بلوچستان سے الیکشن میں کونسے ہیوی ویٹس مدمقابل ہیں؟

بلوچستان سے مختلف قد آور شخصیات الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں جن میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں جوکہ این اے 265 سے خوشحال کاکڑ کے مدمقابل ہیں، جوکہ پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تاہم پشتونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے دستبردار ہونے اور اس حلقے پر جمعیت علمائے اسلام کی حمایت کے اعلان کے بعد مولانا فضل الرحمان کی پوزیشن بہت مضبوط ہو گئی ہے۔ این اے 261 سوراب کم قلات کم مستونگ پر بھی تین سیاسی قد آور شخصیات میں دلچسپ مقابلہ متوقع ہے جن میں دو سابق وزرائے اعلیٰ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل، پیپلز پارٹی کے نواب ثنا اللہ زہری کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام سے سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری یہاں سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں تاہم مقامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار اصل مقابلہ غفور حیدری اور ثناء اللہ زہری میں ہوگا، عبدالغفور حیدری کی پوزیشن زیادہ مستحکم بتائی جاتی ہے انہیں مستونگ سے نواب اسلم رئیسانی، سوراب سے ظفر اللہ زہری اور قلات سردار زادہ سعید لانگو جیسے مضبوط امیدوارں کی حمایت حاصل ہے۔ نواب ثنا اللہ زہری سوراب سے اپنے بھائی نعمت اللہ زہری، مستونگ سے سردار نور احمد بنگلزئی اور قلات سے سردار زادہ محمد نعیم دہوار کی مدد سے اچھا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل این اے 261 کے علاوہ این اے 256 خضدار اور این اے 264 کوئٹہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔اسی طرح این اے 264 کوئٹہ کے حلقے میں مضبوط ووٹ بینک کی وجہ سے سردار اختر مینگل کی جیت کے واضح امکانات ہیں۔ این اے 254 جھل مگسی کم کچھی کم نصیرآباد پر بلوچستان عوامی پارٹی کےسربراہ خالد مگسی اور جے یو آئی کے نظام الدین لہڑی مد مقابل ہیں۔ بلوچستان میں پشتون قوم پرست سیاست کا اہم نام محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کی دو نشستوں این اے 263 کوئٹہ سٹی اور این اے 266 چمن کم قلعہ عبداللہ کی نشستوں پر انتخاب لڑ رہے ہیں، دونوں نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔بلوچستان میں ایک اور اہم مقابلہ مکران میں این اے 259 کیچ کم گوادر کی نشست پر ہو رہا ہے جہاں نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلٰی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، بی این پی کے حمایت یافتہ سابق ایم این اے میر یعقوب بزنجو، پیپلز پارٹی کے ملک شاہ گورگیج اور حق دو تحریک کے حسین واڈیلہ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔ اصل مقابلہ جام کمال خان اور اسلم بھوتانی کے درمیان ہو گا۔ جام کمال صوبائی اسمبلی کی نشست پی بی 22 پر امیدوار ہیں جہاں ان کی پوزیشن مستحکم بتائی جاتی ہے۔صوبائی نشستوں پر بڑا مقابلہ پی بی 32 چاغی پر متوقع ہے جہاں بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے مقابلے میں سابق صوبائی وزرا جے یو آئی کے امان اللہ نوتیزئی اور پیپلز پارٹی کے میر عارف محمد حسنی میدان میں ہیں۔ایک اور اہم مقابلہ سابق نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا پی بی 10 ڈیرہ بگٹی پر نواب اکبر بگٹی کے پوتے جمہوری وطن پارٹی کے امیدوار گہرام بگٹی کے درمیان متوقع ہے، سابق وزیراعلٰی عبدالقدوس بزنجو کا پی بی 23 آواران سے نیشنل پارٹی کے خیر جان بلوچ، سابق وزیراعلٰی نواب اسلم رئیسانی کا پی بی 37 مستونگ پر پیپلزپارٹی کے سردار نور احمد بنگلزئی، آزاد امیدوار نواب محمد خان شاہوانی اور نیشنل پارٹی کے سردار کمال بنگلزئی سے کانٹےدار مقابلہ ہے۔خضدار میں پی بی 18 پر پیپلز پارٹی کے ثنا اللہ زہری اور جے یو آئی کے وڈیرہ غلام سرور موسیانی میں مقابلہ ہوگا، پی بی 20 پر سابق وزیراعلٰی بی این پی سربراہ سرداراختر مینگل کی پوزیشن آزاد امیدوار شفیق مینگل کے مقابلے میں جبکہ پی بی 22 لسبیلہ کی نشست پر سابق وزیراعلٰی ن لیگ کے جام کمال خان کی پوزیشن پیپلز پارٹی کے حسن جاموٹ کے مقابلے میں مضبوط بتائی جاتی ہے۔
