مذہبی جماعتیں پارلیمنٹ میں کتنا حصہ ڈالنے والی ہیں؟

الیکشن 2024 میں مذہبی جماعتوں کے ووٹ بینک کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ،جماعت اسلامی، تحریک لبیک، سنی علما کونسل اور متحدہ مجلس وحدت المسلمین سمیت کل 23 مذہبی سیاسی جماعتیں کمیشن کے پاس رجسٹرڈ اور پاکستان کی انتخابی سیاست میں سرگرم ہیں جبکہ 2 سے 3 ہزار تک ایسے امیدوار بھی انتخابات میں شریک ہیں جو مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔مذہبی جماعتوں پر نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق 2018 کے الیکشن کے مقابلے میں 2024 کے انتخابات میں مذہبی جماعتوں کا عمل دخل زیادہ ہوگا۔ پہلی بار تینوں بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں جے یو آئی، جے آئی اور ٹی ایل پی بغیر کسی انتخابی اتحاد کے میدان میں ہیں، حالیہ انتخابات میں جے یو آئی کے علاوہ دیوبندی مکتبہ فکر کی دو سری بڑی جماعت راہ حق پارٹی کراچی میں ایم کیو ایم کو جبکہ پنجاب کے مختلف حلقوں میں ن لیگ کو سپورٹ کر رہی ہے۔اسی طرح جمعیت اہل حدیث ن لیگ کی اتحادی ہے۔ مجلس وحدت المسلمین نے تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ تحریک نفاذ جعفریہ اور شیعہ علماء کونسل مختلف حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کر رہی ہیں۔سنی اتحاد کونسل نے کراچی میں ن لیگ جبکہ پنجاب میں کسی انتخابی اتحاد کا اعلان نہیں کیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اعلی سطح پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ تمام مذہبی سیاسی جماعتوں کی قومی اسمبلی میں نمائندگی ہونی چاہیے تا کہ ان کے آپس کے اختلافات پر بحث و مباحثے کے لیے قومی سطح کا پلیٹ فارم مہیا ہو۔ اس لیے اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ الیکشن 2024میں پارلیمنٹ میں مذہبی جماعتوں کی نمائندگی پہلے سے زیادہ ہوگی۔سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے سیکیورٹی گارڈ ممتاز قادری کو ن لیگ کے دور حکومت میں ملنے والی پھانسی پر شدید احتجاج سے ٹی ایل پی کو قومی سطح پر پہچان ملی اور پھر جماعت کے پہلے امیر حافظ خادم رضوی کی شخصیت نے جلد ہی سنی بریلوی ووٹ بینک کو اپنی جانب راغب کر لیا۔2018 کے انتخابات میں ٹی ایل پی نے اگر چہ پورے پاکستان میں صرف سندھ کی صوبائی اسمبلی میں 2 سیٹیں حاصل کیں مگر پنجاب بلخصوص وسطی پنجاب میں اس کے امیدواروں نے ن لیگ کو بہت نقصان پہنچایا۔سینئر صحافی فاروق اقدس نے وی نیوز کو بتایا کہ پاکستان میں سنی بریلوی ووٹ بینک کی اکثریت تحریک لبیک پاکستان کو سپورٹ کرتی ہے، ٹی ایل پی کے ووٹ بینک کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2002 کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی تمام جماعتوں نے مل کر اتنا ووٹ نہیں لیا جتنا ٹی ایل پی نے اکیلے 2018 میں حاصل کیا۔ سبوخ سید کے مطابق جماعت اسلامی کے اندر انتخابی اتحاد کے حوالے سے ہمیشہ 2 مضبوط رائے پائی جاتی ہیں، جماعت کے سابق امیر منور حسن بغیر کسی انتخابی اتحاد کے الیکشن لڑنے کے حامی تھے اور ن کی ہی وجہ سے پارٹی نے 2013کے انتخابات میں کسی جماعت سے اتحاد نہیں کیا تھا۔جمعیت علمائے اسلا م سربراہ مولانا فضل الرحمان 2018کے انتخابات میں قومی اسمبلی پہنچنے میں ناکام رہے تھے، ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامی صحافی عتیق الرحمان نے وی نیوز کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمان ابھی تک اپنے حلقے میں متحرک نہیں ہوئے، بلاول بھٹو بھی اس حلقے میں جلسہ کر چکے ہیں، اس حلقے سے ن لیگ نے کسی امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا مگر حال ہی میں پارٹی میں شامل ہونے والے روایتی سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے سینیٹر وقار خان بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں جس کا مولانا فضل الرحمان کو نقصان ہوسکتا ہے۔سبوخ سید کے مطابق 2002 کے بعد 2024 کے انتخابات میں مذہبی جماعتیں زیادہ نمائندگی حاصل کر سکتی ہیں کیوںکہ پنجاب میں تحریک انصاف کی انتخابی سیاست میں براہ راست حاضری نہ ہونے کا فائدہ ٹی ایل پی کو ہوگا۔

Back to top button