے مطابق، ”عمران خان پہلے چوہدری پرویز الہی اور ان کے بیٹے مونس الہی کے بارے میں اچھے خیالات نہیں رکھتے تھے لیکن پی ٹی آئی کی مدد سے پنجاب کا وزیراعلی بننے کے بعد انہوں نے اس جماعت کا ساتھ دیا اور اپنااسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دہائیوں پرانا تعلق بھی قربان کر دیا۔‘‘خالد فارووقی سمجھتے ہیں کہ یہ پرویز الہی یہ سب کچھ اپنے بیٹے کے کیرئیر کے لئے نہیں بلکہ خود اپنے کیرئیر کے لئے کر رہے ہیں کیونکہ وہ نواز شریف اور عمران خان کے تقریباﹰ ہم عمر ہیں اور وہ ابھی اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی متمنی ہیں۔
تجزیہ کار سلمان عابد کے مطابق چوہدری پرویز الہی کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے طاقتوروں کی خواہش کے برعکس پنجاب اسمبلی کو تحلیل کیا اور عمران خان کو نہیں چھوڑا۔ ”انہوں نے چڑھتے سورج کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنا اور اپنے بیٹے کا سیاسی مستقبل عمران خان کی سیاست کے ساتھ وابستہ کر لیا۔‘‘
روزنامہ دنیا کے گروپ ایڈیٹر سلمان غنی نے بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے دو بار طاقتور حلقوں کے ساتھ کیا گیا اپنا وعدہ توڑا۔ غنی کے مطابق، ”جو لوگ یقین دہانی کروا کر اپنی بات سے پھر جائیں۔ ملکی تاریخ بتاتی ہے کہ ان کے لیے پھر سیاست میں آسانیاں نہیں ہوتیں۔‘‘سلمان غنی بتاتے ہیں کہ چوہدری پرویز الہی نے طاقتور حلقوں کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی اقدام نہیں ھو گا، جس سے سسٹم اپ سیٹ ھو لیکن پھر حالات کچھ ایسا رخ اختیار کر گئے کہ جس کی وجہ سے پرویز الہی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس پر دستخط کرنے پر مجبور ہو گئے۔
دوسری جانب چوہدری پرویز الہی کے خاندانی ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الہی اپنے صاحبزادے مونس الہی کی بات کو رد نہیں کرتے اس کی ضد کے آگے چوہدری پرویز الہی نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات بگاڑ لیے اور آصف علی زرداری جیسے دوست کے ساتھ بھی نہ چل سکے۔
ایک سوال کے جواب میں چوہدری پرویز الہی کے ایک قریبی عزیز نے بتایا کہ چوہدری پرویز الہی کو چوہدری شجاعت حسین نے بھی سمجھایا تھا لیکن ان کا خیال تھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی اننگز کھیل لی ہے اب بچوں کا سیاسی کیرئیر ہے اس کی بہتری کے لیے ان کے مشورے کے ساتھ ہی آگے بڑھنا مناسب ہوگا۔
تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ چوہدری پرویز الہی اپنے خاندان کے مفادات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے بیٹے مونس الہی کے زیر اثر آ گئے جو یہ سمجھتا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف آنے والے دنوں میں ان کو پنجاب میں کوئی بڑا کردار دے سکتی ھے۔ سلمان غنی کے بقول، ”پرویز الہی کو ایسی یقین دھانی بھی کروائی گئی تھی مگر وہ یہ نھیں جانتے تھے کہ اس منصب کی یقین دھانی کے سیاست میں وفا ھونے کے امکانات کم ھوتے ھیں مگر پھر بھی بیٹا باپ پر غالب رھا اور اب یہی کہا جا سکتا ھے کہ بیٹا خود تو سپین کی آزاد فضاوں میں ہے مگر اس کا باپ گھمبیر صورتحال سے دو چار ھے۔‘‘ سلمان غنی کے مطابق اس صورتحال کے پیچھے محض کرپشن یا سیاسی انتقام کے الزامات ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہے جو اور کسی کو پتہ ہو نہ ہو، مگر چوھدری پرویز الہی کو سب پتہ ہے۔
سلمان غنی کہتے ہیں کہ کہ چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہی میں اب بھی احترام کا رشتہ موجود ہے لیکن ان کی سیاسی راہیں اب مکمل طور پر جدا ہو چکی ہیں۔ ان کے بچوں میں بھی گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ”جہاں تک چوھدری شجاعت کی مدد کا سوال ھے تو چوھدری شجاعت اس حوالے سے بڑے کرب سے دو چار ھیں مگر وہ عملاﹰ اس لیے مدد سے گریزاں ھیں کہ دونوں کے بیٹوں کے درمیان ناچاکی ھے اور حقیقت یہ ھے کہ کزنز کے اختلافات نے اس خاندان کی طاقت اور اہمیت کو بہت بری طرح متاثر کر رکھا ھے۔‘‘
