بلز منظوری، عمرانڈو علوی نے ٹوئٹ کی حماقت کیوں کی؟

صدر پاکستان عارف علوی کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ پر دستخط سے متعلق بیان پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’جلد بازی‘ میں ’غیر سنجیدہ حرکت‘ کر دی ہے جس کا انہیں اندازہ نہیں۔
خیال رہے کہ صدر عارف علوی کا اپنی ایک ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ ان کا خدا اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط نہیں کیے، کیونکہ وہ ان قوانین سے متفق نہیں تھے۔جب عملے سے کہا گیا کہ وہ بغیر دستخط شدہ بلوں کو مقررہ وقت کے اندر اسمبلی میں واپس بھیج دیں تاکہ ان بلوں کو غیر مؤثر بنایا جا سکے، تاہم ان کے عملے نے ان کی مرضی کے برعکس ان کی حکم عدولی کی۔
صدر کے اس بیان پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین میں بحث جاری ہے کہ صدر عارف علوی کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کرنے سے انکار کے بعد آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
ماہر قانون سلمان اکرم راجا کے مطابق اگر صدر مملکت نے بل پر دستخط نہیں کیے تو وہ قانون نہیں بنا ہے، صدر بل پر اعتراض کی بجائے پارلیمنٹ کو دوبارہ بل پر نظر ثانی کرنے کا کہ سکتے ہیں، اگر پارلیمنٹ دوسری مرتبہ منظوری کیلئے بل صدر کو بھیجے اور صدر پھر بھی دستخط نہ کریں تو بل 10 دنوں کے بعد خودہی قانون بن جاتا ہے، لیکن پہلے ہی مرحلے میں صدر کے دستخط نہ کرنے پر بل خود ہی قانون نہیں بن سکتا۔سلمان اکرم راجا کے مطابق صدر مملکت کو اس بل کو چیلنج بھی کرنا چاہیے تھا کہ واضح ہو کہ کس طرح صدر کے دستخط کے بغیر بل قانون بن گیا۔
دوسری جانب ماہر قانون عرفان قادر کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے جو ٹوئٹ کیا ہے اس کا میں نے بغور جائزہ لیا ہے، صدر کا ٹویٹ آرٹیکل 75 سے مطابقت نہیں رکھتا ، آرٹیکل 75 کے مطابق صدر کے پاس دو اختیار ہیں، یا تو بل منظور کریں یا پھر بل پر نظر ثانی کے لیے دوبارہ پارلیمنٹ کو بھیج دیں، صدر نے دونوں راستے نہیں اپنائے اور کہا کہ بل کو ineffective کر دو، لیکن صدر کے پاس تو ایسا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔ صدر نے آرٹیکل 75 پڑھے بغیر ہی ٹویٹ کر دیا ہے۔
ماہر قانون عرفان قادر نے کہا کہ صدر مملکت نے جو ٹوئٹ کیا وہ صاف ظاہر ہے کہ صدر نے خود نہیں لکھی ان کو لکھائی گئی ہے، صدر کے جو بھی قانونی ماہرین ہیں انہوں نے ہی لکھا ہے لیکن انہوں نے بھی آرٹیکل 75 کو سامنے رکھے بغیر ہی یہ ٹوئٹ کر دیا ہے۔صدر سپریم کورٹ بھی جائیں گے تو وہ بھی اس کا فورم نہیں ہے، سپریم کورٹ بھی یہی کہے گا کہ آرٹیکل 75 سے مطابقت نہیں رکھتا، اور جو آفیشل سہکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ میں ترامیم کی گئی ہیں ان کو مان لیا جائے گا اور قانون بن جائے گا۔سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے مزید کہا کہ ہے کہ ’صدر مملکت بطور سربراہ کسی بھی بل کو آئین سے ہٹ کر غیر موثر ہونے کی پلاننگ کر رہے تھے جو کہ غیر آئینی عمل ہے، جس نے بھی ان سے ٹویٹ کروائی ہے انہوں نے حماقت کروا دی ہے۔‘
ماہر قانون عابد زبیری کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کے ٹوئٹ کے مطابق آفیشل سیکرٹ ایکٹ قانون نہیں بنا ہے، اگر صدر نے دونوں بل پر دستخط نہیں کیے تو یہ بل ابھی قانون نہیں بنے ہیں۔آئین کے تحت اگر بل صدر سے واپس آ جائے اور پارلیمنٹ کی مدت ختم ہو گئی ہو تو آئندہ پارلیمنٹ کے آنے کا انتظار ہوتا ہے، آئین کے مطابق اگر صدر بل واپس بھیج دیں تو بل نظر ثانی کے لیے مشترکہ اجلاس میں بھیجا جاتا ہے۔ تاہم اب یہ دیکھنا ہو گا کہ اگر صدر نے بل پر دستخط نہیں کیے تو سمری کہاں گئی، اگر سمری گئی تو کیا اس پر صدر کے جعلی دستخط کیے گئے ہیں۔
صدر عارف علوی کے دعوے اور اپنے ہی عملے کو مورد الزام ٹھہرانے بارے سابق جج شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ’صدر پاکستان نے جلد بازی میں غیر سنجیدہ حرکت کر دی جس کا انہیں اندازہ نہیں ہے۔‘ سابق جج شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ’صدر کے پاس سب کوئی قانونی آپشنز نہیں ہیں، اور نہ ہی معاملہ سپریم کورٹ جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ بل اب قانون بن چکا ہے۔ سپریم کورٹ زبانی احکامات کی کیسے تحقیق کر سکتا ہے؟‘انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کو جب پارلیمان کے طرف سے بل دستخط کے لیے بھیجا جاتا ہے تو صدر بل دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو واپس بھجوا سکتے ہیں۔ غور کے بعد دوبارہ بل بھیجے جانے کے بعد اگر صدر پاکستان دستخط نہیں بھی کرتے تو دس دن بعد بل خود ہی قانون بن جاتا ہے۔
شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ’صدر مملکت نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عملے سے بل واپس بھجوانے کا کہا تھا لیکن بغیر وجوہات اور تخفظات کے بھی اگر وہ بل واپس بھیجتے ہیں اور دستخط نہیں کرتے پھر بھی یہ قانون بن چکا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’عملے کو کہے گئے زبانی احکامات کی اہمیت نہیں کیونکہ عدالت تحریری ثبوت مانگتی ہے اور سرکاری دفاتر میں احکامات تحریری ہوتے ہیں، اور اگر دستخط کے بغیر واپس نہیں بھی بھیجتے تب بھی دس دن کے بعد وہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔‘شاہ خاور نے مزید کہا کہ ’لہذا عملے پر الزام کی اہمیت نہیں ہے، بغیر تخفظات اور بغیر سائن کے بل واپسی کا بھی وہی مطلب ہے کہ دس دن بعد وہ ایکٹ بن جائے گا۔
